Photo Credit Naibaat Mag

ٹرمپ کا نیوکلیئر معاہدے سے انحراف ،ایران اور امریکہ پھر آمنے سامنے
29 May 2018 (18:13) 2018-05-29

چوہدری فرخ شہزاد: امریکہ اور ایران کے تعلقات ایک مرتبہ پھر تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں ، امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا تو امریکا اسے سخت ترین اقتصادی پابندیوں اور دباو¿ کے ذریعے کچل ڈالے گا۔امریکی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد ایران کے لیے نئی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں ایران کی سرگرمیاں اور اثر رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہ بنائے۔

دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی کاکہنا ہے کہ تہران واشنگٹن کے سامنے ہر گز نہیں جھکے گا، ایران پابندیوں اور جنگ کی دھمکیوں کے دباو¿ میں نہیں آئے گا۔اس صورتحال سے دنیا میں کشیدگی کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے کیونکہ امریکی پابندیوں کا منفی اثربراہ راست پوری دنیا پر پڑے گا۔

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) جسے عرفِ عام میں ایران نیوکلیئر ڈیل کہا جاتا ہے، سے نکلنے اور ایران پر اقتصادی پابندیوں کی بحالی کا اعلان کیا تو یہ کسی کے لےے بھی حیرت کی بات نہیں تھی، یہ سب پہلے ہی نظر آرہا تھا کیونکہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اعلان کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آکر یہ معاہدے کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیں گے۔ بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، ٹرمپ کے عالمی معاہدے سے مُکرجانے پر امریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور تجزیہ نگارکہہ رہے ہیں کہ اس سے نہ صرف امریکہ خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ پوری دُنیا کا امن خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ جن کی حکومت کے دوران یہ معاہدہ ہوا تھا اور اسے پوری دُنیا میں ایک کارنامہ سمجھا جارہا تھا، نے ٹرمپ کے فیصلے کو مس گائیڈڈ یا گمراہ کُن قرار دیا ہے۔ معاہدے کی شرائط طے کرنے والے سابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اس کو سنگین غلطی قرار دیا ہے۔ 2015ءمیں ہونے والے اس معاہدے کی رُو سے ایران نے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام روک دینے کا اعلان کیا اوراس کے ساتھ ہی ایران کا تجارتی محاصرہ ختم کردیا گیا، جس کے بعد ایران نے اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کردیا تاکہ اپنی تباہ حال معیشت کو بحال کرسکے۔ اس وقت ایران ایک ملین بیرل پٹرول روزانہ فروخت کررہا ہے جس سے اس کو سالانہ 25 بلین ڈالر سے زیادہ کا زرّمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس ڈیل کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر صحت مند اثرات ہوئے اور قیمتیں کم ہوئیں البتہ اس کا نقصان تیل برآمد کرنے والے ممالک کو ہوا، جن میں سعودی عرب سرفہرست ہے۔ یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں تھا بلکہ اس میں برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی بھی شامل تھے اور مذکورہ ممالک نے اب بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے حق میں ہیں اور اس کی پاسداری جاری رکھی جائے گی۔

ایرانی عوام نے 12سال تک عالمی تنہائی اور سابق صدر احمدی نژادکی سخت گیراور امریکہ مخالف حکومت کے تلخ تجربے کے بعد موجودہ اعتدال پسند صدر حسن روحانی کو ووٹ دیا تھا کیونکہ وہ تعمیرنو اور ریفارمزکی بات کرتے تھے، امریکہ کے لےے اپنی نرمی کی وجہ سے قابلِ قبول تھے اور امریکہ سے صلح پرآمادہ تھے۔ یہ صلح ہوگئی مگر ایرانی عوام کو ریلیف نہیں مل سکا، اب جبکہ ٹرمپ نے اس معاہدے سے منحرف ہونے کا اعلان کیا ہے تو ایران کے بنیاد پرست عناصرکو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ امریکہ کے ساتھ صلح مت کرو، یہ ناقابلِ اعتبار ہے۔ اب لوگ حسن روحانی کے مقابلے میں احمدی نژادکو حق بجانب قرار دیتے ہیں جو8 سال تک امریکہ کے سامنے ڈٹ کر اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ اور امریکہ کے خلاف سخت ترین الفاظ استعمال کرتے رہے۔ اب تو ایران کے روحانی پیشواءآیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی بیان دیا ہے کہ انہوں نے 2015ءمیں کہا تھا کہ اس معاہدے پر مغربی ممالک سے گارنٹی لی جائے کیونکہ ہم امریکہ کی زبان پر اعتبار نہیں کرتے۔

