Photo Credit Naibaat

اُم المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ ؓ۔۔۔
29 May 2018 (18:00) 2018-05-29

راضیہ نوید: اُم المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ ؓعام الفیل سے پندرہ برس قبل پیدا ہوئیں۔ عام الفیل اس سال کا نام ہے جس میں ابرہہ نامی شاہ حبشہ نے (نعوذباللہ)کعبہ شریف کو تباہ کرنے کیلئے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر لشکرکشی کی تھی لیکن اللہ رب العزت نے ابابیلوں کے ذریعے اِنہیں نیست و نابود فرما دیا۔ سیدہ خدیجہ ؓکے والد کا نام خویلد بن اسد جبکہ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا۔ آپؓ قبیلہ قریش کی ایک نہایت معزز شاخ بنی اسد سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ خاندان اپنی شرافت اورکاروباری معاملات میں ایمانداری کی وجہ سے عزت وشہرت کے بلند مقام پر فائز تھا۔ سیدہ خدیجہ ؓکا شجرہ نسب اس طرح بیان کیاگیا ہے: خدیجہؓ بنت خویلد اسد بن عبدالعزی بن قصیٰ۔ اس سے آگے نسب سیدناحضرت محمد سے جا ملتا ہے۔

سیدہ خدیجہؓ کے والد عرب کے مشہور تاجر اور قریش میں معزز ونامور تھے۔ ان کی تجارت کی ساکھ دوسرے ممالک میں بھی قائم تھی۔ دولت و ثروت ان کے گھرکی لونڈی تھی۔ سیدہ ؓ نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ شرافت، دیانت، ایفائے عہد، احساس ذمہ داری اور اخلاقی خصائص سے متصف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بچپن ہی سے سخاوت، غریب نوازی، فراخدلی اورجرا¿ت آپؓ کی طبیعت کا حصہ تھی۔ آپؓ جونہی سن شعور کو پہنچیں توآپؓ کی شادی ابوہالہ ہندبن نباش تمیمی سے کردی گئی جن سے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام ہالہ اور دوسرے کا ہند تھا۔ ابوہالہ کے انتقال کے بعد سیدہ خدیجة الکبری ؓ کا دوسرا نکاح عتیق بن عائد سے ہوا۔ عتیق سے ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی، جس کا نام ہند تھا۔ بعض روایات کے مطابق ہند بنت عتیق نے حضوراکرم کی آغوش نبوت میں پرورش پائی اور شرف صحابیت بھی حاصل کیا۔ کچھ عرصہ بعد عتیق بن عائدکا بھی انتقال ہوگیا۔

سیدہ خدیجہؓ اپنی شرافت اور پا کدامنی کی وجہ سے اسلام سے قبل بھی”طاہرہ“کے لقب سے مشہور تھیں۔ آپؓ بہت دانا، معاملہ فہم، انتظامی صلاحیتوں سے بہرہ ور اور مکہ مکرمہ کی امیر ترین خاتون تھیں۔ آپؓ کا تجارتی قافلہ جب ملک شام کی طرف روانہ ہوتا تو صرف آپؓ کا سامان تجارت قریش کے تمام تاجروں کے سامان کے برابر ہوتا۔ تمام تر کاروباری معاملات کی نگرانی آپؓ خود فرماتی تھیں اور ہر بار اپنا وکیل تجارت خود مقرر فرماتیں جو سامان لے کر چلاجاتا اور تمام کاروباری اُمورکا ذمہ دار ہوتا۔ واپسی پر مقرر کردہ اُجرت اسے ادا کر دیتیں اور ملک شام سے لایا ہوا مال مکہ میں فروخت کرکے دوہرا منافع کما لیتی تھیں۔ مال ودولت میں بھی کوئی آپؓ کے ہم پلہ نہیں تھا لہٰذا سب دل و جان سے آپؓ کا احترام کرتے تھے۔

