Dr Ibrahim Mughal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
29 مارچ 2021 (11:43) 2021-03-29

قا رئین کرا م ، جیسا کہ عنوا ن سے ظا ہر ہے ،آ ج کا کا لم دو مختلف مضا مین پر مشتمل ہے۔ تو پہلے با ت کر لیتے ہیں، ’تجاوزا ت کے نا م پر حکو متی ادا رو ں کی نا جا ئز کا رروا ئی‘کی۔بات کچھ یو ں ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کا معاشرہ ایک نظم و ضبط کے تحت چلتا ہے۔ عوام الناس کو اس نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے قوانین وضع کئے جاتے ہیں اور ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ ان قوانین پر عمل کیا جائے۔عوام کو ز مینی جا ئید اد کی فرا ہمی اور اس کے جا ئز استعما ل کے با رے میں عوا م کو آگا ہ کر نا حکو مت کی بنیا دی ذمہ داری ہو تی ہے۔چنانچہ عوام کو زمین و جائیداد کی الاٹمنٹ اور اس کے رہائشی یا کاروباری لحاظ سے تعمیر پر جائیداد کے امور سے منسلک ادارے مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ ان اداروں کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ دیکھتے رہیں کہ کوئی شخص یا کوئی پارٹی کسی دوسرے شخص یا پارٹی یا گورنمنٹ کی جائیداد پر ناجائز طور پر قابض ہونے اور اس پر ناجائز طور پر عمارت اٹھانے کی مرتکب تو نہیں ہورہا۔ حکومت کے جائیداد سے منسلک اداروں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کسی جائیداد پر ناجائز تعمیر کو روزِ اول ہی سے روک دیں۔ لیکن اس کے برعکس وطن عزیز میں دیکھنے میں آرہا ہے کہ جب کسی ایسی عمارت کی تعمیر ہورہی ہوتی ہے تو ریاستی ادارے گویا ستو پی کر سو رہے ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ سالہا سال بیت جاتے ہیں اور پھر ان عمارتوں کو آگے سے آگے فروخت بھی کیا جاچکا ہوتا ہے اور ان میں کاروبار شروع ہوچکا ہوتا ہے کہ ایک روز یہ ادارے بڑے بڑے دیوہیکل بلڈوزروں کے ساتھ وارد ہوتے ہیں اور کوئی التجا قبول کیے بغیر ان عمارتوں کو زمین بوس کرکے یہ جا اور وہ جا ہوجاتے ہیں۔ قارئین کرام! کہیں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ لاہور میں واپڈا ٹائون کو جانے والی پی آئی اے روڈ پر سفر کریں تو آپ کو اس طرح کی عمارتوں کی منہدمی سے واسطہ پڑے گا۔ قابل غور اور قابل افسوس سوال یہ ہے کہ جب ان جائیدادوں کی ناجائز خرید وفروخت ہورہی ہوتی ہے تو یہ سب ان اداروں کے علم میں ہوتا ہے۔ مگر ان اداروں کے انسپکٹرز اور دیگر ملازمین اس جانب سے اپنے مخصوص مفادات کے تحت آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان جائیدادوں کے سبھی مالکان جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے۔ وہ یہ جائیدادیں خرید کرتے وقت کسی دھوکہ دہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مگر حکومتی ادارے تب انہیں کیوں متنبہ نہیں کرتے؟ حکومتی اداروں کا اس دوران آنکھیں بند رکھنا بذات خود ایک جرم ہے۔ اس سلسلے میں راقم الحروف ملک کی قابل احترام عد لیہ سے درخواست کرتا ہے کہ حکومتی اداروں کی اس طرح کی مجرمانہ کارروائی کا سخت نوٹس لے۔ 

