قومی منظر نامہ اور ججوں کا اجتماع
29 مئی 2018 2018-05-29


جناب بالآخر نگران وزیراعظم کے نام کا اعلان ہو گیا اور جسٹس(ر) ناصر الملک کو بہت مبارک کہ وہ تاریخ کے ایک اہم اور نازک انتخابات کے شفاف انعقاد کے ذمہ دار قرار پا گئے ہیں تاہم سیاسی صورتحال اتنی گھمبیر ہو چکی ہے کہ مجھے ان کا صاف دامن کے ساتھ اس ذمہ داری سے عہدہ برآہونا نظر نہیں آتا۔ ایک سیاسی جماعت الیکشن میں جانے سے پہلے زیادتی اور مشکل حالات کا رونا رو رہی ہے جبکہ اس کے پاس دو دفعہ تاریخ میں توسیع کے باوجود ٹکٹوں کے اجراءکے لیے درخواستیں پوری نہیں ہو رہی ہیں اور دوسری سیاسی جماعت کے رہنما الیکشن ہونے سے پہلے ہی اپنے آپ کو جیتا ہوا سمجھ رہے ہیں اور دنیا جہان کا کاٹھ کباڑ الیکٹ ایبلز کے نام پر وہ جمع کرتے جا رہے ہیں، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان کی کشتی مجموعی طور پر کتنا بوجھ برداشت کر سکتی ہے۔ تیسری جماعت کے حوالے سے عرض کرتا چلوں کہ وہ خاموشی سے ”کچھ کام“ کر رہے ہیں اور واقفان حال یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان انتخابات میں 80 سے 100 نشستوں کی امید لگائے ہوئے ہے اور 60 سے 70 کے لیے تو یقین کیے بیٹھے ہیں، اب یہ نمبر کیسے انہوں نے سوچے ہیں اس بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہنا چاہتا بہرحال اس پر بھی بات کریں گے۔ دوسری جانب ٹکٹوں کی درخواستیں پوری نہ ہونے کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب سے اکثریت حاصل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور صرف افسر شاہی کے لیے وفاق اور پنجاب میں مختلف طریقوں سے بھاری مالی مراعات دی جا رہی ہیں اور ان کو پنجاب سے الیکشن جیتنے کے تمام ”گر“ بھی معلوم ہیں اس لیے ان کے اعتماد کو زیادہ بے وجہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور ان کے قریبی ساتھی انتخابات کو صرف ایک فارمیلٹی سمجھے بیٹھے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ اس دفعہ وہ بھاری اکثریت سے جیت کر اقتدار میں آ جائیں گے۔ سیاسی درجہ حرارت اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے لاہور میں کنونشن کے دوران کارکن ہاتھ ملانے کے شوق میں سیکورٹی کے ہاتھوں تشدد کے نتیجے میں بے ہوش ہو گیا اور اگر میاں نواز شریف کے حوالے سے سوچا جائے تو کچھ غلط بھی نہ ہو گا کہ جوتا چلنے، سیاہی پھینکنے سے بات گولی لگنے تک پہنچ گئی اور اس لیے کارکن کو بھی شک کا فائدہ نہیں مل سکتا۔ سندھ اسمبلی میں بھیجی ہوئی لعنت کی گونج قومی اسمبلی کے اجلاس تک سنائی دی گئی، عدم برداشت کے عمومی بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ٹی وی پروگراموں میں اب میری قوم کے یہ راہنما اب ایک دوسرے پر ہاتھ بھی اٹھانے لگے ہیں۔
ان حالات میں اگر اگلے دو، تین ماہ میں انتخابات منعقد ہوجاتے ہیں تو لازمی بات ہے اس میں ہر جماعت کی حسب منشاءنتائج نہیں آئیں گے، ایک جماعت نتائج پر پہلے دھرنے دینے کا تجربہ رکھتی ہے تو دوسری جماعت نے ابھی سے پری پلان دھاندلی اور بائیکاٹ کی باتیں پھیلانا شروع کر دی ہیں اور ابھی تک مسلم لیگ (ن) کے زعما تو یہ بیان دے رہے ہیں کہ وہ الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے لیکن بائیکاٹ ایک آپشن کے طور پر موجود ہے اور جس طرح لیگی قیادت سزا سے پہلے اندر ہونے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اس سے لگتا یہ ہے کہ اگر جماعت کی اشرافیہ نے یہ مناسب سمجھا کہ اس طرح سے شاید انتخابات موخر ہو جائیں اور آگے کسی مرحلے پر مسلم لیگ (ن) پھر سے مظلومیت کا کارڈ کھیلنے میں کامیاب ہو جائے۔ ان حالات میں نگران وزیراعظم کے طور پر جسٹس (ر) ناصر الملک کس طرح شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کے انعقاد کا سیاسی جماعتوں سے سرٹیفکیٹ لے پائیں گے، مشکل نہیں مجھے تو ناممکن لگتا ہے، انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ نام کے حوالے سے غور و فکر کا ”ڈرامہ“ کیا جا رہا ہے اور مجھے ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نگران وزیراعظم نامزد کرنے کا موقع اپنے ہاتھ سے جانے دیں گے، دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے کسی اور کے ہاتھ اپنی ”داڑھی“ پکڑانے کا تصور ہی اب روح فرسا تھا اور میراگمان تھا کہ یہ دونوں سیاسی جماعتیں ایک نام فائنل کر چکی ہیں، صرف سامنے لانے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شدید تنقید کی صورت میں نامزد وزیراعظم ذمہ داری سنبھالنے سے انکار بھی کر سکتا ہے اور اسی لیے وہ زیادہ دیر پہلے نام سامنے نہیں لانا چاہتے تھے۔ دوران تحریر معلوم ہوا ہے کہ سابق چیف سیکرٹری پنجاب ناصر سعید کھوسہ کے نام پر پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے طور پر اتفاق ہو گیا ہے اب دیکھا جائے تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے نگران کے طور پر جو نام سامنے آئے ہیں انہیں تحریک انصاف کی پذیرائی حاصل ہے جس کے بعد کم از کم اب وہ دھاندلی کا شور نہیں مچا سکیں گے۔ وفاقی دارالحکومت کی سیاسی سٹاک ایکسچینج میں دو تھیوریز بیچی جا رہی ہیں ایک یہ کہ انتخابات تاخیر سے ہوں گے اور مسلم لیگ (ن) شاید انتخابات میں حصہ نہ لے کر اس کا جواز مہیا کرے گی اس لیے حکومت کسی بھی نگران کے نام پر زیادہ پھڈا نہیں کر رہی ویسے سوچنے کی بات ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے خیال میں ایک جج نے ان کے لیے مشکلات کھڑی کیے رکھیں اور ان کا جینا محال کر دیا، اگر موجودہ صورت حال پر غور کیا جائے تو چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار بدستور منظر پر موجود ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ قومی منظر نامے پر جسٹس (ر) ناصر الملک، جسٹس (ر) جاوید اقبال، جسٹس (ر) سردار رضا خان کے ساتھ ایک جسٹس کے قریبی عزیز نگران وزیراعلیٰ بھی بننے جا رہے ہیں تو یہ سب محض اتفاق ہے؟ کیونکہ بعض لوگ جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس میں تحریک انصاف اور عمران خان سے منسوب فقرے ابھی تک نہیں بھولے!
دوسری تھیوری جو نسبتاً کم مقبول ہے وہ یہ کہ پانچ سال کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اقتدار سے باہر رہنے کا فیصلہ قبول کر لیا ہے اور شہباز شریف اور مریم نواز کی ٹائی بھی فوری فیصلے کی متقاضی نہیں رہے گی اور پانچ سال میں یہ فیصلہ بھی ہو جائے گا کہ مسلم لیگ (ن) کی باگ ڈور کس کے ہاتھ دی جائے اس دوران پنجاب پر گرفت مضبوط رکھتے ہوئے مرکز میں تگڑی اپوزیشن کی جائے اور اپنی سیاسی لڑائی کو پانچ سال بعد کے انتخابات تک موخر کر دیا جائے۔ اس کی ایک نشانی آج وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کے دوران بھی ملی کہ آج انہوں نے تقریباً یہ بتایا کہ وہ کارکردگی کی بنیاد پر 2018 ءکے الیکشن میں ووٹ مانگیں گے۔
نگران وزیر خزانہ کے لیے ایک بینکار کا نام لیا جا رہا ہے جو کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے دیا گیا ہے جب کہ نگران وزیراطلاعات کے لیے لاہور کے دو صحافیوں کے نام گردش میں جبکہ خاتون اخبار کی مالکہ کو ”ہاٹ فیورٹ“ قرار دیا جا رہا ہے ویسے بھی عارف نظامی کے بعد بیلنس بھی تو قائم کرنا ہے۔
جنرل (ر)اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا گیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے انتہائی ذمہ دار ذرائع نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پکڑ بے سبب نہیں اور بہت جلد تنقید کا عملی جواب سامنے آئے گا ان کے حوالے سے تحقیقات میں جمع کرائے گئے جوابات اگر تسلی بخش نہ قرار پائے تو شاید میاں نواز شریف کی ایک شکایت دور ہو جائے گی۔


ای پیپر