انڈیا میں موروثی سیاست کا خاتمہ
29 May 2019 2019-05-29

نریندر مودی نے دوسری بار وزیر اعظم بن کر اپنی پارٹی کے لیے ریکارڈ قائم کر دیا ہے وہ تیسرے انڈین وزیر اعظم ہیں جو لگاتار دوبار جیتے ہیں اس سے پہلے اندرا گاندھی اور من موہن سنگھ یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پری پول سروے مودی کی جیت کی خبر دے رہے تھے مگر تجزیہ نگار بے یقینی کے عالم میں تھے اور کہتے تھے کہ بی جے پی نے سروے تنظیموں کو خرید رکھا ہے۔ البتہ ایک بات یہ ہے کہ انڈیا کا سرمایہ دار طبقہ جو کسی وقت کانگریس کے ساتھ ہوتا تھا اس وقت بی جے پی کے ساتھ ہے جس نے مودی پر خاصی انویسٹمنٹ کر رکھی ہے۔اس الیکشن کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ 1947 ء سے لے کر اب تک پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ گاندھی فیملی سیاست سے تقریباً آئوٹ ہے اور پہلی دفعہ گاندھی خاندان کے آبائی حلقہ امیٹھی سے راہول گاندھی اپنی نشست ہار گئے ہیں۔ راہول اور پریانکا دونوں بہن بھائی اپنی شخصیت کا وہ کرشمہ پیدا نہ کر سکے جو مودی کے حصے میں آیا ہے جو جلسے میں اپنے آپ کو گالیاں دیتا ہے تو بھی لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ مودی نے 2014 ء کے الیکشن میں اپنے لیے چائے والا کا خطاب چنا تھا جو کامیاب ہوا وہ نچلی ذات کے ہندو ہیں جو بچپن میں سکول سے آ کر ایک ریلوے سٹیشن پر چائے کا کھوکھا چلاتے تھے۔ 2019 ء کے اس الیکشن میں انہوں نے چائے والا کو ترک کر کے اپنے آپ کو خود ساختہ چوکیدار کا خطاب دیا اس سے ایک تاثر یہ پیدا ہوا کہ مودی کو اپنی جیت پر یقین نہیں ہے جس وجہ سے وہ پینترا بدل رہے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا کہ انہیں نئی شناخت کی تلاش ہے۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

دوسری طرف راہول گاندھی نے پورے زور و شور سے یہ نعرہ لگا دیا کہ چوکیدار چور ہے جس پر مودی نے کہا کہ ہماری فوج ہماری چوکیدار ہے اور چوکیدار کو چور کہنا فوج پر تنقید کے مترادف ہے اس کا راہول نے یہ جواب دیا کہ ہم مودی کو چوکیدار کہتے ہیں اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا چوکیدار چور ہے تو اس کا مطلب نریندر مودی ہے۔ مودی نے فرانس سے 36 رافیل طیاروں کی خریداری کا جو معاہدہ کیا تھا اس میں مشہور انڈین ٹائیکون مکیش امبانی کی کمپنی کو مودی نے خصوصی حکم کے ذریعے رافیل جیٹ کمپنی کا لوکل پارٹنر بنا دیا تھا اس سارے معاملے میں کمیشن کک بیک اور کرپشن کی بو آتی تھی اس سکینڈل سے مودی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر نتائج نے ثابت کر دیا کہ ایشیاء میں سیاستدانوں کی کرپشن کوئی بہت بڑی تشویش کی بات نہیں ہوتی’’ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے‘‘ جیسی دفاعی لائن انڈیا میں بھی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے بد عنوانی کے تمام تر الزامات کے با وجود مودی اور ان کی پارٹی جیت گئے۔ اس کی نفسیاتی وجہ یہ تھی کہ انڈین ووٹرز نے سوچا کہ موروثی بدعنوانی اس کے مقابلے میں زیادہ افسوسناک ہے۔ اس لیے انہوں نے بد عنوانی کی بجائے موروثیت کو Benchmark قرار دیا۔ جب ہندوستانی عوام مودی کو موروثی سیاست کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو انہیں کوئی ایسا خطرہ نظر نہیں آتا کیونکہ مودی نے اپنے آپ کو ہندو دھرم کے لیے وقف کر رکھا ہے اور ان کا کوئی بچہ نہیں ہے جو ان کا جانشین بن سکے۔ اس وجہ سے انہیں زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔ الیکشن مہم کے عین جو بن پر کشمیر میں پلوامہ خود کش دھماکہ نے الیکشن کا نقشہ بدل دیا یہ مودی حکومت نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے خود ڈرامہ کیا تھا جس کا الزام پاکستان پر لگا کر انڈیا نے پاکستان کی فضائی حدود عبور کی اور ایک سرجیکل سٹرائیک والا ڈرامہ دوبارہ چلا دیا مگر اگلے دن پاکستان نے کمال حکمت عملی سے انڈیا کا طیارہ مار گرایا اور پائلٹ ابھی نندن کو پکڑ لیا۔ مودی نے تاثر یہ دیا کہ ہم نے پاکستان کو حملے کا الٹی میٹم دیا تھا جس کے بعد پاکستان نے پائلٹ واپس کر دیا انڈین عوام نے یہ سمجھا کہ مودی پہلا لیڈر ہے جس نے پاکستان کے اندر ایئر سٹرائیکس کا حکم دیا تھا ۔ اس بات کو مودی نے انتہا پسند ہندوئوں میں خوب کیش کرایا اور الیکشن جیت گئے۔

