Photo Credit INP

وزیر اعظم نے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کا اعلان کر دیا
29 مئی 2018 (20:32) 2018-05-29

اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پا لیا ،2025تک ملک میں توانائی کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، حکومت نے نیشنل گرڈ میں 11461میگاواٹ بجلی مزیدشامل کی ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک میں بجلی کا بحران ختم کرکے جا رہی ہے، ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ، کوئی مائی کا لال پانچ سال میں اتنی بجلی پیدا کر کے دکھائے جتنی ہم نے پیدا کی ہے۔

2020تک مزید 10687میگاواٹ اور 2025تک مزید 17119میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ شامل کرنے کیلئے منصوبوں پر کام جاری ہے ہم نے راستے کا تعین کر دیا باقی آنے والی حکومتیں اس پر کام جاری رکھیں ، ملک میں 90فیصد فیڈرز پر زیرو اور90فیصد سے زئاد لائسز والے 10فیصد فیڈرز پر 2 سے 4گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم پر کام شروع ہو چکا، ان دونوں ڈیموں پر آمریت کے دور میں کام شروع ہونا چاہیے تھا جو کہ نہیں ہو سکا،پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اس پر کوئی کام نہیں کیا،ایف اے ٹی ایف اگلے اجلاس میں اپنا بیانیہ پیش کریں گے، امید ہے ہمارے بیانیے کو ایف اے ٹی ایف میں تسلیم کیا جائے گا، مجھے کوئی شرمندگی اور پچھتاوا نہیں ہے بطور وزیراعظم میں جو کچھ کر سکتا تھا میں نے کیا ہے، ایل این جی معاملے پر الزام لگانے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ 31مئی کے بعد کسی بھی چینل پر مناظرہ کر لیں۔

منگل کو وزیراعظم ہاﺅس میں وفاقی وزیر توانائی ڈویژن اویس خان لغاری اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 2013میں ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 18753میگاواٹ تھی، جو 2018میں بڑھ کر 28704میگاواٹ ہو گئی ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نیشنل گرڈ میں 11461میگاواٹ بجلی شامل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈیمانڈ کے مطابق بجلی بنائی جاتی ہے،2013میں جولائی کے مہینے میں 16170میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ جولائی 2018میں 18897میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی،پانچ سال کے عرصے میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا، بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ روز افطار کے اوقات میں ملک میں بجلی کی ڈیمانڈ 24800میگاواٹ تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے،2013کی نسبت 2018تک بجلی کی ڈیمانڈ میں 25فیصد اضافہ ہوا جو دنیا بھرمیں سب سے زیادہ ہے،دنیا میں سالانہ بجلی کی ڈیمانڈ میں 2سے 3فیصد تک کا اضافہ ہوتا ہے، جتنی زیادہ بجلی کی پیدوار ہو گی اتنی ہی زیادہ ڈیمانڈ بڑھتی ہے مگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بجلی کی ڈیمانڈ میں ریکارڈ اضافے کو ناصرف پورا کیا بلکہ ملک میں آئندہ 15سالوں کےلئے بھی بجلی کا انتظام کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013میں اپریل کے مہینے میں 6.3ارب یونٹ استعمال ہوئے جبکہ اپریل 2018میں 9.2ارب یونٹ استعمال ہوئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ہائیڈل منصوبوں سے بجلی کی کم پیداوار ہوئی، جس کی بڑی وجہ پانی کے ذخائر میں کمی ہے۔

