Thousands of fake employees exposed in utility stores corporations
کیپشن:   فائل فوٹو
29 مارچ 2021 (12:26) 2021-03-29

اسلام آباد: یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشنز کی آڈٹ رپورٹ میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین کو بھرتی کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قومی ادارے کی بیالیس ریجنز میں 7662 اسامیوں پر اس وقت 9756 ملازمین ڈیوٹی کر رہے ہیں، ان کی تعداد دو ہزار سے زائد بنتی ہے۔

حکام نے اپنی آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کیخلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشنز ایک ایسا قومی ادارہ ہے جو پہلے سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے، اس پر 2094 ملازمین کا اضافی بوجھ ڈالںا اس کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

نجی میڈیا کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشنز میں دو ہزار سے زائد گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی تو کی گئی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ملازمین کون لوگ ہیں، ان کی تفصیلات منظر عام پر فی الحال نہیں لائی گئی ہیں۔

آڈیٹرز نے اپنی رپورٹ نے جعلی ملازمین کی بھرتیوں پر سخت ایکشن لینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشنز میں ایسے ملازمین کو بھرتی کرکے قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔ یہ انکشاف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ادارے کے حکام کا کنٹرول نہیں ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان ملازمین کو کچھ عرصہ سے نہیں بلکہ کئی سالوں سے لگاتار تنخواہوں کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ یہ تمام بھرتیاں غیر قانونی طور پر ریجنل دفاتر میں کی گئی تھیں۔

حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان گھوسٹ ملازمین کو ناصرف کنٹریکٹ پر بھرتی بلکہ بعد ازاں مستقل کرنے کا بھی جرم کیا گیا۔ ایسے ملازمین کو لاکھوں روپے کی تنخواہ کی مد میں ادائیگیاں ادارے کے اندر بے ضابطگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔


ای پیپر