چوہدری محمد اکرم ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ہسپتال
29 May 2019 2019-05-29

اگرمیں آپ سے پوچھوں کہ اوپر والا ہاتھ بہتر ہے یا نیچے والا،ا وپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والاہاتھ لینے والا، یقینی طور پر آپ کا جواب صحیح مسلم کی جلد اول میں زکوٰة کے بیان کے باب میں حدیث نمبر 2379 کی تشریح کے عین مطابق ہو گا، یہ حدیث متفق علیہ ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا، ’اور خرچ کرنے کی ابتدا ان لوگوں سے کر جن کی کفالت تیرے ذمہ ہے اور بہترین صدقہ وہ ہے جو تونگری کے بعد ہو‘۔ میرے والدین ، میری اولاد دنیا کے سب سے دانا شخص صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان جنہوںنے اُمی ہونے کے باوجودعلم اقتصادیات کی وہ بہتر ین تعلیم عطا کی کہ اگر آج بھی اس پر عمل کیا جائے تو امیرلوگ ہاتھوں میں روپوں کی تھیلیاں پکڑ کے گلیوں میں گھومتے رہیں مگر کوئی زکوٰة اور صدقات لینے والا نہ ملے مگر کیا کریں کہ اس وقت اسلامی معاشی نظام موجود نہیں، ہم سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں، اس کی محدودخوبیاں بھی ہم تک اس لئے نہیں پہنچ پاتیں کہ حکمرانوں میں اس کو ریگولیٹ کرنے کی اہلیت ہی نہیں، ایسے میں ہر دوسرا شخص پریشان ہے اوراس کی پریشانی بہت بڑھ جاتی ہے جسے اس دور میں خدانخواستہ کسی سنگین بیماری کا سامنا کرنا پڑ جائے جس میں ادویات کی قیمتیں اور علاج کے اخراجات دونوں ہی آسمان کو چھو رہے ہیں۔

میں یہ سب باتیں رائے ونڈ روڈ پرچوہدری محمد اکرم ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ہسپتال کے خوبصورت استقبالئے پر بیٹھے ہوئے سوچ رہا تھا۔ یہ ہسپتال عذرا ناہید میڈیکل کالج کے ساتھ اٹیچ ہے اور پی ایم ڈی سی کی شرائط کے مطابق یہاں موجود چارسو میں سے نصف بیڈز غریبوں کے لئے بالکل مفت ہیں اور جن بیڈز پر اخراجات بھی وصول کئے جاتے ہیں وہ دوسرے ہسپتالوں کے مقابلے میں پچاس سے اسی فیصد تک کم ہیں۔ چودھری محمد اکرم ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ہسپتال ، سپیرئیر گروپ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن اور منیجنگ ڈائریکٹر چوہدری عبدالخالق کے والدچوہدری محمد اکرم مرحوم کے نام سے منسوب ہے اور ان کی والدہ محترمہ عذرا ناہیدکے نام پر قائم میڈیکل کالج سے منسلک ہے۔ میڈیکل کالجوں کے ساتھ قائم ٹیچنگ ہسپتالوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ وہاں عام پرائیویٹ ہسپتالوں کے مقابلے میں مریضوں کے لئے زبر تربیت ڈاکٹروں کے ساتھ پروفیسرز بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ میں نے بہت سارے مریضوں سے پوچھا جو لاہور کے علاوہ کوٹ رادھا کشن، رائے ونڈ ،بھائی پھیرو اور دیگر علاقوں سے آئے تھے، انہوںنے تصدیق کی کہ ماہرین سے مشورہ ہی مفت نہیں بلکہ پرچی فیس بھی کوئی نہیں ہے۔ چوہدری عبدالخالق نے میرے استفسار پر کہا کہ ہسپتال کا بجٹ سو ملین تک پہنچ چکا ہے جسے وہ سپیرئیر گروپ کے اپنے ذرائع اور بیرون ملک دوستوں کی مدد سے پورا کرتے ہیں اور اب ان کا ارادہ ہے کہ ہسپتال میں مزید ایک سو بستروں کا اضافہ کر دیا جائے۔ چوہدری عبدالخالق بتا رہے تھے کہ ان کے والد غریب اورمستحق لوگوں کے علاج میں خصوصی دلچسپی لیا کرتے تھے، جب ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے اپنے بڑے بھائی چوہدری عبدالرحمن کو تجویز دی کہ والد کے نام پر ایک ڈسپنسری بنائی جائے جہاں غریبوں کا علاج مفت ہو، چوہدری عبدالرحمان کا اپنے مزاج کے مطابق جواب تھا کہ صرف ایک ڈسپنسری کیوں؟، ہم ایک سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنائیں گے جس کا معیار شوکت خانم کینسر ریسرچ ہسپتال کے برابر ہو گا اور انہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اپنا کہا پورا بھی کر دکھا یا۔عذرا ناہید میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم، چوہدری محمد اکرم ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بریگیڈئیر ریٹائرڈ خالد سعید صدیقی، پروفیسر آف ریڈیالوجی ڈاکٹر محمد فیاض، پروفیسر احسن، پروفیسر ابرار اور دیگر بتا رہے تھے کہ ان کے پاس مشینری اور سہولیات میو، جناح اور سروسز ہسپتال سے بھی بہتر ہیں۔

