Photo Credit Naibaat Mag

پی ٹی آئی کا 100روزہ پلان ،ن لیگ اورپی پی نے اپنے منشور پر کتنا عمل کیا ؟
29 مئی 2018 (18:06) 2018-05-29

حافظ طارق عزیز:جیسے جیسے2018ءکے انتخابات قریب آرہے ہیں زیادہ سے زیادہ عوامی ہمدردی سمیٹنے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں سرگرم ہو چکی ہیں، تحریک انصاف کا اپنا100روزہ پلان پیش کرنا بھی اسی انتخابی مہم کا ایک حصہ ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے منشورسے اس کے نظریات، ملکی نظام چلانے کے طریقہ کار اورعوامی مسائل حل کرنے کے لیے اس کی کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے جس کی بنیاد پرعوام اسے ووٹ دیتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی وفاق میں متعدد بار برسراقتدار آچکی ہیں اس لیے عوام ان کے منشور ، نظریات اور کارکردگی سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن تحریک انصاف ابھی صرف خیبرپختونخوا تک محدود رہی ہے اس لیے اس کے لیے لازم تھا کہ قومی سطح پر عوام کو اپنے منشور سے بھرپور طور پر آگاہ کرتی۔

تحریک انصاف نے جو منشور پیش کیا اس کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ہرسیاسی جماعت ملکی ترقی،خوشحالی اورعوامی مسائل کے حل کا تقریباً ایسا ہی خوش نما ایجنڈا پیش کرتی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا کسی سیاسی جماعت کے پاس ملکی مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی ہے یا نہیں، اوراس نے صرف انتخابات جیتنے کے لیے خوش نما ایجنڈا پیش کرکے عوام کو سبز باغ دکھانے کی کوشش کی ہے۔

بڑے بڑے سنہرے خواب دکھانا تو آسان امر ہے لیکن انھیں شرمندہ تعبیرکرنا ہی اصل کام ہے۔ جو سیاسی جماعتیں برسراقتدار رہی ہیں، انھوں نے بھی ایسے ہی سنہرے خواب عوام کو دکھائے تھے لیکن برسراقتدار آنے کے بعد داخلی اور خارجی سطح پر مسائل اور چیلنجز اپنی سنگینی کے ساتھ سامنے آئے تو ان پر اصل حقیقت کھلی کہ دعوے کرنا تو آسان کام لیکن مسائل حل کرنا جوئے شیرلانے کے مترادف ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عوام کے آج تک بنیادی مسائل ہی حل نہیں ہو پائے۔ پینے کے صاف پانی، سیوریج کے بہتر نظام، صفائی، صحت، تعلیم اور روزگار سمیت ہزاروں مسائل اپنی سنگینی کے ساتھ جوں کے توں موجود ہیں، سابق حکومتوں نے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اس مقصدکے لیے بڑے پیمانے پر بجٹ بھی مختص کیے گئے لیکن بوجوہ یہ مسائل آج بھی حل طلب دکھائی دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سابقہ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلزپارٹی نے عمران خان کے100دن کے پروگرام کوخیالی خواہشات قراردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہ 100دن کا پلان بھی گزشتہ انتخابات کے 90 دن کے پلان جیسا لگتا ہے۔ پانچ سال قبل بھی عمران خان نے90 دن میں سب تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن)کے رہنماو¿ں نے اس پلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ محض اعلانات سے عوام کو مزید دھوکا نہیں دیا جا سکتا، عمران خان نے گزشتہ انتخابات میں صوبہ خیبرپختونخوا میں 90 دن کا پلان دیا تھا وہ بتائیں کہ انھوں نے اس سلسلے میں کیاکیا اور صوبے کے اندرکون سا مسئلہ حل کیا گیا۔

ملک کے مسائل جس قدر سنگین ہو چکے ہیں، اسے چند دنوں میں حل نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ برسراقتدار آنے والی پارٹی جب اپنے وعدے پورے نہیں کر پاتی تو عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور بدلتے ہوئے ماحول کو دیکھ کر سیاستدان کسی نئی پارٹی کے جھنڈے تلے عوام کو سبز باغ دکھانے کے لیے ایک بار پھر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ پی ٹی آئی نے اگلے الیکشن 2018ءجیتنے کی صورت میںحکومت ملنے کے بعد کے پہلے 100دن کا ایجنڈابھرپور، شاندار، جاندار اور چمکدار انداز میں پیش کیا، جس سے پیپلز پارٹی اور ن لیگی حلقوں سے بیان بازی شروع ہوئی اور ایسی ہوئی کہ ان سو دنوں پر اورکے پی کے کے پانچ سالوں پرکئی رہنماﺅں نے وائٹ پیپر جاری کرنے کا اعلان بھی کردیا۔ حیرت ہے جو جھوٹے سیاستدان عوام سے جھوٹ بول کراقتدار میں آتے رہے، وہی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کا یہ الیکشن اسٹنٹ ہے۔ مخالفین کو موقع ملا، اور انہوں نے خوب ہنسی مذاق کی باتیں کیں۔ قوم کے لیے عمران خان کا یہ ایک جملہ کروڑوں منشوروں پربھاری ہے کہ”موٹر وے نہیں قوم بنانا اصل کامیابی ہے“چند مخصوص اور منحوس زبانوں نے اسے الفاظ کاگورکھ دھندا اور خواہشوں کا مجموعہ قرار دیا توکچھ کے نزدیک پی ٹی آئی حکومت کے پہلے100دن کا یہ پروگرام ناقابل حصول اہداف پر مشتمل ہے ۔