فرانس، برطانیہ اور جرمنی کو ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس معاہدے سے مُکر جانے کے پیچھے سعودی عرب اور اسرائیل کا نمایاں کردار ہے جوکہ معاہدے کے وقت فریق بھی نہیں تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے میں ان دونوں ممالک کی خوشنودی شامل ہے جو شام میں8 سال سے بشارالاسد کو ہٹانے میں ناکامی کے بعد بھی ایران کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ 2015ءمیں جب یہ معاہدہ ہوا تھا تو اسی سال سعودی عرب نے یمن پر حملہ کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ چند دن میں وہاں سعودی نواز حکومت قائم کردی جائے گی مگر ساری باتیں اُلٹی ہوگئیں اور سعودیہ وہاں ایک بے مقصد جنگ میں پھنس چکا ہے جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے۔ اس جنگ میں بھی سعودی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے۔ شام اور یمن کے ناکام تجربات کے بعد سعودی عرب نے یہ سبق سیکھا ہے کہ آپ ایران کو شکست دیئے بغیر خطے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس وسیع تناظر میں اب امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کو خوش کرنے کے لےے مڈل ایسٹ میں ایک اورجنگ چھیڑنا چاہتا ہے۔ جب سے جان بولٹن کو امریکہ کی قومی سلامتی کا مشیر مقررکیا گیا ہے پوری دُنیا میں شور مچا ہوا ہے کہ جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں، یہ وہی شخص ہے جس نے بش جونیئرکو عراق پر حملہ کرنے اورافغانستان میں طالبان حکومت ختم کرنے کی ترغیب دی تھی۔

اس امریکی فیصلے نے امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات اور معاہدوں میں تسلسل ہوتا ہے، وہاں کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ وعدے تو توڑنے کے لئے ہی کےے جاتے ہیں۔ صدرٹرمپ نے جو حرکت کی ہے آئندہ امریکہ پرکوئی ملک بھروسہ نہیں کرے گا۔ سب سے پہلے فوری ردّعمل شمالی کوریا کی طرف سے متوقع ہے جن کے ساتھ مذاکرات کے نئے دورکا آغاز ہو رہا ہے۔ شمالی کوریا یہ سوچنے پرمجبور ہو گا کہ اگر امریکہ سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہوتا ہے تو اس پر عمل درآمدکی گارنٹی کون دے گا؟

بین الاقوامی قوانین کی رُو سے ایران میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو6 ماہ کا وقت دیا جائے گاکہ وہ یہاں سے کُوچ کر جائیں، اس مدت کے بعد جو ایران سے تجارت کرے گا امریکہ اس پر پابندی لگا دے گا۔ اس طرح یہ پابندیاں ایران پر نہیں بلکہ ایران کے ساتھ لین دین کرنے والی کمپنیوں پر بھی ہوں گی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس معاہدے کے باقی پارٹنر ممالک روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی جب اس پر قائم ہیں تو وہ اپنے طور پر ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھیں گے یہ نہایت پیچیدہ صورتحال پیدا ہونے والی ہے کیونکہ امریکہ کی طرف سے عائدکردہ یک طرفہ پابندیاں اتنی سخت نہیں ہوں گی۔ دوسری بات یہ کہ ایران امریکہ کے معاہدے سے نکل جانے کے بعد اگر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرتا ہے تو باقی عالمی طاقتوں کا ردّعمل کیا ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کے لےے جو Centrifuge سسٹم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دور میں پاکستان سے سمگل کیا تھا۔ شمالی کوریا اور لیبیا بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کے ڈاکٹر اے کیو خان سے رابطے تھے۔ اس میں ایران اتنی efficiency حاصل نہیں کرسکا کہ وہ 2030ءسے پہلے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرلے۔ ماہرین کے مطابق Weapon Grade یورینیم کی شرح 90 فیصڈ ہوتی ہے جبکہ ایران کی حاصل کردہ شرح ابھی 3-4 فیصد ہے۔ ان حالات میں جبکہ ایران کے مخالف اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں تو اس صورت میں جنگ کا نقشہ کیا ہوگا البتہ ایک بات تسلیم شدہ ہے کہ جنگ میں ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کرنا اسرائیل اور سعودی عرب کے لےے آسان نہیں ہوگا۔ لبنان اور یمن ایران کے دو ایسے OutPost ہیں جہاں سے وہ بالترتیب اسرائیل اور سعودی عرب کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر امریکہ براہ راست جنگ میں شریک ہوتا ہے تو یقینی طور پر روس ایران کی مددکے لےے آئے گا جس کے بعد ایران کو بھارت سے تعلقات ختم کرنا پڑیں گے کیونکہ بھارت اس خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا حلیف ہے۔

