Sumera Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
29 مارچ 2021 (11:30) 2021-03-29

وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کی دیرینہ محرومیوں کے ازالے کے لئے سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا۔ سردار عثمان بزدار کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔ محب وطن پاکستانی، فعال سیاستدان اور نیک سیرت انسان ہیں۔ سردار عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب جملہ بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بجا طور پر اس حقیقت پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم جانتے ہیں کہ عثمان بزدار پنجاب کی عوام کی بے لوث اور بلا امتیاز خدمت کر سکتے ہیں۔ خصوصاً جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو دور کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ہیں۔

آج جنوبی پنجاب میں پچاس فیصد سے زیادہ ترقیاقی کام ہو چکے ہیں، باقی آخری مراحل میں ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کا 35% بجٹ اپ گریڈکیا گیا۔ جنوبی پنجاب میں تین ڈویژن، ملتان، ڈی جی خان اور بہاولپور شامل ہیں جس میں گیارہ ڈسٹرکٹ ملتان، وہاڑی، مظفر گڑھ، لودھراں، خانیوال، ڈی جی خان، لیہ، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے علاقہ جات شامل ہیں۔ ڈی جی خان میں گزشتہ سال میں وزیر اعلیٰ انیشیٹوز پروگرام کے تحت 98جاری سمیت 101منصوبوں کا 53890.3 ملین روپے کا تخمیہ لگایا گیا۔ اسی طرح مجموعی طور پر 52 فیصد ترقیاتی کام مکمل کیا گیا ہے۔ اے ڈی پی کے تحت ضلع ڈیرہ غازی خان میں 203 منصوبوں میں سے 24 مکمل کر لیے گئے اور 9 پر کام جاری ہے۔ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ضلع میں 74 میں سے آٹھ منصوبے مکمل کر لیے گئے 56 پر کام جاری ہے۔

نیا پاکستان منزلیں آسان کے فیزI کے تحت 9 منصوبوں کے لیے 618 ملین روپے مختص کئے گئے 345 ملین روپے خرچ کر کے 75فیصد کام مکمل کیا گیا ہے۔ جبکہ ڈیرہ غازی، مظفر گڑھ دو رویہ سڑک 13375ملین روپے کی لاگت سے تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اسی طرح ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پناہ گاہ قائم کی گئی ہے۔ فلڈ لائٹ کرکٹ گراؤنڈ ڈیرہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جس کا وزیر اعلیٰ بہت جلد افتتاح کریں گے۔ 199.5 ملین روپے مالیتی تونسہ سٹی پیکیج کے تحت آٹھ رابطہ سڑکوں کی تعمیر جاری ہے جو 26اپریل 2021 تک مکمل کر لی جائیں گی۔ تونسہ کی خوبصورتی، سٹریٹ لائٹس، ٹف ٹائلز، سیوریج، واٹر سپلائی کے منصوبے پر جلد کام شروع ہو گا جس پر 180ملین روپے خرچ ہونگے۔ پولیس سٹیشن سٹی تونسہ کی تعمیر پر 135.5ملین، تحصیل کمپلیکس پر 106.1ملین روپے خرچ ہوں گے۔ جسڈ 22 تا انڈس ہائی وے سڑک کی تعمیر پر 391.1ملین روپے خرچ ہوئے جو کہ 27کلو میٹر ہے۔ میر چا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ڈی جی خان کا قیام عمل میں لایا گیا، ساتھ ہی 5کروڑ کی لاگت سے سیٹلائٹ سنٹر کا قیام اور موبائل وین ڈسپنسری ضلع راجن پور میں 200بستروں کے ماں اور بچے کی صحت کے ہسپتال اور نرسنگ کالج کا قیام جس پر 4000 ملین روپے خرچ ہوئے۔

محمد پور دیوان میں گرلز ڈگری کالج تکمیل کے آخر ی مراحل میں ہے۔ راجن پور میں کرکٹ گراؤنڈ روجھان میں فٹ بال گراؤنڈ کی تعمیر جاری ہے۔ ضلع لیہ میں 16ارب 33 کروڑ47 روپے کی لاگت کیکل ترقیاتی سکمیں 70 ہیں جن میں سے 16سکیمیں پبلک ہیلتھ، 6سپورٹس، 4 محکمہ انہار، ایک ہائر ایجوکیشن، 42سکیمیں 40کروڑ کی لاگت سے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ہیں۔ ضلع مظفر گڑھ میں 120ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جس پر ایک ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ جنوبی پنجاب کے دوسرے ڈویژن ملتان میں مختلف سکمیوں پر کام جاری ہے۔ سب سے پہلے ضلع ملتان میں 684 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10ارب 68کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جن میں اب تک 2 ارب 78 کروڑ روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔ نیا پاکستان منزلیں آسان پروگرام کے تحت 70 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے جن میں کچھ بڑے پراجیکٹ آخری مراحل میں اور افتتاح کے لیے تیار ہیں۔

