اسد عمر صاحب! روپے کو چلنے دیں
29 مارچ 2019 2019-03-29

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی ابھی تک اسی سٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں جو حکومت سے پہلے تھی۔ عمران خان صاحب کو ان کی اہلیہ خاتون اول بشریٰ بی بی نے غالباً ایک سے زائد مرتبہ بتایا بھی ہے کہ اب وہ وزیراعظم ہیں مگر ان کے بیانات اور خطابات ظاہر کر رہے ہیں کہ انہیں بار بار بتانے کی ضرورت ہے۔ وہ سیاسی خطاب کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ اپوزیشن میں ہیں اور جب وہ ملکی مسائل پر بات کرتے ہیں تو حکومت کی بجائے کسی این جی او کے سربراہ لگتے ہیں جو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے اپنا مفاد پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔

وہ سمجھتے ہیں کہ قوم کوانڈے ، مرغیاں اور بکریاں دے کر خوشحال بنایا جا سکتا ہے اوراس کے لئے ایک غربت مٹاو پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام اسی طرح پہلے سے موجود انکم سپورٹ پروگرام، بیت المال اور سوشل ویلفئیر کے ایک سو ارب روپوں سے زائد بجٹ کا نیا نام ہے جس طرح پنجاب میں صحت کارڈ کو پی ٹی آئی کے جھنڈے کے رنگ دے کر دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ مجھے موجودہ کے ساتھ ساتھ سابق حکمرانوں سے معذرت کے ساتھ کہنا ہے کہ میں نے کسی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے معاشی مسائل حل کرکے امیر ہوتے نہیں دیکھا، کسی کو سستی روٹی سکیم کی وجہ سے مزے دار کھانے کھاتے ہوئے نہیں دیکھا، بیت المال سے مدد لے کر کسی کو خوشحال زندگی گزارتے ہوئے نہیں دیکھا، جی ہاں، بھیک کسی کو امیرنہیں بناتی۔ مجھے دس برس سے بھی کچھ زیادہ پرانی وہ میٹنگ یاد آ گئی جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بڑے جوش و خروش سے سستی روٹی سکیم کی تعریفیں بیان کر رہے تھے اور میں نے ان کی ناراضی کی پرواہ کئے بغیر کہا تھا کہ آپ غریبوں کو مچھلی کھانے کو مت دیں ، مچھلی پکڑنا سکھائیں۔

مجھ سے پوچھیں تو غریبوں کی مدد کرنے کے حوالے سے پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم ماڈل’اخوت‘ کا ہے جس میں لوگوں کو چھوٹے کاروبار کرنے کے لئے قرضے دئیے جاتے ہیں۔ یہ ماڈل کم و بیش اسی طرح کا ہے جس طرح بنگلہ دیشں میں دیہات کے دیہات کو گرامین بنک نے چھوٹے قرضے دے کر وہاں کے رہنے والوں کو خوشحالی کی طرف گامزن کیا بلکہ اخوت کا پروگرام اس سے بھی بہتر ہے کہ اس میں ریکوری ننانوے فیصد سے بھی زیادہ ہے اور بغیر سود کے قرض فراہم کیا جاتا ہے مگر مجھے اس کے باوجود کہنا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہو یا اخوت کے نام سے اربوں اور کھربوں روپوں کے قرضوں کی فراہمی، اگر آپ اس کے ذریعے ملکی معیشت کی بحالی کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو اس پر شیخ چلی ہونے کی پھبتی کسّی جا سکتی ہے۔