ایشیاء میں سیاست میں بد عنوانی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اسی طرح معاشی پرفارمنس کو بھی وہ اہمیت نہیں دیجاتی جس کی وہ مستحق ہے۔ مودی کی گزشتہ 5 سالہ دور میں انڈین معیشت من موہن سنگھ حکومت کے دور کے مقابلے میں فی کس قومی آمدنی نیچے آئی لیکن اس کے با وجود عوام نے مودی کو منتخب کیا۔ عوامی اُمنگیں بہت پیچیدہ کیفیت ہے جسے سمجھنا تقریباً نا ممکن ہے۔ پھر بھی جو سمجھ آتی ہے وہ یہی ہے کہ ہندو بنیاد پرستی اور پاکستان دشمنی دو ایسے Main Factors تھے ۔ جنہوں نے مودی کو دوسری بار وزیر اعظم بنوایا اور ان کی باری پر اگر ہندوستانی عوام کسی غیر معمولی حالات کا شکار نہ ہوئے تو ہو سکتا ہے مودی تیسری بار وزیر اعظم بن کر ہندوستان کی تاریخ میں ہلچل مچا دیں۔ مودی کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انڈیا کی آبادی میں 67 فیصد شہری 15-64 سال کی عمر کے دائرے میں آتے ہیں جو کہ کام کرنے کی عمر ہے مگر ان کے لیے ملازمت کے مواقع محدود ہیں ۔ انڈیا میں ورک فورس 91 کروڑ افراد پر مشتمل ہے جن کو روزگار دینا بہت بڑا چیلنج ہے۔ مودی نے 2014 ء میں ’’ اچھے دن ‘‘ کے نعرے پر الیکشن جیتا اور ہر سال 2 کروڑ افراد کو ملازمت دینے کا وعدہ کیا جو پورا نہ ہو سکا۔ اسی طرح ملکی معیشت میں بہتری لانا ان کا دوسرا چیلنج ہے زرعی ملک ہونے کے ناطے انڈیا کی زرعی آمدنی کم ہو رہی ہے اور کسان خود کشیاں کر رہے ہیں۔ مودی کو خاص طور پر انڈیا کے مسلم اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دینی پڑے گی اس کا نعرہ ’’ سب کا وشواس‘‘ ایک ڈرامہ ہے اب بھی مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مودی کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا چیلنج تمام ملکی معاملات پر بھاری ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے مودی کو فون کر کے بال ان کے کورٹ میں پھینک دیا ہے جیت پر مبارکباد دینا ایک سفارتی شائستگی ہے جس کا عمران خان نے مظاہرہ کیا ہے مودی نے اپنی حلف برداری میں کئی ممالک کے سربراہوں کو مدعو کیا ہے مگر ان میں عمران خان کا نام نہیں ہے ۔ پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ گزشتہ 5 سال سے ڈیڈ لاک کا شکار ہے خطے میں دیر پا امن کے لیے مودی کو پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہوں گے مگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے پیش نظر امریکہ نے انڈیا کو پاکستان کے ساتھ معاملات کرنے سے روکا ہوا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے ہ جنگ کے حالات پیدا کرنے کا سوچ رہا ہے۔ اس لیے ابھی کچھ عرصہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں ڈیڈ لاک بر قرار رہے گا۔

پاکستان کے اندر عمران خان پر تنقید کی جار ہی ہے کہ انہوں نے مودی کو مبارکباد کا فون کیوں کیا ہے۔ یہ ایسی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ان کو موازنہ کرنا چاہیے جب میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے تو 25 دسمبر 2015 ء کو نریندر مودی بغیر اطلاع افغانستان کے راستے اچانک رائے ونڈ پہنچ گئے تھے اور وہاں نواز شریف کی سالگرہ کا کیک کاٹا تھا۔ اسی طرح 2014 ء میں اپنی حلف برداری کی تقریب میں مودی جی نے نواز شریف کو بطور مہمان شرکت کی دعوت دی جو قبل کر لی گئی ۔ انڈو پاک تعلقات تو اس وقت بھی Freeze تھے۔ اب ایسا کیا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے وزیر اعظم کو بلانا ضروری نہیں سمجھا۔ یہ در اصل امریکی پریشر ہے۔ مودی کو آنجہائی واجپائی کا وہ بیان یاد رکھنا چاہیے کہ ہم دوست بدل سکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے۔


ای پیپر