چودھری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان کی توسیع کے لئے 2ارب لاگت سے منصوبہ شروع اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی تعمیر پر 1 ارب 10 کروڑ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ یہ مدتوں منصوبے جون 2020 میں مکمل کر لیے جائیں گے۔ 60 بستروں پر مشتمل 6000 ملین روپے کی لاگت سے نشتر II ہسپتال قائم کیا جا رہا ہے جس پر کام جاری ہے۔ 7 ماڈل سکول کا قیام ہوا ہے، ایک ڈے کیئر سنٹر کا قیام عمل میں آیا ہے۔

ضلع وہاڑی میں 10بوائز ہائی سکولوں کی اپ گریڈیشن کا کام جاری ہے، سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز پر 30کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں، واٹر سپلائی اینڈ سینٹی ٹیشن پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ضلع وہاڑی میں سے یرات پر 8ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ 45 ملین روپے کے سپیشل ایجوکیشن سنٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ محکمہ آبپاشی اور اوقاف و مذہبی امور پر 5ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں کام آخری مراحل میں ہیں۔

ضلع خانیوال میں 20 ارب 48 کروڑ 50لاکھ روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ایجوکیشن سیکٹر میں 36کروڑ، ہیلتھ سیکٹر میں 73کروڑ، روڈ سیکٹر میں 13ارب، سپورٹس اینڈ یوتھ افیئر سیکٹر میں 50کروڑ 75لاکھ، بلڈ نگز سیکٹر ایک ارب 40کروڑ، اپریکٹس سیکٹر میں 54کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ نیا پاکستان منزلیں آسان کے تحت ضلع بھر میں 6نئی سٹرکوں کی تعمیر کی گئی ہے۔ ضلع لودھراں میں واٹر سپلائی کی 10سکیموں پر 358.9ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اسی طرح مجموعی طور پر 25 جاری سکیموں پر 12191.48 ملین روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ 8 سکیمیں مکمل اور 80فیصد فنڈز استعمال ہو چکے ہیں۔ 

جنوبی پنجاب کا تیسر ا ڈویژن بہاولپور ہے جس میں تین ڈسٹرکٹ بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان شامل ہیں۔ ضلع بہاولپور میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20 کا تخمیہ 48978.7 ملین روپے ہے، سکول ایجوکیشن کی 13ترقیاتی سکیموں پر 1453.5ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ سڑکوں کی 71 سکیموں پر 9916.5  ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی 12ترقیاتی سکیموں پر 8203.3 ملین روپے خرچ ہوئے۔

یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز کی تعمیر پر 3290ملین روپے خرچ ہوئے۔ ڈبل ڈیکر بس بہاولپور کے لئے 300 ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ خواتین کے لئے کرکٹ گراؤنڈ پر 21.9ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں تھلیسیما یونٹ اور واٹر سپلائی سنٹر پر 710.9 ملین روپے خرچ ہوئے اور سردار عثمان بزدار اس کو فنکشنل کرنے کے لیے مزید 90 کروڑ کی گرانٹ دے رہے ہیں۔ ضلع بہاولنگر میں میڈیکل کالج بہاولنگر کے قیام پر 1726.79 ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اریگیشن کے پانچ منصوبوں پر 4197.9 ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

ضلع رحیم یار خان میں 5کالجز کی تعمیر پر 700ملین روپے خرچ ہوئے ہیں یعنی ایک کالج میں 20ہزار بچے داخل ہوں تو ایک لاکھ لڑکے، لڑکیاں علم کے زیور سے آراستہ ہونگے اور خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی فیزII ضلع رحیم یار خان پر کام جاری ہے۔ جس پر 200ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ضلع رحیم یار خان میں کرکٹ، کبڈی، والی بال گراؤنڈ کی تعمیر پر 74.75 ملین روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

اس طرح آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے 11ڈسٹرکٹ میں کام زور و شور سے جاری اور اپنے آخری مراحل میں ہے جس کا کریڈٹ سردار عثمان بزدار کو جاتا ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں جنوبی پنجاب کا خطہ، اب یہاں لائی جانے والی ترقی و خوشحالی اور لوگوں کے بلند ہوتے ہوئے معیار زندگی کے اعتبار سے ترقیاتی اور تعمیراتی حسن کے ساتھ نکھر رہا ہے۔

پنجاب صوبے کی تاریخ میں پہلی بار جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع میں یکساں طور پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس سچائی کی غماز ہے کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ جنوبی پنجاب کے 11ڈسٹرکٹ میں ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ جن سے عوام ریلیف حاصل کر رہے ہیں۔ منصوبہ جات تیزی سے ترقی کے تکمیل کے مراحل میں ہیں اور متعدد منصوبوں پر زور وشور سے کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان کے ان اقدامات، گرانقدر کاوشوں اور لازوال کارکردگی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ آئے دن یہ خبریں میڈیا کی زینت بنتی ہے کہ عثمان بزدار کو تبدیل کیا جا رہا ہے مگر عمران خان کا ایک فیصلہ ہے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ہی رہیں گے اور لوگوں کے لبوں پر جملہ تحسین بے اختیار مچل رہا ہے۔


ای پیپر