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ حکومت غریب عوام کی غربت مٹاﺅ پروگراموں کے ذریعے مدد نہ کرے تو پھر وہ کیا کرے تو میرا جواب یہ ہے کہ ایسے غربت مٹاﺅ پروگرام حکومتی عمائدین کی غربت تو ضرور ختم کر سکتے ہیں مگر بیس کروڑ سے زائد عوام کی نہیں۔ عوام کو ریلیف اس وقت ملے گا جب آپ اس ملک کی معیشت کو دوبارہ اس کے پیروں پر کھڑا کریں گے اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا کام شروع کر کے آپ ملکی معیشت کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں تو یہ بھی خام خیالی ہے۔ ملکی معیشت زراعت اور صنعت سمیت بہت سارے شعبوں پر مشتمل ہے اور جب تک ان تمام شعبوں پر مساوی توجہ نہیں دی جائے گی تب تک مسائل حل نہیں ہوسکتے یعنی اگر آپ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر بھی شروع کر دیں مگراس کے ساتھ آپ آئی ایم ایف سے قرض لینے کی خاطر روپے کو مسلسل ڈی ویلیو کرتے جائیں تو آپ کی تمام تر کاوش ضائع ہوجائے گی کیونکہ اگر آپ مکانات کی تعمیر سے جڑی دس سے پندرہ صنعتوں کو کھڑا بھی کر دیں گے توان ڈیڑھ سو چھوٹی بڑی صنعتوں کا پٹھا بیٹھ جائے گا جن کا خام مال بیرون ملک سے درآمد ہوتا ہے۔ آپ کاروباری قرضوں کے لئے سود کی شرح کو بڑھاتے چلے جائیں گے توچھوٹے کاروباربھی مشکل سے مشکل ترین ہوتے چلے جائیں گے۔ آپ پچیس ہزار روپے نکلوانے والے نان فائلرز پر ڈیڑھ سو روپے کا ٹیکس عائد کر دیں گے تو غریب لوگ بھی اپنی آمدن بنک میں رکھنا بند کر دیں گے جیسے بہت سارے بازاروں میں تاجروں نے ادائیگیوں کے لئے پرچی سسٹم شروع کر لیا ہے۔

آپ ملکی معیشت کو نہیں چلا پا رہے کیونکہ آپ نے بجلی ، گیس اور ڈیزل سمیت ہر شے کومہنگا کر کے کمائی کرنی ہے اوراس کے ساتھ ساتھ آپ درآمدات کی بھی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائرکو برقرار رکھ سکیں اور جو قرض آپ نے لئے ہیں وہ بیرونی ادائیگیوں میں کم سے کم استعمال ہوں مگر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب ملکی پیداوار کم ہو رہی ہو گی اور درآمدات پر بھی پابندی ہو گی تو ملک میں مختلف اشیائے ضروریہ کا بحران پیدا ہوجائے گا۔ اگر آپ نے اس کی عملی شکل دیکھنی ہے تو امپورٹڈ گاڑیوں کے سپیئر پارٹس کی شکل میں دیکھ لیں جوبحران کی ابتدا ہے اور جب لوگ ضروریات لئی زندگی کے لئے مارے مارے پھریں گے توپھروہ یقینی طور پرحکومت کو دعائیں نہیں دیں گے۔ ملکی معیشت کو بحال کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری ہو کہ جب ایک فیکٹری چلتی ہے تو اس میں نہ صرف ہنرمندوں کو روزگار ملتا ہے بلکہ اس سے جڑے ہوئے بے شمارکاروبار بھی چلتے ہیں جیسے آپ کپڑے کی صنعت ہی لے لیجئے کہ اگر آپ ٹیکسٹائل ملز کے لئے ان پٹس کو مہنگا کر تے چلے جائیں گے تو اس کا نتیجہ پیداوار میں کمی کی صورت میں نکلے گا اور ہماری برآمدات بھی متاثر ہوں گی اور جب ایک فیکٹری اپنا کام کم یا بند کرے گی تو اس کے خام مال سے مصنوعات کی نقل و حمل تک میں کام کرنے والے سب لوگ متاثر ہوں گے اور کیا آپ نے میڈیا انڈسٹری میں جوبحران پیدا کیا ہے اس کا نتیجہ نہیں دیکھا کہ مالکان کو تنخواہیں کم کر کے یا چھانٹیاں کر کے ادارے بچانے پڑے ہیں۔ بجلی اور گیس مہنگی ہو یا روپیہ مسلسل سستا ہو رہا ہو، اس سے بے یقینی بڑھتی ہے اور بے یقینی میں کوئی شخص اپنی جیب میں پڑا ہوا روپیہ باہر نہیں نکالتا کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ یہ حکومتی نااہلیوں اور معاشی بدانتظامیوں کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔

