استفسارات
29 May 2019 2019-05-29

پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب سے سوال و جواب کی نشستوں پر مشتمل مجموعے بعنوان ’’ استفسارات ‘‘ کی پہلی جلد زیرِ مطالعہ رہی۔ پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کی شہرت ایک صوفی کی ہے ۔ لیکن پروفیسر صاحب تصوف میں گریز ِ دنیا کی بجائے آج کے تیز ترین دور میں ذرا ٹہر جانے کو تصوف کا نام دیتے ہیں۔ وہ تصوف کو ایک ادارے کی بجائے نیتوںکا اخلاص سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک صوفی وہ بندہ خدا ہے جوخدا کے لیے اخلاص رکھتا ہے اورپوری ہمت سے آگے بڑھنا چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ وہ مجبور بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوفی کی تعلیم بھی یہی ہے کہ جو چیزتنگ نظری کی وجہ سے سمجھ نہیں آتی، وہ اپنے سے بہتر کردار سے جاکر پوچھ لیتا ہے۔ عام طور پر صوفی نفس کی پاکیزگی اور اصلاح کا عمل انجام دیتے ہیں اور دیگر دنیاوی مسائل سے سروکار نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن پروفیسر صاحب نے سوالات و جوابات کی نشستوں میں تاریخ ، فقہ ، تسبیحات، علم اسماء، برمودہ ٹرائی اینگل، امام مہدی کے ظہور، طلاق کے مسائل اور عصرِ حاضر کے دیگر بہت سے مذہبی، سیاسی اور سماجی مسائل پرمفصل اور بصیرت افروز گفتگو فرمائی ہے۔ پروفیسر صاحب نے فلسفہ، تاریخ، ادب، تصوف اور اسلام کا گہر ا مطالعہ کیا ہے۔ لیکن ان کی خصوصی مہارت حروفِ مقطعات کی بنیاد پر علم الاسماء کی ایک نئی شاخ متعارف کرانا اور اسماء کو ان کی صفات بخشتے ہوئے اس علم کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ محی الدین عربیؒکو اس کی سن گن تھی لیکن انہوں نے کبھی اس علم کاعملی شکل میں جامع مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ پروفیسر صاحب اس علم میں اس قدر دسترس رکھتے ہیں کہ جونہی کو ئی بھی نام ان کے کانوں تک پہنچتا ہے اس نام سے جڑی پوری شخصیت ان کے ذہن میں اتر جاتی ہے۔ بقول پروفیسر صاحب ہی کے ان حروف میں لوگوں کی ذہنی اور روحانی حالات درج ہیں۔ آپ آنے والے سائل کو کاغذ کی ایک چٹ پر چند اسماء الہی اور دعائیں لکھ دیتے ہیں ۔جنھیں پڑھ کر جہاں وہ بہت سی تبدیلیاں محسوس کرتا ہے وہاں یقینی طور پر ذہنی سکون اور قلبی طمانیت کی دولت بھی حاصل کرلیتا ہے۔ ( صفحہ ۱۳، مجموعہ پروفیسر احمد رفیق اختر ۲)۔

پروفیسر صاحب اس زندگی اور وقت کو بے معنی اور فضول قرار دیتے ہیں جو خدا کی یاد کے بغیر گذرے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کی جلالی و جمالی تقسیم اور ذکر الہٰی کے لیے اجازت کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پروردگار عالم کا کوئی نام بھی ضرر رساں نہیں۔ بلکہ یہ اسماء مبارکہ انسان کو اللہ کی پہچان کراتے ہیں۔ پروفیسر صاحب تسبیح کو زکوٰۃسے تشبیہ دیتے ہیں کہ جس طرح زکوٰۃمال کو پاک کرتی ہے اسی طرح تسبیح دل کی آلائیشوں کو صاف کرتی ہے۔ تسبیح اور وظیفے کے بنیادی فرق کو واضح کرتے ہوئے پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ وظیفہ یا عمل کی ترغیب دینے والے وظائف اور اعمال کے بعد نتائج کی پیشنگوئی کرتے ہیں جو تقدیر کو پابند کردینے والی بات ہے ۔ تعویذ، وظیفے وغیر ہ سب شیطانی کام ہیں۔ قرآن پاک انہیں ساحروں کے اعمال قرار دیتا ہے۔ جب کہ تسبیح کا صرف ایک مقصد ہے کہ ہم اپنے کم تر حالات میں اللہ کو اسی طرح یاد کریں جس طرح ہم روزانہ کھانا کھاتے اور لباس تبدیل کرتے ہیں۔ تسبیحات کا پڑھنا بلا ناغہ ہونا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ’’وفا‘‘ پسند ہے۔ تسبیح کے ناغے کا مطلب ہے کہ کوئی اور چیز ایسی ہے جس نے ہمیں اللہ کے ذکر سے دور کردیا ہے ۔ تسبیح پڑھنی ضرور چاہیے کم، زیادہ، صبح کو دوپہر کو یا رات کو ، سارا دن ، ساری رات، جب چاہے لیکن پڑھنی ضرور چاہیئے۔

پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کائناتی علوم پر کافی دسترس رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ہونے والے سائنسی تحقیقی کام پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ Cosmology ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ Big Bang کے بارے میں اکثر بیان کرتے رہتے ہیں۔ وہ سائنسی تحقیقات سے قرآن کے حقائق کو ثابت کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں قرآن کتابِ تخلیق ہے اور سائنس کتابِ تحقیق۔ضبط و تحمل اگر کسی نے فی زمانہ سیکھنا ہویا دیکھنا ہو تو کسی اتوار کو گجر خان کا قصد کرے۔ تین چار سو لوگ اپنے گوناگوں مسائل لے کر اس راہِ سلوک کے مسافر سے ملتے ہیں اور اس کے ماتھے پر ایک شکن نہیں پڑتی۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں غصہ بہت آتا تھا مگر تسبیح کے اثرات سے زائل ہوگیا ہے اور حدیث ِ رسولؐ کا مفہوم بیان فرمایا کہ اللہ نرمی کرنے والا ہے۔ نرمی کو پسند کرتا ہے، نرمی پر دیتا ہے سختی پر نہیں دیتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث رسولؐ نے ہمیشہ میری رہنمائی کی کہ لوگوں سے محبت کرنا نصف عقل ہے۔ پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ضرور ہے مگر تنگ نہیں کرتا۔ نوجوانوں کے لیے بالخصوص اور عام مسلمانوں کے لیے بالعموم ان کا پیغام ہے کہ جو مرضی کرو، تفریحات میں گذار لو، ٹی وی دیکھ لو، کرکٹ کھیل لومگر تمھارے سامنے تمھاری ترجیحات ہونی چاہیں اور پھر دیگر ترجیحات کے ساتھ پوری زندگی کی بھی ایک ترجیح ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے‘‘۔ ( پیش لفظ، استفسارات جلد اول)۔ پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب سید علی ہجویر علی بن عثمان المعروف داتا گنج بخشؒکو اپنا استاد تصور کرتے ہیں۔ کشف المحجوب کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب میں نے پڑھی نہیں بلکہ مجھ پر بیت گئی ہے۔ لیکن عہد حاضر کے کسی عالم کو وہ خاطر میں نہیں لاتے ، وہ سرسید احمدخان ہوں، مودوی صاحب ہوں، غلام احمد پرویز صاحب ہوں، جاوید احمد غامدی صاحب ہوں یاخالد ظہیر صاحب ان کے نزدیک یہ تمام اصحاب علم کی تمام شاخوں کا ادراک نہیں رکھتے ہیں۔ اسی طرح تزکیہ نفس کے ساتھ ساتھ وہ اکثر وبیشتر سیاسی حوالوں سے بھی پیشن گوئیاں اور تجزیے کرتے ہیں جو اکثر درست ثابت نہیںہوئیں جن کا ذکر بیشتر کالم نویس حضرات اپنے کالموں میں کرچکے ہیں۔

کتاب سنگ میل پبلیکیشنز لاہور کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔ لیکن سوالات و جوابات کی نشستوں کو تحریری شکل میں لاتے ہوئے تقریر و تحریر کی زبان کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ بنیادی طور پر جب تقریر یا مکالمے کو ضبط تحریر میں لایا جاتا ہے تو اس کے اپنے تقاضے اور انداز ہوتا ہے ۔ مگر پروفیسر صاحب کے خطبات کو تحریر میں لاتے وقت مرتبین نے اس بنیادی نکتے کا خیال نہیں رکھا ہے ۔ جس طرح پروفیسر صاحب نے بیان فرمایا ہے وہ اسی طرح لکھ دیا گیا ہے جس سے قاری کے لیے مطالعے میں روانی کو برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ ان خطبات میں جہاں کہیں قرآنی آیات، احادیث یا انگریزی زبان میں کچھ بیان کیا گیاہے وہ زیادہ تر مقامات پر اردو ترجمے کیے بغیر ہی لکھ دیا گیا ہے ۔ قرآ نی آیات، احادیث، عربی اور انگریزی عبارات کے ترجمے کے ساتھ ساتھ حواشی اور اشاریہ بھی مرتب ہونا چاہیے تھا تاکہ قاری کو مطالعے میں مزید آسانی میسر آئے اور اس کے علم میں اور وسعت پیدا ہو۔ بہر حال کتاب میں موضاعات کی فراوانی ہے جس سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے۔


ای پیپر