Mushtaq Sohail, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
29 مارچ 2021 (11:46) 2021-03-29

مارچ کے ستم گر مہینے میں اوپر تلے دو حادثات ہوئے۔ یوسف رضا گیلانی کی ہار اور یوسف رضا گیلانی کی جیت۔ سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں گیلانی کی ہار نے پی ڈی ایم میں غلط فہمیوں کو جنم دیا جبکہ قائد حزب اختلاف کے انتخاب میں ان کی جیت نے اپوزیشن سیاست کا جنازہ نکال دیا۔ سیاست دفن، بابا جی سے پوچھا چیئرمین کے الیکشن میں گیلانی ہارے کیوں؟ بولے’’ قطار میں کئی نا بینا لوگ شامل تھے‘‘ سات نے مہر غلط لگا دی۔ پوچھا اس کے بعد جیتے کیسے؟ کہا وہ کہاں جیتے مفادات کی سیاست جیتی ہے۔ ایک دن پہلے کی صورتحال یہ تھی کہ ن لیگ کے ووٹ 28 پی پی کے 26، انتخاب کے دن پی پی کے 30، ن لیگ کے 21، انقلابات ہیں زمانے کے۔ پی ڈی ایم میں ٹوٹ پھوٹ، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ)، اے این پی، فاٹا اور آزاد گروپ کے 4 ارکان نے بھی گیلانی کو ووٹ دے دیے۔ مریم نواز نے کہا باپ نے باپ کے کہنے پر گیلانی کو ووٹ دیے۔ جماعت اسلامی سدا سے غیر جانبدار اپنا راستہ اپنائے ہوئے لیکن بلاول کی ایک ملاقات رنگ لے آئی اور اس کا ایک ووٹ جھونگے میں مل گیا۔ ن لیگ ایک بار پھر شور مچاتی رہ گئی۔ اسے جے یو آئی پر تکیہ تھا لیکن اس کے پانچ سینیٹر لا تعلق رہے رانا ثناء اللہ نے مونچھوں پر تائو دیتے ہوئے کہا چیئرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر دونوں سلیکٹڈ گیلانی نے کہا اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلوں گا۔ کون سی اپوزیشن جو مرحوم ہوچکی؟ دونوں بڑی جماعتوں کی راہیں جدا، طعن و تشنیع جاری شیخ رشید نے کہا ن لیگ پھر پیپلز پارٹی کے ہاتھوں ذبح ہوگئی۔ منڈیروں پر تاک میں بیٹھے معاونین خصوصی نے فوراً ہانک لگائی پی ڈی ایم کی سیاست کا دور لد گیا۔ ’’یہ سانحہ تو کسی دن گزرنے والا تھا‘‘ ذمہ دار کون؟ رانگ ٹرن کس نے لیا جنکشن پر پہنچنے سے پہلے پٹڑی کس نے بدلی کیوں بدلی؟ ٹریک تبدیل کرلیا گیا حادثہ تو ہونا تھا لانگ مارچ عدم اعتماد کی تحریک استعفے سب دھرے رہ گئے۔ دھرنے کا خواب ادھورا، چلے تھے نظام بدلنے اپنا نظم و نسق بگاڑ بیٹھے، پی ڈی ایم کی سیاست تمت بالخیر، اپوزیشن جماعتوں نے اپنی حماقتوں سے حکومت کے لیے آسانیاں فراہم کردیں۔ اللہ تعالیٰ ایسی اپوزیشن ہر حکومت کو دے پی ٹی آئی والوں کے چہرے کھل اٹھے مولانا فضل الرحمان مسکرانا بھول گئے۔ چہرے پر پت جھڑ کا موسم چھا گیا۔ ٹوٹ پھوٹ کی ابتدا گرم سرد چشیدہ سیاستدان آصف زرداری کے خطاب سے ہوئی جس میں انہوں نے استعفوں کے آپشن کو نواز شریف کی واپسی سے مشروط کر کے حکومتی ایوانوں میں مسرت کی لہر دوڑا دی، لگتاتھا واپسی کا ٹاسک پی پی کو مل گیا ہے۔ لائن کہاں سے آئی کس نے دی؟ پتا نہیں۔ ٹریک بدل گیا۔ بڑے کہا کرتے تھے کچھ کہنے سے پہلے سو بار سوچو، حضرت نے ایک بار بھی نہ سوچا اور جھٹ سے شطرنج کی پوری چال الٹ دی۔ ایسا کیوں ہوا؟ کسی پرانے آشنا سے رابطوں کی تجدید کی گئی بند دروازہ کھولنے کی کوشش تھی یا کسی کے کہنے پر پوری اپوزیشن سیاست کو چار کندھوں پر دفن کردیا گیا۔ ایک صاحب نے پوری کہانی واٹس ایپ پر بھیجی ،دروغ بر گردن راوی ’’ پیپلز پارٹی باوجود ہاتھ پائوں مارنے کے 