یادرکھیئے کہ حکومت این جی او نہیں ہوتی بلکہ حکومت ہوتی ہے جوایسے حالات پیدا کرتی ہے کہ کاروبار فروغ پائیں اور روپے کی نقل و حرکت ہو مگر موجودہ صورتحال میںسرمایہ دار نے اپنا سرمایہ محفوظ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں ریاستیں یہ بھی نہیں پوچھا کرتیں کہ تم یہ روپیہ کہاں سے لا رہے ہو کہ روپے کا کوئی دین اور کوئی دھرم نہیں ہوتا۔ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ روپے کی نقل وحرکت عوام کے مسائل کس طرح حل کرتی ہے کہ کسی قصبے میں ایک شخص نے رات گزارنے کی غرض سے ایک کمرا کرائے پر لینے کا سوچا اور ہوٹل جا پہنچا۔ ہوٹل والے نے کہا کہ وہ کمرا دکھانے کے لئے تیار ہے مگر وہ ایک ہزار روپے بطور ضمانت رکھنا چاہتا ہے۔ اس شخص نے ایک ہزار روپے کاﺅنٹر پر رکھے اور کمرہ دیکھنے کے لئے چلا گیا۔ اسی دوران وہاں وہ شخص آیا جو ہوٹل کو سبزی اور گوشت فراہم کرتا تھا اور اس نے وہ ہزار کا نوٹ وصول کر لیا۔ باہر نکلا تو سامنے ڈاکٹر کا کلینک تھا جس نے اس کی ماں کا علاج کیا تھا، ہزار کا نوٹ پاتے ہی اس نے سامنے کلینک میںجا کے علاج کے اخراجات کے بقایاجات ادا کر دئیے۔ ڈاکٹر نے ہزار کا نوٹ پکڑا تواپنی اس نر س کو دے دیا جو وہاں خدمات سرانجام دیتی تھی۔ اس نرس نے وہی نوٹ باہر کھڑے ٹیکسی والے کو دیا جو اسے روزانہ کلینک تک لاتا اور واپس لے جاتا تھا۔اس ٹیکسی والے کی ہوٹل والے سے مسافروں کی بکنگ پر کمیشن طے تھی جو عرصہ سے ادانہیں ہوئی تھی، اسے غیر متوقع طور پر ادائیگی ہوئی تو اس نے فوری طور پر ہوٹل کے مینیجر کو ہوٹل کی کمیشن کی مد میں وہی ایک ہزار دے دیا تاکہ اسے ہوٹل سے آئندہ بھی سواری ملتی رہے۔ اسی دوران وہ شخص واپس آیا جسے متعدد کمرے دیکھنے کے باوجود کوئی کمرہ پسند نہیں آیا تھا، اس نے وہ ہزار کا نوٹ واپس جیب میں ڈالا اور باہر نکل گیا۔ جناب اسد عمر اور ان کے بڑوں نے روپے کی اسی نقل وحرکت کو روک دیا ہے۔ روپیہ اب بھی موجود ہے مگر وہ اسی امیر شخص کی جیب میں ہے جو ہوٹل میں کمرا لیتے ہوئے ڈر رہا ہے۔ جب تک وہ اپنی جیب سے ایک ہزار روپیہ نہیں نکالے گا تب تک سبزی گوشت والے، محلے کے ڈاکٹر، اس کی ملازمہ نرس اور سڑک پرسواری کے انتظارمیں کھڑے ٹیکسی ڈرائیورسمیت کسی کے بھی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔


ای پیپر