2017 میں ہائیڈل منصوبوں سے 6040میگاواٹ بجلی حاصل کی گئی جبکہ 2018میں ہائیڈل منصوبوں سے صرف 3090میگاواٹ بجلی حاصل کی گئی، پانی کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے رواں سال ہائیڈل منصوبوں سے ماضی کی نسبت آدھی بجلی حاصل ہورہی ہے، وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں 90فیصد فیڈرز پر سحری اور افطار کے اوقات میں زیرو لوڈشیڈنگ ہے جبکہ 10فیصد فیڈرز پر 2 سے 4گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جن فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے وہاں لائسز 90فیصد سے زائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جون میں 22538میگاواٹ ڈیمانڈ ہو گی جبکہ22176میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے،362میگاواٹ کا شارٹ فال جون 2018میں ہو گا اسی طرح جولائی 2018 میں ملک میں 22346میگاواٹ ڈیمانڈ ہو گی اور 21943میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور جولائی کے مہینے میں شارٹ فال 403میگاواٹ ہوگا جبکہ اگست،ستمبر، اکتوبر،نومبراور دسمبر میں ملک میں سر پلس بجلی دستیاب ہو گی، اگر ملک میں بارشیں ہوئیں توجون اور جولائی کے مہینوں میں شارٹ فال نہیں ہو گا۔ وزیراعظم نے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پا لیا گیا ہے، توانائی کے منصوبوں کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے،وقتی مسائل آسکتے ہیں جیسے آج ایک پلانٹ ٹرپ کر گیا جو آج ہی ٹھیک کر دیا گیا ہے،ایسے مسائل مستقبل میں بھی آ سکتے ہیں مگر یہ کہنا کہ ملک میں توانائی کا بحران ہے غلط ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک میں بجلی کا بحران ختم کرکے جا رہی ہے، ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2020تک ملک میں مزید 10687میگاواٹ اور 2025تک مزید 17119میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی جائے گی،ان منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے، ہم نے راستے کا تعین کر دیا باقی آنے والی حکومتیں اس پر کام جاری رکھیں گی تو یہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی اب سے 2025تک ملک میں توانائی کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پانی کے معاملے پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت تھی ہم نے وہ اتفاق رائے پیدا کیا، مشترکہ مفادات کونسل نے توانائی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، ملک میں دو بڑے پانی کے ذخائر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم پر کام شروع ہو چکا ہے، ان دونوں ڈیموں پر آمریت کے دور میں کام شروع ہونا چاہیے تھا جو کہ نہیں ہو سکا،پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اس پر کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن سسٹم میں چیلنجز ہیں، این ٹی ڈی سی نے اس پر سرمایہ کاری کی ہے،ملک میں موجود ٹرانسٹمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن سسٹم موجودہ ڈیمانڈ کو پورا کرنے کےلئے کافی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2013میں جو گردشی قرضے ہمیں وراثت میں ملے تھے ان سے کم گردشی قرضے ہم چھوڑ کر جائیں گے، پاکستان کی سب سے ایفیشنٹ پلانٹ گیس پر چل رہے ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایل این جی الزام لگانے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ 31مئی کے بعد کسی بھی چینل پر مناظرہ کر لیں، ملک میں ایل این جی نہ ہوتی تو 8گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی، ایل پی جی پر تنقید کرنے والے کسی بھی ٹی وی پروگرام میں میرے ساتھ بیٹھ جائیں میں ہر سوال کا جواب دوں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں صوبوں کو پیشکش کی ہے کہ وہ گیس اوربجلی اپنے ذمہ لے لیں کیونکہ سرعام بجلی اور گیس کی چوری ہو رہی ہے، جس کو روکنا صوبائی حکومتوں کا کام ہے، بجلی اور گیس چوری کی ایف آئی آر پولیس نہیں کاٹتی۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں پر قومی اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے وزیراعظم بننے کے بعد موجودہ پوری کابینہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کی کوئی وجہ بھی ہونی چاہیے،عمران خان خود کو ابھی سے ہی وزیراعظم سمجھنے لگ گئے ہیں،عمران خان کو وزیراعظم بنتے نہیں دیکھ رہا،اس لئے ہمیں اس بات سے کوئی خطرہ نہیں، ہم نے مشرف دور میں دس سال ای سی ایل برداشت کی اگر اب بھی ایسا ہوا تو برداشت کرلیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عدلیہ اور نیب نے جو کیفیت پیدا کر دی ہے، ان حالات میں حکومت نہیں چل سکتی۔ نیب افسران کو بے عزت مت کرے، ایسے حالات میں سرکاری افسران کا کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب پر الزام نہیں، ان کے رویے کی بات کر رہا ہوں نیب کو اگر کسی سے شکایت ہے تو محکمے کے سیکریٹری سے رابطہ کرے۔ جب تک بیوروکریٹ خود کو کمفرٹیبل محسوس نہیں کرتا فیصلے نہیں کر سکتا، ہم نے اس کیفیت میں بھی بیٹھ کر فیصلے کئے ہیں، وزیراعظم نے چیلنج کیا کہ کوئی مائی کا لال پانچ سال میں اتنی بجلی پیدا کر کے دکھائے جتنی ہم نے پیدا کی ہے ، کوئی بھی اتنے منصوبے نہیں لگا سکتا جتنے ہم نے لگائے ہیں کوئی اس سے آدھے منصوبے بھی لگا کر دکھائے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کا معاملہ زیر بحث آنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں نے حلف اٹھایا ہوا ہے۔

اس لئے قومی سلامتی میں زیر بحث آنے والے امور پر بات نہیں کر سکتا،اگر کوئی اور اس حلف کی پاسداری نہیں کرتاتو میں کچھ نہیں کہہ سکتا،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے اس سے آپ اپنے سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جون میں ہے، پاکستان نے کیا تیاری کی ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر ِ اعظم نے کہا کہ طریقہ کار کے مطابق ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف اگلے اجلاس میں اپنا بیانیہ پیش کریں گے۔ امید ہے ہمارے بیانیے کو ایف اے ٹی ایف میں تسلیم کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے کوئی شرمندگی اور پچھتاوا نہیں ہے بطور وزیراعظم میں جو کچھ کر سکتا تھا میں نے کیا ہے۔


ای پیپر