Corona cases escalated to dangerous levels, Punjab decides to tighten micro-smart lockdown
کیپشن:   فائل فوٹو
29 مارچ 2021 (13:56) 2021-03-29

لاہور: حکومت پنجاب نے صوبے کے ایسے اضلاع جہاں کورونا کیسز کی تعداد 12 فیصد سے زائد ہوگی وہاں سخت مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پابندی کا اطلاق یکم اپریل سے 12 اپریل تک ہوگا۔ 

یہ اہم فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے دوران محکمہ صحت کے نمائندوں نے صوبے بھر میں کورونا کی صورتحال اور طبی سہولتوں کے بارے میں انھیں بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ صوبے میں کورونا کے کیسز میں اضافہ خطرناک ہے، اگر اس کا پھیلاؤ روکنا ہے تو سخت ترین سمارٹ لاک ڈاؤن ناگزیر ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا اطلاق ایسے شہروں اور علاقوں میں کیا جائے  گا جہاں کورونا وائرس بڑھنے کی شرح 12 فیصد یا اس سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

وزیراعلیٰ کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کی تمام مارکیٹوں کو شام 6 بجے بند کر دیا جائے گا۔ صبح کے اوقات میں دکانیں کھولنے پر ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی ہوگا، قانون کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں ہونگی جبکہ سخت جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

اجلاس میں طے پایا کہ تمام ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس کو صرف ٹیک اوے کی اجازت دی جائے گی۔ تمام پارکس بھی بند رہیں گے جبکہ تمام پارکوں اور عوامی مقامات کو بھی مکمل بند کر دیا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورونا وائرس سے عوام کو بچانا ضروری ہے لیکن معاشی سرگرمیوں کو بند نہیں کیا جا سکتا ،اس لئے تمام معاشی سرگرمیاں ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کے تحت جاری رہیں گی۔

اجلاس کے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ماس ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یکم اپریل سے شادی کی تقریبات پر مکمل پابندی ہوگی۔ یکم اپریل سے 12 فیصد سے زائد شرح والے اضلاع میں موثر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ہفتے میں دو دن دکانیں بند رہیں گی جبکہ انھیں صرف شام 6 بجے تک کھلی رہیں گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میرج ہال بند ہوں گے، اس کے علاوہ ان ڈور اور آؤٹ ڈور کسی جگہ بھی تقریبات نہیں ہوں گی۔ پارکس بند رکھے جائیں گے۔ میٹرو، سپیڈو بس اور اورنج ٹرین بھی بند رہے گی۔


ای پیپر