پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کے ممکنہ اجلاس میں اپنے اقدامات پیش کرنے کا فیصلہ

29 مئی 2018 (18:21)

اسلام آباد:قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف )کے آئندہ ماہ ممکنہ اجلاس میں پاکستانی اقدامات پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،ملکی داخلی سلامتی او سر حدوں کے معاملات سمیت افغانستان کیساتھ تعلقات پر غور ، ورکنگ باﺅنڈری اور ایل او سی پر بھارتی خلاف ورزیوں کی مزمت کی گئی، فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کے بعد عمل درآمد امور کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی اور سرحدی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں اور ٹیرر فنانسنگ روکنے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا ۔

منگل کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سمیت مسلح افواج کے سربراہان، کمیٹی کے ممبر وفاقی وزرا اور سینئر عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی سلامتی اور سرحدی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جب کہ فاٹا اصلاحات بل منظوری کے بعد عمل درآمد کے امور بھی زیر غور آئے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں اور ٹیرر فنانسنگ روکنے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ قومی سلامتی اجلاس میں اگلے ماہ ایف اے ٹی ایف کے ممکنہ اجلاس میں پاکستانی اقدامات پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مشرقی و مغربی سرحد اور خطے کی صورتحال پر غور کیا گیا جب کہ آپریشن رد الفساد کی کامیابیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کی متنازعہ کتاب کا معاملہ بھی زیر غور رہا لیکن اس حوالے سے سرکاری سطح پر کچھ نہیں بتایا گیا۔۔وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر اور افغانستان سمیت خطے کی صورتحا ل، ملکی سلامتی اور سرحدی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

مزیدخبریں