لیکن ان تمام خیالات اورجزیات سے الگ تھلگ ہوکر سوچا جائے تویہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر جذبہ سچا ہے، اور واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو دنیا میںکیا نہیں ہوسکتا۔ ملائشیا جب مہاتیر محمد کو ملا توکیا تھا؟کرپٹ ترین ملک تھا، مہاتیر نے اسے ایشیائی ٹائیگر بنا دیا۔ ترکی جب اردگان کو ملا توکیا تھا؟شورش زدہ ملک تھا جہاں خانہ جنگی کا ہر وقت کھٹکا لگا رہتا تھا، اردوان نے اسے یورپ کے سامنے مضبوط معیشت بنا کر کھڑاکر دیا، چین کیا تھا؟ سری لنکا کیا تھا؟ جنوبی افریقہ کیا تھا؟ ان سب ملکوں کو شفاف قیادت نے ترقی کے زینوں تک پہنچایا ہے۔

لیکن اس کے برعکس ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ نااہل سیاستدان ملتے ہیں ، ایسے سیاستدان جو جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ یہ جو جو آج کل بھی ہرگاﺅں، ہر شہر جا جاکر جھوٹے وعدے کر رہی ہے ، تو پہلے کیا یہ سوئے ہوئے تھے، 10سال تک یہ لوگ کیاکرتے رہے ہیں؟ مرکز میں 5 سال (ن) لیگ نے گزارے اور 5 سال پیپلزپارٹی نے .... پنجاب میں (ن) لیگ نے10سال گزارے، پی پی نے سندھ میں دس سال گزارے، یہاں جو منشورکا حال ہواکیا اُس حوالے سے عوام نہیں جانتے؟

(ن) لیگ کے منشورکی ہی سن لیں (ن) لیگ نے اعلان کیا تھاکہ بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسزکو دس فیصد تک لائیں گے....جبکہ ایم ڈی پیپکوکے مطابق سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی 38 فیصد لائن لاسز، پشاور الیکٹرک سپلائی33فیصد، حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی 31 فیصد لائن لاسز جبکہ پاور سیکٹرکا سالانہ نقصان 360ارب روپے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

کہا گیا تھا کہ گردشی قرضوں کو ختم کردیں گے ....جبکہ فیڈرل سیکرٹری واٹراینڈ پاور نسیم کھوکھر کے مطابق ”سرکلر ڈیٹ ایک ٹریلن روپے یعنی ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے“۔کہاگیا تھا کہ ریاستی ملکیتی اداروں میں آزاد اور پروفیشنل چیف ایگزیکٹو ہائیرکیے جائیں گے....جبکہ رپورٹ کے مطابق پانچ سال پہلے پی آئی اے کا سالانہ نقصان 192ار ب روپے تھا، جبکہ آج 350 ارب روپے سے زائد ہے۔کہا گیا تھا کہ محکمہ پولیس کو غیر سیاسی بنایا جائے گا....آج بھی رشوت کے بغیر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، آج بھی پہلے سے زیادہ رشوت وصول کی جاتی ہے۔ پھر (ن) لیگ نے منشور میں کہا تھا کہ تعلیمی ایمرجنسی نافذکی جائے گی.... ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ شرح خواندگی مزید 5 فیصد کم ہوگئی ۔

