لڑ کھڑ ا تا ر و پیہ بڑھتا قر ضہ اور گھٹتے ما لی ذ خا ئر
29 مارچ 2018 2018-03-29

پچھلے کا لم میں میں نے وعد ہ کیا تھا کہ روپے کی قیمت میں کمی کی و جو ہا ت او ر اس کے ا ثر ا ت کا جا ئزہ پیش کر و ں گا۔ لیکن یہ ا ند ا ز ہ نہ تھا کہ فو ر ا ً ہی اس پہ قلم ا ٹھا نا پڑ ے گا۔ اس کی بڑی و جہ و طنِ عز یز کا د رد ر کھنے وا لے ا ن قا ر ئین کے خطوط ہیں جنہو ں نے مہنگا ئی کے ا چا نک اس سیلا ب کی جا نب تو جہ مبذ و ل کر ا ئی ہے۔ جس نے در میا نے در جے ا و ر اس سے نچلے درجے کی کمر تو ڑ کر ر کھ دی ہے۔ آ ج بھا ر ت میں ایک ا مر یکی ڈ ا لر کی قیمت و ہا ں کے پینسٹھ ر و پے کے بر ا بر ہے۔ افغانستان میں ایک ا مر یکی ڈ ا لر کی قیمت ستر ا فغا نی کے بر ا بر ہے۔بنگلہ د یش میں ایک امر یکی ڈا لر کی قیمت تر ا سی ٹکہ کے برا بر ہے۔ جبکہ ہما ر ے ملک پا کستا ن میں یہی ا مر یکی ڈا لر ایک سو سو لہ رو پے کا ہو چکا ہے۔ کیاا ر با بِ ا ختیا ر کی آ نکھیں اب بھی نہیں کھلیں گی کہ یہ ملک گر تے گر تے کہا ں تک گر چکا ہے؟آ ئی ا یم ا یف کے مطا بق پا کستا ن میں ڈ ا لر کے ذ خا ئر کم ہوتے ہو تے فر ور ی میں سا ڑ ھے تیر ہ ار ب کی نچلی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی مو جو دہ حکو مت نے 35ارب ڈ ا لر سے زیا دہ قر ضہ لیا ہے۔ یا د ش بخیر جنر ل مشر ف کی حکو مت کی ر خصتی کے و قت پا کستا ن کا بیر و نی قر ضہ38سے 40ارب ڈ ا لر تھا، جبکہ آ ج 85سے 90ارب ڈ ا لر کی با ت ہو رہی ہے۔تسلیم شد ہ حقیقت ہے کہ جس ملک میں صحت او ر تعلیم منا فع بخش کا رو با ر بن جا ئیں ا س ملک کا بالآخر جغر ا فیہ تبد یل ہو جا تاہے۔ آ پ دیکھ سکتے ہیں کہ وطنِ عز یز میں یہ دو نو ں شعبے کن کر پٹ لو گو ں کے ہا تھ میں جا چکے ہیں۔ روپے کی قیمت کم ہو نے سے جو مہنگا ئی کا طو فا ن آ یا ہے، اس کا آ نا نا گز یر تھا۔ ماہرینِ معاشیات پہلے ہی خبردار کررہے تھے کہ کرنسی کی ویلیو کم ہونے سے اشیائے خور و نوش سمیت تمام چیزوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور ان اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بالواسطہ طور پر بھی مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ مثلاً ا بھی تین دن پہلے یہ خبر سامنے آئی کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ ماہِ رواں کے آخر میں ایک بار پھر بڑھنے کا اندیشہ ہے اور اس حقیقت سے کون ناواقف ہوگا کہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کرایوں سمیت تمام اشیاء کے نرخ خود بخود بڑھ جاتے ہیں، یعنی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے سے تمام چیزوں کی قیمتیں براہِ راست تو بڑھ ہی رہی ہیں، لیکن یہ کہا نی کا ا ختتا م نہیں۔ وہ یو ں کہ پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے سے مہنگائی کا ایک ا یسا سو نا می آ نے کو ہے جو عوام کی رہی سہی قوتِ خرید کو بھی بہا لے جائے گا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکمران روپے کی قدر میں کمی کے اس سلسلے کو روکنے میں نہ صرف ناکام نظر آتے ہیں، بلکہ اس معاملے میں اپنے بی بسی کا اظہار بھی کرچکے ہیں اور تاویلیں پیش کر رہے ہی۔ یہ کہا جارہا ہے کہ ڈالر کی طلب میں اضافے کی وجہ سے ملکی کرنسی کی ویلیو کم کرنا پڑی، لیکن یہ سوال کوئی نہیں اٹھا رہا کہ ڈالر کی طلب میں اچانک کیسے اضافہ ہوگیا؟ اس بات کا بھی کوئی جائزہ نہیں لے رہا کہ کہیں ڈالر ایک بار پھر سمگل تو نہیں ہورہے؟ آئی ایم ایف نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے کو برآمدات نہ بڑھنے کی وجہ قرار دیا ہے۔ اس بارے میں حکمران کیا تاویل پیش کریں گے؟ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ چار برسوں سے جاری اس اقتصادی پالیسی کو ترک کردیا، جس کے بنیادی اہداف میں روپے کی قدر میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لگاتار اضافے کو روکنا، کفایت شعاری کا اہتمام کرنا، حکومتی جاری اور ترقیاتی اخراجات کو مقررہ حد میں رکھنا، بجلی پر سرچارج اور مہنگائی کی شرح کو کم سے کم سطح اور ادائیگیوں کے توازن کو مقررہ بجٹ میں رکھنا شامل تھا۔ چار برسوں سے جاری ان پالیسیوں کو اچانک اور بغیر کسی وجہ کے تبدیل کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ حکومت کو اس حوالے سے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کچھ تو لب کشائی کرنی چاہیے۔ حکومت کی معاشی پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے ہی اب حکمران جماعت کے اتحادی بھی اسے تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔
لکھنے کی ضر و ر ت نہیں کہ کسی بھی ملک کی معیشت کو اپنے پا ؤ ں پہ کھڑا کر نے اور زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم بڑھانے میں اس ملک کی بر آمدا ت سب سے اہم کرار ادا کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں جو ممالک بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں، ان کی برآمدات درآمدات کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ادائیگیوں کاتوازن کبھی ہمارے حق میں نہیں رہا، بلکہ دھڑا دھڑ درآمدات کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے تو حکومت کو درآمدات اور برآمدات میں توازن پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے ادائیگیوں میں توازن قائم کیا جاسکے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر ہمارے ملک کو دباؤ میں آکر کرنسی کو آزاد چھوڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت روپے کی قدر میں کمی کے معاملے میں بے بسی کا اظہار نہ کرے بلکہ اسے آگے بڑھ کر ان عوامل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ملکی معیشت کے لیے تباہ کن تبدیلیوں کا باعث بن رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ ان چیزوں کی قیمتوں کو نہ بڑھنے دیا جائے جو بالواسطہ گرانی بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتیں حالات کے اعتدال پر آنے تک مزید نہیں بڑھانی چاہئیں۔ اگر ڈالر کی بیرونِ ملک سمگلنگ یا ترسیل ہورہی ہے تو اس کے سدباب کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ علاوہ ازیں روپے کی قدر میں کمی کرکے برآمدات کے نئے مواقع تلاش کرنے کے بجائے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہ صرف نئی امپورٹ، ایکسپورٹ پالیسی بنانی چاہیے بلکہ ملک کی پوری اقتصادی پالیسی کی ڈھیلی چو لیں ٹھیک کر نے کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں۔ رٹ آف گورنمنٹ قائم ہونی چاہیے تاکہ کوئی فورس پاکستانی کرنسی کی قدر میں تخفیف کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔ کیونکہ یہ بہرحال واضح ہے کہ اگر روپے کی گراوٹ کے اس سلسلے کو روکنے کا قصد نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ دراز ہوتا جائے گا، جس کے نتیجے میں نہ صرف مہنگائی قابو سے باہر ہوجائے گی، بلکہ ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بھی بے حد بڑھ جائے گا۔ اب شنید ہے کہ مو جو د ہ حکو مت میں ملک کی تقد یر کا فیصلہ کر نے وا لے ار با بِ ا ختیا ر مشو رہ دے رہے ہیں کہ بجٹ میں تنخو اہیں اور پنشن بڑ ھا ئیں۔یہا ں پنشن بڑھا نے کی با ت تو سمجھ میں آ تی ہے، لیکن تنخو ا ہو ں میں دس سے پند ر ہ فیصد ا ضا فہ کر نے کا مقصد مہنگا ئی بڑھا نے کا جوا ز پیدا کر نے و ا لی با ت ہے۔ اور یہ مہنگا ئی مو جو دہ تنا ظر میں چا لیس فیصد سے کم نہ ہو گی۔ شاید اسی کو کہتے ہیں مر ے کو مارے شا ہ مدا ر ۔


ای پیپر