ملاقات ہوئی کیا بات ہوئی

29 مارچ 2018

سہیل سانگی

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات ہر حلقے میں موضوع بحث ہے۔ مختلف پیشگوئیاں، چہ میگوئیاں اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات غیر معمولی ہی ہوتی ہے۔ ریاست کے ان دو اہم ستونوں کا دائرۂ کار و اختیار مختلف ہے۔ آج کے پاکستان کے حالات میں یہ ملاقات مزید غیر معمولی ہے۔ جب عدلیہ نے حکمران جماعت کے وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا۔ پارٹی کی سربراہی کے عہدے سے بھی نااہل قرار دے دیا۔ پارٹی کے پہلے وزیراعظم اور سربراہ نواز شریف کے خلاف عدالتوں میں مختلف الزامات کے تحت مقدمات زیر سماعت ہیں۔ قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ ان مقدمات میں سابق وزیراعظم سزا سے بچ نہیں سکتے۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ نے پارٹی کو ان کی گرفت سے نکالنے کے لئے مختلف جتن بھی کئے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اب اسٹیبلشمنٹ نے بعض سیاسی و غیر سیاسی اقدامات کے ذریعے حکمران جماعت خواہ حکومت کو بند گلی کی طرف دھکیل چکی ہے۔ لہٰذا ہر کوئی دیکھ رہا ہے کہ ملک ایک غیر معمولی صور ت حال سے گزر رہا ہے۔
یہ ملاقات وزیراعظم کی فرمائش پر ہوئی ۔ اور پیغام رسانی اٹارنی جنرل کے ذریعے ہوئی ۔ اگرچہ اس ملاقات کو سیاسی معاملات سے منسلک کیا جارہا ہے۔ تاہم اٹارنی جنرل کے ذریعے پیغام رسانی سے لگتا ہے کہ اس قصے میں عدالتی اور قانونی معاملات بھی شامل ہیں۔ اگر صرف سیاسی ہوتے تو کسی اور کے ذریعے رابطہ ہو سکتا تھا۔ یہ ملاقات دن دہاڑے سپریم کورٹ میں ہوئی ۔ دو گھنٹے کی ملاقات جس کے بعد فوٹو سیشن بھی ہوا، اس کے بارے میں کئی گھنٹے تک کسی بھی فریق سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ رات کو تقریباً گیارہ بجے سپریم کورٹ کے ترجمان نے اس ملاقات کے بارے میں اعلامیہ جاری کیا ۔ پورا دن ملاقات کا قصہ میڈیا اور اینکرپرسن کے حوالے تھا، جو ملاقات کی مختلف توضیحات اور تشریحات بیان کر رہے تھے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے پرسوں ہونے والی ملاقات سے کھویا کچھ نہیں،پایا ہی ہے۔
اپوزیشن لیڈر اور پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید احمد شاہ کا خیال ہے کہ ملاقات کے لئے یہ وقت مناسب نہیں تھا۔ ان کے نزدیک نامنا سبت کی وجہ سابق وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے خلاف زیر سماعت مقدمات اور ملکی صور ت حال ہے۔ نواز لیگ کے سخت لہجے اور زیادہ بات کرنے والے رہنما سعد رفیق کا مؤقف ہے کہ اداروں کے درمیان ڈائیلاگ ہونا چاہئے۔ اور یہ کہ اس ملاقات کو غلط رنگ نہیں دینا چاہئے۔
تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی کھیپ اس ملاقات کو نواز شریف کی حکمت عملی اور بیانیہ کی ناکامی قرار دے رہی ہے۔ ان کی تشریح یہ ہے کہ سابق وزیراعظم ’’ اداروں کے ساتھ لڑائی‘‘ کے مؤقف سے پیچھے ہٹے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کا مؤقف حاوی ہوا ہے کہ اداروں کے ساتھ لڑائی کر کے نہیں چلا جاسکتا۔ اس سوچ کی وکالت کرنے والوں کے مطابق نواز شریف کوئی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نواز شریف اور مریم نواز تھک گئے ہیں یا ڈر گئے ہیں۔ وہ کوئی ڈیل تلاش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک ہفتہ قبل نواز شریف کے اس بیان کا حوالہ دیا جارہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہر ادارے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بعد میں چیف جسٹس نے ایک تقریب میں واضح کیا کہ ملک میں کوئی جوڈیشل مارشل لاء نہیں آرہا ہے۔ ابھی ان بیانات پر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تبصرے اور تجزیے چل رہے تھے کہ آرمی چیف سے منسوب بات سامنے آئی جس سے یہ تاثر لیا گیا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم ختم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ایک ہفتے تک میڈیا میں بحث چلتی ہے اس کے بعد آرمی کے میڈیا ونگ نے ترید کی کہ عسکری ادارے سے منسوب یہ بات درست نہیں۔ اب عسکری حلقوں سے منسوب ایک اور خبر چل رہی ہے کہ انتخابات وقت پر نہیں ہونگے۔ ممکن ہے کہ چند ہفتوں کے لئے ملتوی ہوں۔ یہ اشارہ ریٹائرڈ جنرل عبدلقادر بلوچ کے اس بیان سے بھی ملتا ہے۔ ان کے مطابق حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔ یوں تین اہم اداروں اور حکمران جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے جو بیانات آتے رہے، عام لوگ خواہ تجزیہ نگار ان بیانات کی روشنی میں ہی ملکی صورت حال کو پڑھتے رہے۔
ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز پہلی مرتبہ سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا سخت لہجے میں ذکر کیا ۔ وزیراعظم کے الفاظ اتنے ہی سخت تھے جتنے اس موضوع پر ان کے قائد نواز شریف کے تھے۔ اس سے قبل حکمران جماعت کے رہنما چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن وزیراعظم نے پہلی مرتبہ اس الیکشن کو غلط قرار دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر جو چائنا کٹنگ ہوئی ہے اس کا کسی طرح سے ازالہ کیا جائے۔ اور جو فاؤل پلے ہوا ہے اس کو ٹھیک کیا جائے۔ اس صور ت حال میں وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات میں نواز شریف یا ان کی پارٹی کی کمزوری ڈھونڈنا درست نہیں لگ رہا۔ نواز شریف نے محاذ آرائی کا مؤقف بہت ہی سوچ بچار کے بعد اختیار کیا تھا۔ حالانکہ اس وقت ان کی پارٹی میں متعدد رہنما ان کے مؤقف پر خوش نہیں تھے۔ وہ مصلحت پسندی کی حکمت عملی کا مشورہ دے رہے تھے۔ لیکن نواز شریف مصلحت کی حکمت عملی کو ایک طرف رکھ کر اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ اور تمام عرصہ اسی مؤقف پر کھڑے رہے۔ وقت کے ساتھ متبادل مؤقف رکھنے والے بھی نواز شریف کے ساتھ ہو گئے۔ نواز شریف کو اندازہ تھا کہ محاذ آرائی کے مؤقف کے نتیجے میں انہیں سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اور وہ سزا کے لئے تیار تھے۔ اور اب بھی اس مؤقف پر قائم ہیں۔ مختلف حلقوں سے نئے این آر او کی باتیں ہو رہی ہیں۔ نہیں لگتا کہ نواز شریف این آر او چاہتا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ ملک کے مقتدرہ حلقے بھی این آر او نہیں چاہتے۔
نواز شریف اور اس کے بعد شاہد خاقان عباسی کا بھی یہ مؤقف بنا کہ اگر حکمران جماعت اور حکومت پر قانون اور آئین کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے اور حدود سے تجاوز نہ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے، تو دوسرے ادارے اور افراد پہلے خود اس پر عمل کر کے دکھائیں۔ کیا ان کی کارکردگی قابل ستائش ہے؟ اگر ایسا نہیں کیا جاتا، تو چاہے کوئی بھی فیصلے ہوں، لوگ اس کو دلی طور پر تسلیم نہیں کریں گے۔ معاملہ صرف افراد کا نہیں اداروں کی ساکھ کا آ جائے گا۔ نواز شریف جانتے ہیں کہ احتساب عدالت انہیں سزا دے گی۔ ہر احتساب عدالت یہی کرتی ہے۔ لیکن بعد میں اپیل عدالت یا ہائی کورٹ اس فیصلے کو الٹ دیتی ہے۔ ایسے میں نواز شریف کسی این آر او یا ریلیف مانگ کر اپنی سیاسی موت کیوں چاہے گا؟ وہ تو تمام کھیل ہی سیاسی طور پر زندہ رہنے کا کھیل رہے ہیں۔ انہیں ہائی کورٹ یا اپیل کورٹ سے ریلیف ملنا ہی ملنا ہے۔ نواز شریف نے وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے بعد جو بیان دیا ہے اس میں اپنے پرانے مؤقف کا اعادہ کیا ہے جس کو محاذ آرائی کا مؤقف گردانا جاتا ہے۔ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی آج اس بات پر کھڑے ہیں کہ جس طرح سے سینیٹ میں چائنا کٹنگ کی گئی وہ اس کو نہیں مانتے اور آئندہ بھی کوئی ایسی کٹنگ اور انجینئرنگ ہوئی اس کو بھی نہیں مانیں گے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ درست ہے کہ ہم قانون اور آئین پر عمل کریں لیکن آپ بھی تو عمل کر کے دکھائیں‘‘۔ ملکی سیاست اور قانونی نکات پر گہری نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ وزیراعظم چیف جسٹس کو یہی بتانے آئے تھے۔ اس بات سے ہٹ کر کوئی اور بات صور ت حال میں فٹ ہی نہیں ہوتی۔

مزیدخبریں