پاکستان کے لےے اس موقع پر سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ سعودی ایران جنگ میں پاکستان کا مو¿قف کیا ہے۔37 ملکوں پر مشتمل سعودی الائیڈ فورس کے کمانڈر جنرل راحیل شریف کو اگر ایران پر حملہ کرنے کا آرڈر دیا جاتا ہے تو وہ کیا کریں گے؟ یہ جنگ ایران میں ہوگی اور پاکستان کو ایران کا Backyard یا پچھلاصحن کہا جاسکتا ہے جو یقینی طور پر جنگ کی لپیٹ میں ہوگا۔ اس افسوسناک منظرکا مثبت پہلو یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں ایک طرف تو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور دوسری طرف ایران کا پٹرول عالمی دُنیا میں پابندیوں کی وجہ سے نہیں ہوگا۔ یہ پاکستان کے لےے موقع ہو گا کہ وہ پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے شدیدترین توانائی بحران پر قابو پانے کے لےے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو بحال کردے۔

جب یہ سطور رقم کی جارہی ہیں تو ایران نیوکلیئر معاہدے کے باقی یورپین فریقین فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے معاہدے پر عمل کرنے اور اسے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جو کہ کسی حد تک اطمینان بخش ہے لیکن ایران ان کے اعلان پر شک کا اظہار کررہا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر مڈل ایسٹ کے واقعات خصوصاً شام اور یمن کی جنگوں میں کوئی ایسا موڑ آگیا تو ہوسکتا ہے برطانیہ، فرانس اور جرمنی امریکی دباﺅکے آگے ڈھیر ہوجائیں، اس لےے ایران گارنٹی چاہتا ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں امریکہ کی طرح اپنے بیان سے مُکر نہ جائیں۔

ایران نیوکلیئر معاہدے کا سب سے بڑا Beneficiary دیکھا جائے تو وہ بھارت ہے جس نے 2015ءسے لے کر اب تک ایران میں چاہ بہار پورٹ پر500 ملین ڈالر محض اس لےے خرچ کر ڈالے تاکہ پاکستان کی ڈیپ سی پورٹ گوادرکو بائی پاس کیا جاسکے، بھارت اس کی توسیع پر مزید فنڈ لگانے پر تیار ہے اور چاہ بہارکی وجہ سے بھارت نے آلو اورگندم کی پاکستانی ایکسپورٹ کا افغانستان اور ایران برآمدکرنے کا راستہ بندکردیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ملین ڈالرکا سوال یہ ہے کہ امریکی پابندیاں اس سال کے آخر میں شروع ہو جائیں گی جس کے بعد امریکہ بھارت کو مجبورکرے گا کہ وہ چاہ بہار پراجیکٹ سے نکل جائے، اس سے بھارت کو بھاری مالی نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ دوسرے نمبر پر اس وقت بھارت اور چین ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں، پابندیاں نافذ ہونے کے بعد بھارت کو مجبورکیا جائے گا کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری بند کرے، ان دونوں وجوہات کی بناءپر بھارت اس وقت سخت تشویش کا شکار ہے۔

اگر پاکستان اپنی سفارتکاری کوعقل مندانہ استعمال کرے تو ایران کا بحران پاکستان کے لےے توانائی کے بحران پر قابو پانے کا اہم موقع ہے۔ قطر سے ایل این جی کا معاہدہ ختم کر کے ایران گیس پائپ لائن شروع کریں جو آدھی قیمت پر مل رہی ہے، دوسرے نمبر پر ایران سے تیل کی خریداری بھی نہایت سستے داموں کی جاسکتی ہے۔ بلوچستان میں سمگل شدہ ایرانی تیل آدھی سے بھی کم قیمت پر فروخت ہوتا رہا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودیہ اسرائیل ایران اس وقت آمنے سامنے ہیں، پاکستان کو اپنی غیرجانبداری واضح کردینی چاہےے۔

٭٭٭


ای پیپر