پنجاب میں ابھی تک فیس سیونگ حاصل نہیں کرسکی عدم اعتماد کی تحریک کے لیے نمبرز پورے نہیں۔ ن لیگ کے بغیر تحریک کی کامیابی ممکن ہی نہیں، جانتی ہے کبھی کامیاب نہیں ہوگی دھرنوں لانگ مارچ اور ریلیوں سے کچھ حاصل نہ ہوگا اس لیے استعفے لیں گے نہ دیں گے تین استعفوں کا مطالبہ پہلے مرحلے میں دفن کردیا گیا۔ پی ڈی ایم کے ہر سربراہی اجلاس میں شریک رہی لیکن کوئی ٹھوس فیصلہ سے گریزاں، اجلاس کے بعد فیصلے غائب، سوچا مائی باپوں سے رابطوں کے بغیر چارہ نہیں، اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی اس میں سوئس کیس کھولنے کی سفارش کی گئی۔ یہیں سے پٹڑی بدلنے کا خیال دل و دماغ میں سمایا۔ منی لانڈرنگ کا عذاب پہلے سے مسلط، طبی بنیادوں پر ضمانت بڑی مشکل اور بڑی دیر میں منظور ہوئی۔ نئی افتاد نے پریشان کردیا۔ بلیک میلنگ تھی یا مجبوری جگنوئوں نے تاریکی میں راہ دکھائی اور انہوں نے سب کچھ دائو پر لگا کر ایسی شرط عائد کردی جس کا سارے فسانے میں کہیں ذکر نہ تھا‘‘۔ پی ڈی ایم کے کسی رہنما سے مشورہ کیا گیا؟ ہر گز نہیں پھر کہانی الجھانے کی کیا ضرورت تھی۔ اس منطق کو ’’وہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے، رانگ ٹرن نے باہمی اختلافات کو جنم دیا۔ بچکانہ سیاست شروع ہوگئی۔ بلاول بھٹو نے جلتی پر تیل چھڑکا کہا کہ سلیکٹ ہونا ہمارے خون میں شامل نہیں، البتہ لاہور کا ایک سیاسی خاندان سلیکٹ ہوتا رہا ہے اشارہ کس طرف تھا سب جانتے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سنجیدہ مزاج لیڈروں نے اس پر تبصروں سے گریز کیا۔ ن لیگ نے جواب دینے میں انتہائی احتیاط برتی لیکن چند بیانات نے پی ڈی ایم کی جماعتوں کی آنکھوں میں ریت بھردی، سیاسی اتحاد میں شامل ساری جماعتیں انفرادی سوچ کے تحت مرضی کے فیصلے کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ سچ پوچھیے تو جان بوجھ کر شیرازہ بکھیرا گیا جس سے کچھ حاصل نہیں ہوا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے مولانا فضل الرحمان کی رفوگری، بلاول بھٹو کی مرہم پٹی اور یوسف رضا گیلانی کے ہومیو پیتھک نسخے بیکار ثابت ہوئے مولانا چاروں طرف مایوسیوں کے ہجوم میں گھرے ہونے کے باوجود مایوس نہیں کہنے لگے پی ڈی ایم متحد ہے کسی کو دخل اندازی کی ضرورت نہیں حضرت مولانا دخل اندازی روکتے رہے جبکہ پی ڈی ایم میں در اندازی کر کے صفیں منتشر کردی گئیں۔ پی ڈی ایم میں دراڑ نہیں پڑی۔ بنیادیں ڈھے گئی ہیں پی پی نے جو حاصل کرنا تھا وہ وقتی طور پر حاصل کرلیا۔ لیکن اس تمام پریکٹس اور ایکسرسائز میں وہ آئندہ دنوں میں سیاسی تنہائی کا شکار ہونے سے نہیں بچ پائے گی۔ سیاست گھنائونی سازشوں کا کھیل رہی لیکن اس میں بھی اعتبار اور اعتماد کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اعتبار نہ رہے تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ اعتماد ختم ہوجائے تو اتحاد کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں سیاست کے ریگستانوں میں دوڑیں لگانے والوں کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ اب تک اپوزیشن نے جن ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اس کی بنیادی وجہ اعتبار اور اعتماد تھا دس یا گیارہ جماعتوں نے اپنے اتحاد سے مخالف امیدوار کو گھر کی راہ دکھائی اس اتحاد کو بد قسمتی سے خود اپوزیشن کے سیانے بیانے سیاستدانوں نے تباہ کیا ہے جس کے بعد کامیابی اپوزیشن سے روٹھ جائے گی۔ یہ بھی خام خیالی ہے کہ ’’آسمانی رابطوں‘‘ سے آنے والی بلائیں ٹل جائیں گی۔ گناہ کسی کے معاف نہیں ہوں گے۔ اپوزیشن کا واسطہ بڑے ضدی اور انا پرست شخص سے پڑا ہے۔ جسے آسان ہدف سمجھنا سراسر حماقت اور واقعی بچکانہ سوچ ہے۔ اسلام آباد میں حالات کا خورد بین سے جائزہ لینے والے ایک تجزیہ کار کی بات دل کو لگتی ہے کہ سینیٹ الیکشن سے نمٹنے کے بعد کہانی ختم نہیں ہوئی ایک سیاسی شخصیت کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اتحاد کا بھی بندوبست کرلیا گیا ہے۔ سینیٹ کے بعد اس بندوبست میں بھی جیت امپائر کی ہوگی۔ تجزیہ کار کے مطابق پی ڈی ایم میں شامل اکثر جماعتوں کے مطالبہ کے باوجود پیپلز پارٹی نے جس طرح استعفوں کے آپشن کو مسترد کردیا اور پی ڈی ایم کے فیصلے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں میں پھوٹ ڈلوا کر اپنا قائد اپوزیشن منتخب کرایا لگتا ہے کہ باہمی تقسیم اور انفرادی مفادات سے جہاں اپوزیشن سیاست دفن ہوگئی وہاں ہمیشہ کی طرح امپائر جیت گئے۔ سو بات کی ایک بات جب تک سیاست پر ذاتی مفادات غالب رہیں گے کوئی اتحاد کامیاب ہوگا نہ کسی معاملہ میں سرخروئی حاصل ہوگی۔ حیرت عقل مندوں کی سمجھ پر ہے کہ جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے اور وہ وفاق اور پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔


ای پیپر