اب با ت کر تے ہیں کا لم کے دو سرے حصے کی جو بلد یا تی ادارو ں کی بحا لی کے با رے میں ہے۔اس سلسلے میں کہنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کردیا ہے۔ تین رکنی بینچ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ یقینا یہ ایک اہم، بڑا اور صائب فیصلہ ہے جس کے صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام اور بلدیاتی اداروں کے معاملات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ بلدیاتی نظام کئی طرح سے قومی و صوبائی حکومتوں کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ گلی محلے کے مسائل مقامی سطح پر حل کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ قومی و صوبائی سطح پر آزمودہ اور تجربہ کار سیاست دان مہیا کرنے کے لیے ایک نرسری کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کی میعاد دسمبر 2021ء تک تھی، لیکن 2018ء کے عام انتخابات کے بعد نومنتخب صوبائی حکومت نے بلدیاتی ادارے تحلیل کرکے ایک سال میں الیکشن کرانے کا وقت دیا او رکہا تھا کہ اس دوران بلدیاتی نظام میں اصلاحات لائی جائیں گی، لیکن ایک سال گزرنے کے بعد نئی ترمیم کی گئی اور پھر آرڈیننس جاری کردیا گیا، بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جاسکے۔ بلدیاتی اداروں کو پارلیمانی نظامِ حکومت کا ناگزیر حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا کام قانون سازی ہے جبکہ نچلی سطح پر ترقیاتی کام کرانا او رلوگوں کے مسائل حل کرنا بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری، لیکن ہمارے ملک میں جہاں دیگر بہت سے معاملات الٹ پلٹ ہوچکے ہیں، وہاں قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کی ذمہ داریاں بھی گڈمڈ ہوچکی ہیں یا کردی گئی ہیں۔ اب ترقیاتی کام ایم این ایز اور ایم پی ایز کراتے ہیں اور بلدیاتی اداروں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ہمارے سیاسی رہنما باتیں تو جمہور اور جمہوریت کی کرتے ہیں لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی پارٹیوں میں کبھی الیکشن کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی، جمہوری نظام میں جو ناگزیر ہیں، ہمیشہ سلیکشن ہی کی جاتی ہے حتیٰ کہ جو پارٹی بھی برسرِ اقتدار آتی ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ بلدیاتی ادارے موجود نہ ہوں۔ دور کیا جانا، گزشتہ دورِ حکومت میں جس طرح بلدیاتی انتخابات کو مختلف بہانے بنا کر ٹالا جاتا رہا ، اس سے کون آگاہ نہ ہوگا۔ اور یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی مانند عیاں ہے کہ بالآخر عدالتی حکم پر اس وقت کے حکمران بادلِ نخواستہ بلدیاتی انتخابات کرانے پر راضی ہوئے تھے۔ عدالتی حکم نہ آتا تو شاید ان بلدیاتی اداروں کا وجود ہی نہ ہوتا۔ برسرِ اقتدار آنے کے بعد تحریکِ انصاف کی حکومت نے جن کو برخاست کرنا ضروری سمجھا اور پھر وعدے کے مطابق نہ تو بلدیاتی نظام میں اصلاحات کی جاسکیں اور نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرائے جاسکے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بلدیاتی اصلاحات لانے کے بعد بھی تو بلدیاتی اداروں کو توڑا جاسکتا تھا۔ اصلاحات کے لیے ادارے برخاست کرنا کیوں ضروری تھا؟ بہرحال اس فیصلے اور وقت کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے برسرِ اقتدار آنے والوں کو بلدیاتی اداروں کی مخالفت ترک کرنا ہوگی کیونکہ یہ عوام دوستی نہیں۔ بلدیاتی ادارے اس نظام کا حصہ ہیں۔ ان کی غیرموجودگی نظام کو نامکمل رکھتی ہے جبکہ ایک نامکمل نظام مکمل، جامع اور عوام کی توقعات کے مطابق نتائج کبھی نہیں دے سکتا۔ ضروری نہیں کہ اس نظام کی بحالی یا بلدیاتی الیکشن کرانے کے لیے ہر بار معزز عدالت ہی حکم جاری کرے، اس سلسلے میں حکمرانوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس و ادراک کرنا چاہیے۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی پارٹی کو برسرِ اقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے بلدیاتی اداروں پر توجہ مبذول کرتے ہوئے ان کی حالت بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام کے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوسکے۔ عوام کے ساتھ ساتھ حکمران بھی مہنگائی پر پریشان نظر آتے ہیں۔ ذرا سوچئے! بلدیاتی اداروں سے بڑھ کر مہنگائی کے مسئلے کا کوئی حل ہوسکتا ہے؟


ای پیپر