آپؓ عرصہ سے حضور نبی اکرم کی امانت، دیانت اور شرافت کاشہرہ سن رہی تھیں اور انہیں ایک امانتدار اور ذہین وکیل تجارت کی بھی ضرورت تھی لہٰذا آپؓ نے اپنے بھتیجے قطیعہ کے ذریعہ حضرت ابوطالب کو پیغام بھیجا کہ اگر حضرت محمد مال تجارت شام لے جانے کیلئے تیار ہو جائیں تو میں دوسروں سے دگنا معاوضہ دوں گی۔ حضرت ابو طالب نے فوراً حامی بھر لی اور حضور کو آمادہ کیا۔ سیدہ خدیجہؓ جانتی تھیں کہ حضرت محمد بے مثل عادات و اطوارکے مالک انسان ہیں، لہٰذا اپنے ذوق تجسس کی تسکین کیلئے اپنے غلام میسرہ کو بلاےا اور اسے بھی حضور کی خدمت کرنے اور حکم ماننے کا کہہ کر قافلے کے ساتھ روانہ کردیا۔ قافلہ جب ملک شام کی حدود میں داخل ہوا تو ایک گرجاکے قریب پڑاﺅ ڈالا۔ یہاں ایک نیک نفیس راہب قیام پذیر تھا جس کا نام نسطورا تھا۔ اس نے جب حضور کی صورت مبارکہ دیکھی تو بھاگ کر اپنی کتاب لے آیا اور اس میں لکھی ہوئی نشانیاں پڑھ پڑھ کر آپ کو دیکھنے لگا۔ وہ سب نشانیاں آپ کی ذات اقدس میں موجود تھیں۔ اس نے غلام میسرہ کو بتایا کہ یہ نبی آخر الزمان ہیں۔ عنقریب ان پر وحی نازل ہو گی اور قدرت کی طرف سے حکم ہوگا کہ فرائض نبوت ادا کریں۔ میسرہ نے یہ بات پلے باندھ لی۔ شام کے بازار میں ایک اور شخص نے بھی میسرہ کو بتایاکہ ”اللہ کی قسم یہ نبی ہیں ہمارے علماءبتاتے ہیں ان کے اوصاف گزشتہ کتب میں لکھے ہوئے ہیں“۔ میسرہ نے یہ بات بھی یادکر لی۔

مال تجارت بکنے پرتوقع سے زیادہ منافع حاصل ہوا، لہٰذا مکہ واپسی کی تیاریاں شروع کر دی گئیں،جب قافلہ مکہ میں داخل ہوا تو سیدہ خدیجہؓ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ بالا خانے پر بیٹھ گئیں۔ حضوراونٹ پر تشریف فرما تھے، دھوپ میں ان کا چہرہ آئینے کی طرح چمک رہا تھا اور اوپر دو پرندے پر پھیلائے ان کے ساتھ ساتھ آرہے تھے۔ یہ خوبصورت منظر سیدہ خدیجہؓ کے ذہن پر نقش ہوگیا۔ میسرہ نے بھی آکربتایا کہ ان کے نبی ہونے کی بشارتیں دی گئی ہیں لہٰذا سیدہ ؓ نے اسی وقت دل میں یہ بات ٹھان لی کہ ان سے نکاح کیلئے سیدنا محمدسے بہتر شخص اورکوئی نہیں ہو سکتا۔ سیدہ خدیجہؓ نے اپنی ایک محرم راز عورت نفیسہ بنت منیةکو پیغام نکاح دے کرحضور کے پاس بھیجا۔ آپؓ نے یہ بات اپنے بزرگوں تک پہنچائی۔

آپؓ والد کا انتقال ہو چکا تھا لہٰذا چچا عمرو بن اسد اور چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل نے حضرت ابو طالب سے بات کی جو انہوں نے حضورکے مشورے کے بعد قبول کی اور شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ خطبہ نکاح حضرت ابو طالب نے پڑھا اور حضورنے بیس اونٹ مہر دیا۔ سیدہ خدیجہؓ سب سے پہلی خاتون تھیں جن کے ساتھ حضور کا نکاح ہوا اور جب تک آپؓ حیات رہیں، آپ نے دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔ سیدہ خدیجہ ؓ نے اس نکاح کی خوشی میں تمام غلام آزاد کر دیئے۔ آپؓ نے اپنی تمام دولت حضور کے قدموں میں ڈھیر کر دی اور عرض کی:”میرے آقا : آپ اس کے مالک ہیں جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں۔ میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا“۔ یقیناً یہی مال بعد ازاں نصرت اسلام کا سبب بنا اور آپ معاشی فکر سے آزاد ہوکر دعوت و تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔

سیدہ خدیجہ ؓ ایک وفادار اور غمگسار بیوی تھیں۔ حضورمکہ سے تین میل دورایک غار میں تشریف لے جاتے اور وہاں مسلسل کئی کئی دن غور وخوض اور عبادت ومراقبے میں گزار دیتے۔ آپؓ حضورکو چند روزکا سامان ضرورت مہیا کر دیتیں اور آپ سامان خوردونوش لے کر غار حرا تشریف لے جاتے اور یوں یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ آخرکار ماہ رمضان کی ایک رات آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ آپاس انوکھے تجربے اور واقعے کے بعد گھر تشریف لائے اور سارا واقعہ سیدہ خدیجہؓ سے بیان فرمایا۔ آپؓ نے کمال فہم و فراست اور فطانت کا مظاہرہ فرماتے ہوئے حضور کو تسلی دی اور فرمایا: ”آپ خوش ہوجایئے۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کوکبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتے داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، امانتیں ادا کرتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں، ناداروں کوکماکر دیتے ہیں“۔

