کرونا سے محفوظ ملک میں وزیراعظم کو کرونا؟
29 مارچ 2021 2021-03-29

وزیراعظم جناب عمران خان اور موجودہ بیگم اول، حقیقتاً بیگم سوم کی یہ خبرکہ وہ کرونا میں مبتلا ہوگئے ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں پھیل گئی، اور یہ خبرسن کردنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان مملکت، برطانیہ، سری لنکا، وغیرہ اور نریندرمودی نے عمران خان کے لیے خیر سگالی اور خصوصی دعا کی، ویسے ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان نے بھارتی الیکشن میں مودی کے لیے دعا کی تھی ، کہ اللہ کرے انتخاب میں نریندر مودی آجائے، کیونکہ ان کے آنے سے مسئلہ کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا مسئلہ کشمیر تو ایک علیحدہ تحریر کا متقاضی ہے۔ 

فی الحال تو ہمارا مقصود جناب عمران خان کےلئے دعائے صحت کرنا ،اور قارئین سے کرانا سرفہرست ہے، ویسے اب تک تو ہم نے تحریک انصاف کے سارے اکابرین، اور درجنوں معاون خصوصی صاحبان کو بغلیں بجاتے، بلکہ ناقدین کی پگڑیاں اچھالتے دیکھا ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے کہ جہاں کرونا پہ قابو پایا جاچکا ہے، اور کرونا سے اموات خصوصاً بھارت سے بہت کم ہے، اور اس پہ اتراتے اتراتے حکومتی وزراءخصوصاً سابق وزیر ریلوے شیخ رشید بھی کرونا کا شکار ہوگئے تھے، اور صحت یابی کے بعد انہوں نے دہائیاں دی تھیں، کہ وزیرہونے، اور وزیراعظم کے بہت ہی قریب ہونے کے باوجود مجھے کرونا کی ادویات، اور ویکسین دستیاب نہیں تھی، اور بہت ہی مشکل اورسفارشوں کے بعد کہیں اللہ اللہ انہیں ادویات دستیاب ہوئیں، اور پھر انہوں نے کہا کہ اگر مجھے ادویات دستیاب نہیں، تو عوام کو کس طرح یہ دستیاب ہوسکتی ہیں۔ اب وزیراعظم کو ان کی اہلیہ کو قرنطینہ میں چلے جانے پر بھی وہ کہتے ہیں، کہ میں بھی اب آج ہی ویکسین لگوالوں گا، ویسے آپس کی بات ہے، شیخ رشید احمد کی صرف دھمکیوں، بازو کی قمیض کی کفیں اوپر کرلینے نیم دراز ہوکر سگریٹ، اور سگار کے لمبے لمبے کش لینے منہ اوپر کرکے سگار کے کش کو پھونکنے اور اداکارانہ انداز میں لمبی دیرتک اوں اوں کرنے سے، سیاسی مخالفین بلکہ مولانا فضل الرحمان جیسے دشمان کو لمحہ بھر کے لیے بھی غمزہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ شیخ رشید احمد متضاد کا لفظ تومیں استعمال نہیں کرتا، مگر اندر سے وہ بہت ہی نرم ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا، تو وہ ہرحکومت میں شامل ہونے کے باوجود مولانا فضل الرحمان کو یہ نہیں کہتے کہ مولانا فضل الرحمان ہرحکومت میں شامل ہوتے ہیں، اور پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے، کہ مولانا کو میں جب وہ لانگ مارچ کرکے اسلام آباد یا پنڈی پہنچیں گے تو میں ان کی خدمت میں کشمیری چائے پیش کروں گا، اگر مولانانے واقعی کشمیری چائے مانگ لی، تو وزیرداخلہ کیا جواب دیں گے ؟ ہمارے وزیراعظم بھی تو برملا شہباز شریف اور دیگراپوزیشن رہنماﺅں کو کہتے ہیں، بلکہ کہتے تھے، کہ مخالفین میرے خلاف لانگ مارچ کریں ، تو میں ان کو کنٹینر بھی دوں گا اور کھانا بھی، اور اسی ڈرسے کہیں خواجہ آصف حقیقت میں واقعی کہیں مارچ نہ کردیں، تو انہوں نے ”احتیاطاً“ خواجہ آصف اور شہباز شریف دونوں کو اندر کرکے، فیاض الحسن چوہان کو وزیر جیل خانہ جات بناکر تسلی کرلی، اور اطمینان کا سانس لیا، مگر مولانافضل الرحمان کو پتہ نہیں کیوں، وہ جیل میں ابھی تک نہیں پہنچا سکے، نیب کو تو مولانا فضل الرحمن نے سرعام کہا ہے، کہ نیب کی یہ جرا¿ت نہیں، کہ وہ مجھے بلاسکے۔ 

جہاں تک مریم نواز کا تعلق ہے، تو انہیں بھی پچھلی دفعہ نیب بلانے کے باوجود نیب کے دفتر کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے کہیں دفتر میں کارکن بھی اندر داخل ہوکر نیب کے دفتر کا حلیہ ہی نہ بدل دیں، اندر نہ آنے دیا، اور یوں خاصا عرصہ خاموشی چھا گئی تھی، مگرچونکہ خواہش اسیران سیاسی دشمنان وطن اندر ہی چنگاری سے شعلہ بن چکی ہے لہٰذا مریم نواز، احسن اقبال کو باہر دیکھنا، اور عظمیٰ بخاری کا تنک تنک کر بولنا، اور ان کا اعدادوشمار ، اور سیاق وسباق سے بولنا بھی امتحان صبر درگزر حاکم ہے۔ 

آخر میں، میں کرونا کے حوالے سے اتنا عرض کروں گا، کہ بیماری شفا، رزق، دولت ، اولاد وغیرہ سب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اختیار میں ہے، کبھی وہ عزت وذلت سے آزماتاہے اور کبھی وہ بیماری اور صحت کاملہ وآجلہ سے بھی آزماتا ہے، ایک ہی دوائی ہوتی ہے جس سے کوئی مریض صحت یاب ہوجاتا ہے، اور اسی دوائی سے کسی مریض کو ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا، کرونا سے پاکستان اگر بچا ہوا تھا تو وہ محض اور محض رحمت خداوندی کی وجہ سے تھا، نہ کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے، وزیراعظم کے خصوصی مشیر اور شوکت خانم کے مدیر فیصل سلطان کو میں اس وقت سے جانتا ہوں، جب وہ پڑھائی کیلئے امریکہ گئے تھے کیونکہ ان کے والد بزرگوار جناب ریٹائرڈ کموڈور سلطان صاحب، جب ڈائریکٹر جنرل سول اتھارٹی لگے تھے، میرے انتہائی قریبی دوست تھے، بہرحال کہنا یہ مقصود یہ تھا کہ فیصل سلطان جیسے تجربہ کار ڈاکٹر کی نگہداشت کے باوجود جناب عمران خان کو کرونا کیوں ہوا، اور وہ بھی ویکسین لگوا کر، اسی لیے تو مولانا فضل الرحمن نےعمران خان سے دعائے صحت کے بعد کہا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد کرونا ہوجانا، کیا ویکسین فراڈ ہے یا کرونا فراڈ ہے؟ کیونکہ خاتون اول بھی اس میں مبتلا ہوگئی ہیں، مجھے علامہ اقبال ؒ یاد آگئے، جن کا فرمان ہے، کہ 

یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے، کہ اس نے 

بجلی کے چراغوں سے منور کئے افکار!!!

قارئین اگر اس موقعے پہ یہ شعر لکھنا سمجھ نہ آئے تو مجھ سے پوچھ لیں ۔


ای پیپر