پانی کو عزت دو !
29 May 2018 2018-05-29

اگلے روز پاکستان میں پانی کے مسائل پر دوکالم اکٹھے لکھے تھے جو دواقساط میں شائع ہونے تھے۔ گڑ بڑ یہ ہوئی گزشتہ کالم میں دوسری قسط کا پہلا صفحہ اور پہلی قسط کا دوسرا صفحہ شائع ہوگیا جس سے کالم کا سارا ربط ہی برباد ہوکررہ گیا۔ اس غلطی پر میں اپنے قارئین سے معذرت خواہ ہوں۔ اب یہ دونوں کالم اپنی اصلی ترتیب کے مطابق شائع کیے جارہے ہیں !

اللہ جانے یہ فکرانگیز تحریر کس کی ہے ؟ ۔ مجھے یہ تحریر میرے محترم بھائی سہیل بٹ نے بھجوائی ہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں، بہت عرصے تک واپڈا سے وابستہ رہے پھر بیرون ملک چلے گئے۔ وہ پاکستان کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔ میں اکثر ان کے ساتھ بیٹھ کر بہت بور ہوتا ہوں۔ کیونکہ وہ پاکستان کے اصل مسائل کی بات کرتے ہیں، جو ہم سننا پسند نہیں کرتے۔ نہ اس پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں، ایسی ”بور تحریریں“ لوگ پڑھنا بھی نہیں چاہتے، لوگوں کو سیاست کا چسکا پڑا ہوا ہے۔ اس سے ہٹ کر ہم کچھ لکھیں ہم سمجھتے ہیں ہم نے وقت ضائع کیا ہے۔ پڑھنے والے بھی یہی سمجھتے ہیں ان کا وقت ضائع ہوا ہے۔ لہٰذا آج اپنے قارئین کا وقت ضائع کرنے پر ان سے ایڈوانس معافی چاہتا ہوں، ....یہ تحریر پانی سے متعلق ہے، ملک میں پانی کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں، آج سے پچیس تیس سال پہلے ہمارے بزرگ فرماتے تھے” ایک وقت آئے گا ہمیں پانی خرید کر پینا پڑے گا“ ....ہمیں ان کی اس بات پر تب بڑی حیرانی ہوئی تھی۔ ہم سمجھتے تھے ان بزرگوں کا شاید دماغ چل گیا ہے، آج ہمارے بزرگوں کی بات سوفی صد سچ ثابت ہورہی ہے۔ پینے کے لیے صاف پانی ہمیں خریدنا پڑ رہا ہے۔ یہ پانی دن بدن مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ یہ کاروبار دن بدن پھیلتا چلا جارہا ہے۔ اوپر سے پاکستان میں ملاوٹ کے جو حالات ہیں یہ بھی پورے وثوق سے نہیں کہا جاسکتا بند بوتلوں میں مختلف برانڈز کے جو پانی فروخت ہورہے ہیں وہ صاف اور پینے کے قابل ہیں، غریب بے چارے آج بھی، چھپڑ کا پانی پینے پر مجبور ہیں، جس پانی سے امیر طبقہ رفع حاجت کرنا پسند نہیں کرتا وہ پانی بے چارے مجبور، لاچار اور غریب لوگ خود اور اپنے بچوں کو پلانے پر مجبور ہیں، حکمرانوں کے سارے جرم ، سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں ان کا یہ جرم معاف نہیں کیا جاسکتا ستر برسوں میں اپنے عوام کو پینے کا صاف پانی تک وہ مہیا نہیں کرسکے، گندے پانیوں کی وجہ سے لوگوں کی صحت دن بدن برباد ہوتی جارہی ہے۔ کینسر اور ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ مشورے یہ دیئے جاتے ہیں پانی ابال کر پیئیں ۔ پاکستان میں بے شمار علاقے ایسے ہیں جہاں پانی میسر ہی نہیں ابال کر کوئی کیا پیئے؟۔....کچھ لوگ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن سمجھتے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی یقینا بہت بڑا ہے، میرے نزدیک سب سے بڑا آبادی کا ہے۔ سارے مسائل اس وجہ سے ہیں۔ اس طرف حکمران توجہ دے رہے ہیں نہ عوام دے رہے ہیں۔ کرپٹ اور بدنیت حکمرانوں نے آبادی کے مطابق وسائل بڑھانے پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ چلیں اس کی اہلیت وہ نہیں رکھتے تھے تو کم ازکم آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کوئی قانون سازی ہی کرلیتے۔ اس کے لیے قانون سازی انہوں نے شاید اس لیے نہیں کی ہوگی پھر خود بھی انہیں کم بچے پیدا کرنا پڑتے۔ ان کا ہربچہ ہی چونکہ لوٹ مار میں مصروف رہتا ہے لہٰذا جتنے بچے کم ہوتے اتنی لوٹ مار بھی شاید کم ہوتی۔ افسوس ہمارے فوجی و غیر فوجی حکمران اپنی اپنی حکومتوں میں اپنے اپنے ذاتی مسائل ہی حل کرنے میں جتے رہے، عوام کے اصل مسائل کی طرف کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔ ایک کالا باغ ڈیم ہی بن گیا ہوتا ہمارے پانی کے بے شمار مسائل حل ہو گئے ہوتے۔ کسی فوجی وسیاسی حکمران نے کالا باغ ڈیم پر توجہ ہی نہیں دی۔ البتہ ”سبز باغ ڈیم“ اپنی تقریروں اور بیانات وغیرہ میں وہ روزانہ تھوک کے حساب سے تعمیر کر دیتے ہیں۔ ....اب حالت یہ ہے پانی کے مسائل جس قدر تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں اور وسائل جس قدر تیزی سے کم ہوتے جارہے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے آج ہمیں پینے کے لیے پانی خریدنا پڑ رہا ہے کل کلاں رفع حاجت کے لیے یاغسل وغیرہ کرنے کے لیے بھی خریدنا پڑے گا۔ ....

