جمہوری ڈاکٹرائن آ رہا ہے
29 مارچ 2018 2018-03-29

ایک زبردست اور دھواں دھار پریس کانفرنس ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے سامنے آچکی ہے ، بہت سے معاملات جو کچھ عرصے سے پس منظر میں چل رہے تھے وہ کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ وہاں میجر جنرل آصف غفور نے ’’باجوہ ڈاکٹرائن ‘‘ کی وضاحت بھی کی کہ اس ’’ ڈاکٹرائن ‘‘ کا 18 ویں ترمیم اور این آر او سے تعلق نہیں ہے ۔ مگر انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ فوج اٹھارہویں ترمیم کے خلاف نہیں البتہ بعض چیزوں پر غور کی ضرورت ہے ۔ وہاں انہوں نے دھرنے اور شہباز شریف کی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔ پاکستان کے قومی اور سیاسی منظرنامے پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں بہت سی باتوں کا علم بین الاقوامی میڈیا سے ہوتا ہے ۔ جب پاکستان میں معیشت کی بربادی کا ذکر ہو رہا ہے اس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے ’’وہ بے بس ہے ‘‘۔ ’’باجوہ ڈاکٹرائن ‘‘ کی اصطلاح بھی باہر سے آئی تھی خاص طور لندن سے اس کی لابنگ کا کام شروع ہوا۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مولانا خادم حسین رضوی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ اس وقت یہ سوال پورے زور شور سے اٹھا تھا، اس دھرنے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے مگر دوسری جانب سے اس کی تردید آئی اور بار بار آتی رہی۔ جب عدالت عظمیٰ اور عدلیہ نے دھرنوں کو ختم کرانے کا حکم دیا تو اس وقت حکومت اور دھرنے والوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا وہاں دھرنے والے باجوہ صاحب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اسلام آباد سے چلے گئے تو اس وقت سے معاملہ کھلنا شروع ہوا۔ مگر اب میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ کسی دھرنے کے پیچھے فوج تھی نہ آئندہ ہو گی کہ فوج کا کام بھی نہیں۔ یقیناًانہوں نے درست وضاحت کی اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔ مگر معاملہ ایک بار پھر اہم ہوا جب سپہ سالار قمر جاوید باجوہ نے ٹی وی اینکرز اور چیدہ چیدہ صحافیوں سے ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو کی مگر اس ملاقات میں ہونے والی بہت سی چیزیں آف دی ریکارڈ نہ رہیں، مگر کئی صحافیوں نے جو اس ملاقات میں موجود ہی نہیں تھے انہوں نے آف دی ریکارڈ گفتگو کو ’’باجوہ‘‘ ڈاکٹرائن کا نام دیا جس میں انہوں نے یہاں تک لکھا کہ فوج کا عدلیہ کے ساتھ کھڑا ہونا بھی اس ڈاکٹرائن کا حصہ ہے ۔ مگر اصل سوال تو یہ ہے کہ عدلیہ کے چیف اس کو نہیں مانتے وہ آئین اور قانون کی بات کر رہے ہیں۔ وہ ملک میں کسی ماورا آئین اقدام کو بھی رد کر چکے ہیں۔ مگر اُن کے بارے میں بھی نواز شریف کا تو یہ کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے سو موٹو ایکشنز نے حکومتی امور تو قابو کر لیے ہیں، وہاں نواز شریف نے چیف جسٹس سے یہ سوال بھی پوچھ لیا ہے کہ 18 لاکھ زیر التواء مقدمات کا بھی کچھ کریں۔ مگر ’’باجوہ ڈاکٹرائن ‘‘ میں اٹھارہویں ترمیم کا بار بار ذکر آ رہا ہے ۔
