Sexual harassment case: Mesha Shafi could not produce any witnesses, FIA
کیپشن:   فائل فوٹو
29 مارچ 2021 (13:19) 2021-03-29

لاہور: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مشہور گلوکار علی ظفر پر ہراسگی کا الزام لگانے والی اداکارہ میشا شفیع ان کیخلاف کوئی بھی گواہ پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے یہ انکشاف خصوصی عدالت میں جنسی ہراسگی کیس کے ضمن میں جمع کرائے گئے چالان میں سامنے آیا ہے۔ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے عدالت میں میشا شفیو اور ان کے سمیت دیگر 9 لوگوں کیخلاف چالان جمع کرا دیا ہے۔

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے حتمی چالان میں جن 9 افراد کو شامل کیا ہے ان میں علی گل پیر، حمنہ رضا، سید فیضان رضا، فریحہ ایوب، حسیمس زمان، لینا غنی، ماہم جاوید، عفت عمر اور خود میشا شفیع شامل ہیں۔

قومی ادارے کی جانب سے حتمی چالان میں کہا گیا ہے کہ میشا شفیع کو طلب کرنے پر اپنا تو جواب جمع کرا دیا تھا لیکن وہ علی ظفر پر اپنے الزامات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی بھی گواہ پیش کرنے میں ناکام رہیں۔

ایف آئی اے کے چالان میں کہا گیا ہے کہ گلوکارہ میشا شفیع نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے علی ظفر کیخلاف جو ٹویٹ کیا تھا، وہ مفاد عامہ کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

حتمی چالان میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ ملزمہ حمنہ رضا کو بھی فیڈرل انوسٹی گیشن اتھارٹی (ایف آئی اے) نے بارہا طلب کیا لیکن اس کے باوجود وہ پیش نہ ہوئیں۔

فیڈرل انوسٹی گیشن کی جانب سے لاہور کی خصوصی عدالت میں جو حتمی چالان جمع کرایا گیا یے اس میں نامزد تمام 9 افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل بھی منسلک ہے۔

ایف آئی اے نے عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے چالان میں اپیل کی ہے کہ تمام ملزمان کیخلاف ٹرائل شروع کیا جائے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال میشا شفیع کیخلاف جو چالان جمع کرایا تھا اس میں واضح طور پر قرار دیا گیا تھا کہ معروف گلوکار علی ظفر کیخلاف مہم چلانے کی ذمہ دار ہیں۔


ای پیپر