اب میں اس تحریر کی طرف آتا ہوں جو اگلے روز میرے محترم بھائی سہیل بٹ نے واٹس ایپ پر مجھے بھجوائی ہے جسے پڑھ کر میں سخت خوفزدہ ہوں اور یہ سوچ رہا ہوں پانی کے حوالے سے ہمارا مستقبل کتنا تاریک ہے ....اس تحریر کے مطابق ”بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی پر کشن گنگا ڈیم بنالیا ہے۔ چند ہی دنوں میں بھارتی وزیراعظم اس کا افتتاح کرنے والے ہیں۔ پانی کی قلت کے بدترین بحران سے دوچار پاکستان ایک نئے عذاب میں مبتلا ہونے جارہا ہے۔ مگر افسوس ”زندہ قوم“ اور اس کے حکمرانوں کو اس کی پرواہی نہیں ہے۔ سیاسی قیادت روز ایک نیا تماشا لگا دیتی ہے۔ اور ہمارا میڈیا سارا دن اس کی ڈگڈگی بجاتا رہتا ہے۔ غیر سنجیدگی کے اس ماحول میں کسی کو احساس ہی نہیں پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے؟ کشن گنگا ڈیم کی تعمیر ایک انتہائی خوفناک منظر نامہ ہے۔ بھارت میں جس دریا کو کشن گنگا کہتے ہیں پاکستان میں وہ دریائے نیلم کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ یہ دریا وادی نیلم سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دو میل کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے۔ اب بھارت نے 22کلومیٹر سرنگ بناکر اس کا رخ موڑ دیا ہے۔ اب یہ دریا وادی نیلم میں نہےں بہے گا ۔ اسے کشن گنگا پراجیکٹ کے لیے وولر جھیل کے ذریعے بارہ مولا کے مقام پر مقبوضہ کشمیر میں ہی دریائے جہلم میں ڈال دیا گیا ہے۔ یعنی اس کے قدرتی بہاﺅ میں فرق ڈال دیا گیا ہے۔ اب ہمیں صرف کتابوں میں ہی یہ پڑھنے کو ملے گا کبھی وادی نیلم میں ایک دریا بھی بہا کرتا تھا، جسے دریائے نیلم کہتے تھے۔ ذرا غور فرمائیے وادی نیلم سے دریائے نیلم ہی روٹھ جائے جو اس کی اصل شناخت ہے تو یہ وادی کیا منظر پیش کرے گی ؟۔اس کا سارا حسن برباد ہو جائے گا۔ ہنسی بستی آبادی ویران بیابان اور اجاڑ ہو جائے گی۔ وادی نیلم میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔ ان کی زندگی دریائے نیلم کے ساتھ چلتی ہے۔ اس کے پانی کے ساتھ وہ فصلیں وغیرہ اگاتے ہیں۔ یہ دریا ان کی زندگی کے لیے ایک بہت بڑی علامت ہے۔ وادی نیلم میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں۔ اسے ”نان مون سون“ وادی کہا جاتا ہے۔ اس وادی کا اکتالیس ہزار رقبہ دریائے نیلم سے سیراب ہوتا ہے۔ جہاں سے دریا کا رخ بدلا گیا وہاں سے دومیل 230کلومیٹر کا علاقہ ہے۔ ذرا تصور کریں اڑھائی سو دیہات پر مشتمل یہ علاقہ چند دنوں میں ایک بہتے دریا سے محروم ہو جائے گا !(جاری ہے)


ای پیپر