پاکستان کی طرح سعودی عرب کا بھی 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان
سورس:   فائل فوٹو
29 مارچ 2021 (18:33) 2021-03-29

اسلام آباد: سعودی عرب بھی پاکستان کے نقش قدم پر چل پڑا، سعودی و لی عہد محمد بن سلمان نے بھی 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے 10 بلین ٹری سونامی منصوبے کی دنیا بھر میں چرچے ہونے لگے اور اب دیگر ممالک بھی 10 ارب درختوں کے منصوبے شروع کرنے لگے ہیں۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے بھی 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو خط لکھا ہے اور سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کی جانب سے ملک میں 10 ارب اور خطے میں 50 ارب درخت لگانے کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا سعودی عرب اور پاکستان کے بلین ٹری سونامی پروگرام میں مماثلت ہے کیونکہ 2014 سے 2018 کے دوران ہم نے ایک ارب درخت لگائے جبکہ 2023ء تک 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ ہے اور اس اہم ترین منصوبے کو کامیاب کرنے کے لئے 15 فیصد زمینی اور 10 فیصد سمندری سطح پر پودے لگائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ منصوبے سے ایکو ٹورازم کو فروغ اور ملازمتیں پیدا ہوں گی اور 2030 تک 60 فیصد انرجی کو کلین انرجی پر شفٹ کر رہے ہیں۔ سولر، ہوا اور پانی سے بجلی بنانے کی صلاحیت کو بڑھا رہے ہیں جبکہ پاکستان سعودی عرب کے گرین منصوبے کی حمایت کرتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ بھی مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 21 دسمبر کو وزیراعظم عمران خان نے بلین ٹری ہنی پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا تھا جس کا مقصد دس ارب درخت لگانے کے سونامی پروگرام کے تحت ملک میں شجرکاری کا فروغ اور شہد کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

منصوبے سے 10 ہزار مگس بان کو روزگار ملے گا جبکہ 3 لاکھ کالونیز کے ذریعے 12 ہزار میٹرک ٹن سالانہ شہد ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں جدید طریقوں، تربیت کے ذریعے بتدریج 70 ہزار میٹرک ٹن تک اضافہ کیا جا سکے گا جس کی مالیت 35 سے 40 ارب روپے تک ہو گی جبکہ 80 ہزار تک روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم کا اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ملک میں جنگلات کے رقبے میں تیزی سے کمی ہوئی، ہمارے دریا بھی آلودہ ہو چکے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے شکار ممالک میں پاکستان کا پانچواں نمبر ہے جبکہ سندھ کا زیر زمین 70 فیصد پانی آلودہ ہے اور سردیوں میں لاہور کی فضاء بھی بہت زیادہ آلودہ ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خود اپنے ملک کی ماحولیات کا خیال رکھنا ہے اور سر سبز علاقوں میں درخت کاٹ کر عمارتیں کھڑی کی گئیں جبکہ آنیوالی نسلوں کو سر سبز پاکستان دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور دریائے روای کچرا پھینکنے کا مرکز بن چکا ہے۔ 

بشکریہ(نیو نیوز)


ای پیپر