Corona patients' pressure increased in all three major hospitals in Peshawar
کیپشن:   فائل فوٹو
29 مارچ 2021 (12:53) 2021-03-29

پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور کے تینوں بڑے ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کا دباؤ بڑھ گیا۔ لیڈی ریڈنگ، کےٹی ایچ، ایچ ایم سی میں کورونا مریضوں کیلئے مختص 83 فیصد بیڈ بھر گئے ہیں۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے 30 میں سے 29 وینٹی لیٹرز پر مریض زیر علاج ہیں۔

ادھر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں کورونا مریضوں کیلئے 15 سرکاری اور نجی ہسپتال مختص ہیں، ان میں سے تین ہسپتالوں میں آکسیجن بیڈز مکمل بھر چکے ہیں۔

ڈی ایچ او کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کورونا مریضوں کیلئے مختص چار ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز پر اس وقت مزیض موجود ہیں، مزید کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ سی ڈی اے ہسپتال میں 43 آکسیجن بیڈز میں سے 32 پر کورونا مریض موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں کورونا کیلئے مختص 653 آکسیجن بیڈز میں سے 389 پر مریض داخل ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں گزشتہ روز 856 کورونا مثبت کیس رپورٹ ہوئے جو ایک ہی روز میں آنے والے کیسز کی ریکارڈ تعداد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کورونا مریضوں کے لیے مختص وینٹی لیٹرز میں سے 47 دستیاب ہیں۔ بڑھتے کیسز پر پمز انتظامیہ نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ دوسری جانب رجسٹرڈ ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین کی دوسری ڈوز لگانا شروع کر دی گئی ہے۔ جن ہیلتھ کیئر ورکرز کی رجسٹریشن ہو چکی، ان کی ویکسی نیشن جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہیلتھ کئیر ورکرز کی ویکسین رجسٹریشن روک دی گئی ہے۔ ہیلتھ کیئر ورکرز کی ویکسین رجسٹریشن ایک ہفتے سے رکی ہوئی ہے کیونکہ طبی عملے کو رجسٹریشن کیلئے ڈیڑھ ماہ سے زیادہ وقت دیا گیا تھا، اب صرف صرف 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسین رجسٹریشن جاری ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر اسفندیار نے کہا ہے کہ پورے ملک میں ہیلتھ کیئر ورکرز کی رجسٹریشن بند کر دی گئی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

دوسری جانب ترجمان پولی کلینک ہسپتال کے مطابق ہمارے 72 نرسنگ سٹاف کو کورونا ہو چکا ہے۔ ہسپتال میں کورونا مریضوں کی تعداد بڑھنے کے باعث گنجائش کم ہو گئی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر تیسرا وارڈ بھی کھولتے ہوئے مزید 10 آکسیجن بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے۔


ای پیپر