کہا گیا تھا کہ فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے ججزکی تعداد کو بڑھایا جائے گا .... ججز پہلے سے کم ہوگئے جبکہ زیر سماعت مقدمات کی تعداد 18لاکھ سے زیادہ ہوگئی۔کہا گیا کہ عدالتوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزکیا جائے گا، ایسا کچھ نہیں ہوا۔پھر کہا گیا کہ تمام حکومتی پراجیکٹس میں خود احتسابی کا نظام لائیں گے....جبکہ حکومت 5 سال تک خود احتسابی کے نظام کے قریب سے بھی نہیں گزری جس کی وجہ سے آخری 6 ماہ میں حکومت کے کرنے کے کام نیب اور سپریم کورٹ کوکرنا پڑ رہے ہیں۔ کہا گیا کہ میرٹ بیسڈ سسٹم لانچ کیا جائے گا.... جبکہ ہر محکمے میں میرٹ کی دھجیاں اُڑائی گئیں!.... کہا گیا کہ بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے گا....جبکہ ملک کا ڈیڑھ کروڑ نوجوان بے روزگاری کی آگ میں جل رہے ہیں ۔

جبکہ پیپلز پارٹی کا دور اس سے بھی بُرا دور تھا،یہ جھوٹے وعدے کرنے والے کس منہ سے دوسروں پر تنقیدکر رہے ہیں ، جبکہ تحریک انصاف کے سو دنوں کے جواب میں خورشید شاہ فرماتے ہیں کہ اگر ایسا ہو جائے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا، بھئی! آپ سیاست نہ چھوڑو پلیز.... ملک کے حالات ٹھیک کردو، چلیں100دن نہیں 500دن میں کردو.... لیکن ایسا یہ کیوں کریں گے؟ بلکہ اس سے زیادہ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ یہ لوگ پھرکہہ رہے ہیں کہ ہمیں ایک بار پھر موقع دیا جائے تو ہم دودھ کی نہریں نکال دیں گے، ہم اس ملک کو جنت بنادیں گے، یہاں ہر شخص روزگارکے ساتھ ہوگا۔

پنجاب میں کسی نہ کسی طرح ان حکمرانوں کی گزشتہ 30سال سے حکومت ہے، یہاں کے عوام کو یہ لوگ پینے کا صاف پانی تو دے نہیں سکے، صاف ہوا نہیں دے سکے، ریلوے کا نظام ٹھیک نہیں کر سکے، سستی روٹی نہیں دے سکے، کنٹرول ریٹ پر دوائیاں فراہم نہیں کر سکے، بغیر سفارش کے آپ تھانے میں نہیں جا سکتے، بغیر سفارش کے آپ ہسپتالوں میں نہیں جا سکتے۔ نکاسی آب کا نظام بہتر نہیں بنا سکے۔

ہر پراجیکٹ کو اُٹھا کر دیکھ لیںسستی روٹی سکیم، آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم، دانش سکول، لیب ٹاپ سکیم سب سکیموں میں اربوں کے گھپلے نظرآئیں گے۔ کیا یہ ہے کارکردگی؟آپ لوگوں کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ آپ دوسروں پر تنقید کریں۔ یہی حال سندھ کا ہے جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت رہتی ہے اورجہاں تک کارکردگی کا تعلق ہے توکراچی جیسے بڑے شہرکے مسائل نہیں ہو سکے۔ شہریوں کو پینے کا پانی مل سکا نہ شہرِ قائد سے کوڑے کے ڈھیر ختم کیے جا سکے۔ اب اس پارٹی کے لوگ پی ٹی آئی کے 100دن کے پلان پر تنقید کریں تو ان کی عقل کا ماتم نہ کیا جائے توکیا کیا جائے۔

جبکہ اس کے برعکس کے پی کے میں پی ٹی آئی کو5 سال ملے ہیں، یہ صوبہ دہشت گردوں سے بھرا ہوا تھا، پھر بھی بہت زیادہ مثالی نہیں لیکن وہاں کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ بہتر دکھائی دیتا ہے۔ فرض کریں کہ پی ٹی آئی سو دن میں نہیں300دن میں اپنے وعدوں کے قریب تر بھی پہنچ جاتی ہے تو پھربھی اس میں کیا حرج ہے۔ میرا تعلق تحریک انصاف کے کارکنوں میں سے نہیں ہے لیکن زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ آج پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوتبن چکی ہے۔ اور یہ سیاسی قوت بنانے والے بھی موجودہ پرانے حکمران ہی ہیں چاہے ان کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہو پیپلزپارٹی سے ۔

100روزہ پلان جو بھی ہو، نیت صاف ہوگی تو عمران خان سرخرو ہوگا۔ ورنہ اس کے لیے مشکل کے پہاڑ کھڑے کرنے والے بہت سے ہوں گے اور اب تو سنا ہے کہ یہ دونوں بڑی پارٹیاں الیکشن میں ہی اس شرط پر جا رہی ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کو ناکام کریں گی۔ عمران خان کو ناکام کرکے ڈیڑھ دو سال میں حکومت کوگرائیں گی اور نئے الیکشن کروانے میں کامیاب ہوں گی ۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو میرے خیال میں اس سے بڑی بدقسمتی نہیں ہوگی۔


ای پیپر