سیدہ خدیجة الکبریٰ ؓ انقلاب مصطفوی کے ہر اول دستے کی ایک ایسی مخلص اورانتھک کارکن تھیں جنہوں نے نبی اکرم کا اس وقت ساتھ دیا جب دشمنی کی آندھیاں چل رہی تھیں اوراس وقت ایمان لائیں جب فضا کفر سے آلودہ تھی۔ مشن کے فروغ کے لئے ساری دولت اس وقت خرچ کی جب سرمائے کی سخت ضرورت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ حضورنے آپؓ کے جذبات کی قدرافزائی فرمائی۔ آپ نے فرمایا: ”مریم ؑ اپنے دورکی خواتین میں سب سے افضل تھی اور خدیجہ ؓ اس دورکی تمام خواتین میں سب سے افضل وبہتر ہے“۔

سیدہ خدیجہؓ کے جذبہ ایثار و محبت اور اخلاص کو بارگاہ خداوندی میں بھی قدرو منزلت حاصل ہوگئی تھی۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ”ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ! یہ خدیجہؓ آ رہی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں برتن ہے جس میں سالن،کھانا یا کوئی مشروب ہے۔ جب وہ تشریف لے آئیں تو آپ رب تعالیٰ کی طرف سے انہیں سلام فرما دیجئے اور میری طرف سے بھی اورانہیں بشارت دیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپؓ کو جنت میں نفیس موتی کا بنا ہوا ایک ایسا محل دے گا جس میں کوئی شور شرابہ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہاں تھکاوٹ ہوگی“۔

سیدہ خدیجہؓ نے دعوت و تبلیغ اسلام کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ پرحضور کی حوصلہ افزائی کی اور ہر مشکل کو برداشت کرنے میں آپ کے شانہ بشانہ رہیں۔کفار مکہ نے اسلام کی بڑھتی ہوئی اثر پذیری دیکھ کر مسلمانوں سے معاشرتی مقاطعہ کرنے کی منصوبہ بندی کی اور مکہ میں ایک گھاٹی ”شعب ابی طالب“ میں سب کو محصور کر دیا۔ فیصلہ یہ کیاگیا کہ کوئی شخص ان سے معاشرتی روابط نہ رکھے۔ ہرقسم کا لین دین، میل میلاپ بندکر دے، نہ خود ان کے پاس جائے اور نہ انہیں اپنے پاس آنے دے۔ نہ ان سے کوئی چیز خریدے اور نہ انہیں خریدنے دے۔ چنانچہ شعب ابی طالب میں محصور افراد کے پاس کھانے کیلئے کچھ نہ رہا وہ پتے کھاکرگزارہ کرتے۔ بھوک اور پیاس سے بلکنے والے بچوں کی چیخ وپکار سے وادی گونج اٹھتی لیکن کسی کو ترس نہ آیا۔

ابتلاءو آزمائش کی ان گھڑیوں میں بھی سیدہ ؓ اپنے شوہرکے ساتھ پیکروفا بن کرکھڑی رہیں یہاں تک کہ اللہ کے اذن سے یہ معاشرتی مقاطعہ ختم ہوگیا۔ اسی معاشرتی مقاطعہ کے خاتمہ کے بعد حضرت ابو طالب کا انتقال ہوا جبکہ سیدہ خدیجہؓ کی صحت بھی جواب دے گئی۔ حضورنے ان کے علاج معالجے، خبرگیری اور دلجوئی میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ آپ نے اپنی ساری توجہات ان کی طرف مبذول فرما دیں۔ زندگی کے اس عظیم، طویل اور آخری سفرکے خوشگوار ہونے کی نوید سنائی اور خصوصی رحمتوں اور برکتوں کا سایہ عطا فرمایا اوریوں امت مسلمہ کی یہ شفیق اورعظیم روحانی ماں10رمضان کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں.

وصال مبارک اور تجہیز وتکفین کے بعد جب لحد میں اتارنے کا وقت آیا تو پہلے اس میں خود اترے اور پھر آپؓ کو آغوش لحد میں اتارا۔ سیدہ خدیجہؓ کی وصال کے وقت عمر مبارک 65 برس تھی۔ آپؓ حضور کی تمام اولاد کی ماں ہیں۔ صرف حضرت ابراہیمؓ حضرت ماریہ قبطیہؓ سے تھے۔ آپؓ کی اولاد پاک کے نام ہیں: حضرت قاسمؓ، حضرت طیبؓ ، حضرت طاہرؓ ، حضرت زینبؓ ، حضرت رقیہ ؓ ، حضرت ام کلثومؓ اورحضرت فاطمة الزھراؓ۔


ای پیپر