میں نے ایمرجنسی کو دیکھا، آئی سی یو میں جدید ترین ایکویپمنٹس بارے جانا، عام بچوں کے ساتھ ساتھ نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے خصوصی وارڈ کو دیکھا، ریڈیالوجی ڈپیارٹمنٹ میں ایکسرے سے سی ٹی سکین کے بازار کے مقابلے میں پچاس سے اسی فیصد تک کم چارجز کو خود چیک کیا اور یہ دیکھا کہ پلاسٹک سرجری بھی شہر کے دوسرے تمام ہسپتالوں کے مقابلے میں نصف سے ایک چوتھائی فیس کے ساتھ ہوجاتی ہے، دور دراز سے ہسپتال کی شہرت سن کر آئے ہوئے مریضوں سے بات کی اور عذرا ناہید میڈیکل کالج کے طالب علموں سے مکالمہ کیا، وہ سب کے سب مطمئن نظر آئے ۔ مسئلہ صرف ایک ہے کہ ضلعی حکومت رائے ونڈ روڈ سے ہسپتال تک آنے والی سڑک کو تعمیر کرے اور وہاں سیوریج کے مسائل حل کرے تاکہ عوام کی فلاح کے لئے کی جانے والی ایک بڑی سرمایہ کاری بہترین نتائج دے سکے۔ میری اس تحریر کا مقصد ہی یہ آگاہی دینا ہے کہ جب سرکاری ہسپتالوں کو نجکاری کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور پرائیویٹ ہسپتالوں کی آسمان سے چھوتی ہوئی فیسوں کو روکنے والا کوئی نہیں تو ایسے میں چوہدری محمد اکرم ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ہسپتال ایک نعمت کی طرح ہے جہاں غریبوں کا ہر بیماری کا علاج الٹرا ماڈرن مشینری، آپریشن تھیٹروں، چوبیس گھنٹے فعال لیبر روم، آئی سی یو، سی سی یو، این آئی سی یو میں ہر قسم کا علاج بالکل مفت یا افورڈ کرنے کی صورت میں بہت کم چارجز پر بھی ہو سکتاہے۔

میں نے سوچا ، میرا مذہب ہرگز یہ نہیں پوچھتا کہ تم نے کتنی دولت کمائی، ہاں، یہ ضرور پوچھتا ہے کہ کیسے کمائی اور کہاں خرچ کی اورمیرے شہر میں ہزاروں ہیں جنہیں میرے رب نے بے شمار دولت سے نوازا ہے مگر ان میں سے وہ کم ہیں جنہیں اس عطا کی ہوئی دولت کو غریبوں پر خرچ کرنے کا شرف بھی دیا ہے۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے والد کے نام پر شریف میڈیکل ٹرسٹ چلاتے ہیں اور اپنی جیب سے چلاتے ہیں، اسی شہر میں جماعت اسلامی کا منصورہ ہسپتال ہے اور یہی جماعت اپنے کارکنوں کی مدد سے چوبرجی چوک میں ثریاعظیم وقف ہسپتال بھی چلاتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دوستوں کا جلوپارک سے کچھ آگے گھرکی ہسپتال ہے اور ہڈیوں کے امراض کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ سمجھاجاتاہے،یہاں جناب عمران خان کا شوکت خانم ہسپتال غریبوں میں کینسر کا علاج مفت کرتا ہے تاہم یہ ادارہ عوام کے دئیے ہوئے صدقات اور عطیات سے چلتا ہے، اسی طرح حجاز ہسپتال اور بہت سارے دوسرے ہیں۔ میرے خیال میں دولت خرچ کرنے کا یہ سب سے بہتر انداز ہے اور میری نظر میں یہ خوبی اور بھی عظیم تر ہوجاتی ہے جب آپ کے پیش نظر ذاتی ،سیاسی اور گروہی مقاصد نہ ہوںمحض ثواب کی نیت ہو، اللہ کی خوشنودی کا حصول ہو۔

مجھے یقین ہے کہ قیامت اس وقت تک نہیںآئے گی جب تک میرا رب اس زمین پر غریبوں اور ناداروں کے لئے دنیا کو جہنم بننے سے بچانے والے اپنے نیک دل بندے اتارتا رہے گا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے دولت مندوں میں آج تک اس شخص کو غریب ہوتے ہوئے نہیں دیکھا جس نے اللہ سے تجارت کی، اس کی راہ میں خرچ کیا، میرا رب ایک کے دس ہی نہیں بلکہ ستر اور اس سے بھی کہیں زیادہ کر کے لوٹاتا ہے۔ چوہدری محمد اکرم ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ہسپتال چودھری عبدالرحمن اور چودھری عبدالخالق کی طرف سے اپنے والد سے محبت اور صدقہ جاریہ کی عظیم مثال ہے۔ دلی دُعا ہے میرا رب ہر اس شخص کو جسے وہ دنیاوی دولت سے نوازتا ہے، ایسی اولاد سے بھی نوازے جو اپنے سروں پر رحمت کے بادل کی طرح موجو د اور ہمیشہ کے لئے بچھڑ جانے والے بڑوں کے نام پرنیکی، خیر اور بھلائی کے دروازے کھولے کہ یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔


ای پیپر