یہ ترمیم 2010ء میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مل کر پاس کی تھی۔ اس میں سے وہ تمام اقدامات جو ضیاء الحق نے 8 ویں اور مشرف نے 17 ویں ترمیم کے ذریعے کیے تھے سب نکال دیئے گئے حتیٰ کہ آئین سے آمر ضیاء الحق کا نام بھی نکال دیا۔ پہلی مرتبہ صوبوں کو خود مختاری دی گئی۔ بلوچستان کی بہت سی محرومیوں کا خاتمہ ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی تفصیلی پریس کانفرنس میں اس تاثر کی تردید کر دی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو بدلنے کا جو تاثر دیا جا رہا ہے یہ غلط ہے بر وقت وضاحت ہے کیونکہ کچھ صحافی یہ لکھ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ 18 ویں ترمیم کی بہت سی شقوں کو فیڈریشن کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے ۔ اور بہت سے اختیارات صوبوں سے واپس لینے کا اشارہ بھی ہے ۔ ایک طرف باجوہ ڈاکٹرائن کا معاملہ ہے تو یہ سوال کافی سنجیدہ ہو کر خاص طور پر ابھرا ہے ، معاملہ اس وقت ہی سنجیدہ ہو کر ابھرا تھا جب سپہ سالار نے کراچی میں ’’بزنس مین‘‘ کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی خراب معیشت کا سوال اٹھایا تھا۔ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہ کریڈٹ لے رہی تھی کہ اس نے پاکستان کی معیشت کو ماضی کی نسبت درست سمت پر چڑھا دیا ہے ۔ اس زمانے میں جب دنیا اور خاص طور پر دنیا کی معیشت کو مانیٹر کرنے والے مالیاتی ادارے پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشت قرار دے رہے تھے عین اسی زمانے میں پاکستان کے اینکرز 6 بجے سے رات بارہ بجے تک خاص ایجنڈے پر رونا دھونا ڈال کر روزانہ بیٹھ جاتے تھے۔ ان کا ایک شرمناک کردار تو 3 ماہ کے لیے سکرین پر آنے سے بین ہو چکا ہے ۔ دوسری جانب حکمران جماعت خاص طور پر وزیر خزانہ اسحق ڈار لندن میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ انہوں نے معیشت کو تباہ کر دیا اُن کا مقصد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نہیں ہے اور یقیناًمسلم لیگ (ن) کے علاوہ کوئی ہے جو ایجنڈے پر یہ کام کر رہا ہے ۔ پھر نہ جانے مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی ٹارگٹ بن رہی ہے ۔ نیب کیا انتخاب سے پہلے احتساب کا نعرہ لگا کر جس طرح بھٹو کو نکالا گیا تھا اور ایک ضیاء الحق قوم پر مسلط ہو گیا تھا ایسا کام کر رہی ہے تو یہ معاملہ 197 7ء جیسا نہیں ہو گا۔ پارلیمنٹ کو اس وقت بے وقعت کر دیا گیا ہے ۔ لگتا ہے سیاسی منظرنامے پر رنگ بھرنے کا کام جاری ہے ۔ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کے لیے بہترین طرز حکومت ہے ۔ یہ ملک جمہوریت کے نام پر بنا اور اسی پر قائم رہ سکتا ہے ۔ ضیاء الحق سے باجوہ ڈاکٹرائن تک کوئی کامیاب نہیں ہوا ہے ۔ اب بھی کاغذوں پر لکھا ہوا منصوبہ بھلا کتنا ہی کامیاب دکھائی دیتا ہے 1954ء میں ایک بڈھے بیورو کریٹ غلام محمد نے جو بدقسمتی سے گورنر جنرل کے ایسے منصب اور کرسی پر جا بیٹھا جس پر بیٹھ کر قائداعظم نے پاکستان کا مستقبل دکھایا تھا، دستور ساز اسمبلی ہی توڑ دی۔ وزیراعظم محمد علی بوگرا جو امریکہ نواز تھا مگر جمہوریت پسند بھی تھا اس نے ایک اچھا کام یہ کیا غلام محمد سے اسمبلی توڑنے کے اختیارات لے لیے۔ ایک میٹنگ میں جس کا ذکر قدرت اللہ شہاب نے بھی کیا ہے اسی زمانے میں غلام محمد نے ایوب خاں سے کہا حضور آئیے مل کر حکومت کرتے ہیں۔ آپ حکومت سنبھال لیں اس وقت تو ایوب خان نے اس غیر قانونی اقدام کی مذمت کی مگر وردی سمیت محمد علی بوگرا کی کابینہ میں وزیر دفاع ضرور بن گئے۔ اقتدار کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں ایوب خان کے آنگن میں اترنا شروع ہوئیں تو ایوب خان نے مکمل اقتدار کی آرزو کی جس میں نہ تو کسی کی شراکت داری اور نہ حصہ داری تھی۔ لندن میں بیٹھ کر ایک پیپر لکھا کہ میں قومی تقدیر کیسے بدل سکتا ہوں ’’یہ ایوب ڈاکٹرائن ‘‘ ہی تھا جو پاکستان میں دلچسپ مارشل لاء کا سبب بنا۔ ایوب خان نے مارشل لاء لگانے کا کام تو صدر سکندر مرزا سے لیا اور خود یہ جواز پیش کرتے رہے کہ ان کا مارشل لاء لگانے سے تعلق نہیں۔ یہ حقیقت تھی کہ اس زمانے میں صدر سکندر مرزا نے مارشل لاء لگایا تھا اور ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور وزیراعظم بنا دیا۔ بے وقوف سکندر مرزا یہ بھول گیا تھا کہ جب 1956ء کا جمہوری آئین ہی نہ رہا تو وہ صدر کس آئین کے تحت ہیں ایوب ڈاکٹرائن اس وقت شرو ع ہوا جب سکندر مرزا کو جلا وطن کیا گیا۔ ایوب خان نے اقتصادی حوالے سے ملک کو مضبوط ضرور کیا مگر جمہوری حوالے سے انہوں نے اور ان کے دو گورنرز نواب امیر محمد کالا باغ اور منعم خان نے جبرا ور ظلم کی ایسی داستانیں رقم کیں جنہیں تاریخ کا طالب علم کبھی بھلا نہ سکے گا۔ ایوب نے ایک سیاسی جماعت بنائی اور اس کے صدر بن گئے۔ عوام کی قسمت بدلنے والے تیس کمیشن بنائے مگر وقت کے ساتھ سب بے کار ثابت ہوئے پھر 80 ہزار بلدیاتی ممبروں کو اپنی مٹھی میں بند کر کے اگلی ٹرم کے لیے صدر بن گئے۔ پھر ایک عوامی تحریک نے اُن کی صدارت اور اقتدار سب کچھ لپیٹ دیا۔ ’’یحییٰ ڈاکٹرائن ‘‘ آ گیا۔ اس نے ایک مثالی الیکشن کرائے! مارشل لاء کے ساتھ جمہوریت بھی بحال کی۔ سیاست دانوں کو کہا 120 دن میں آئین نہ بنایا تو بس؟ سیاست دان آئین کیا بناتے ایسی سازش چلائی کہ اپنا بنایا ہوا آئین لے آئے۔ ملک توڑ دیا مگر گالیوں کے لیے بھٹو کو صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا دیا۔ بھٹو کی غلطی تھی 1977ء کے انتخاب کے بعد ہر کام ضیاء الحق کے مشورے سے کیا۔ اعلیٰ درجے کے اجلاسوں میں ضیاء کا آنا جانا ہو گیا۔ بھٹو کی نفسیات کو پڑھا کہ نظام مصطفیؐ کی تحریک نے کس طرح بھٹو کے اعصاب توڑ دیئے ہیں اس طرح ’’ضیاء الحق ڈاکٹرائن ‘‘ پورے آب و تاب سے پوری قوم پر مسلط ہو گیا۔ اسلام کے نام کو استعمال کیا اور عوام سے اسی نام سے سیاست کی۔ ضیا نے اپنے سینے پر بار بارہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ وہ صادق اور امین نہیں۔ نہ وہ صادق و امین ثابت ہوئے اور نہ اُن کی سیاست بلکہ سیاست کو کامیاب بنانے کے لیے مہروں کو استعمال کیا۔ اصغر خان کام آئے، مصطفی کھر ہوئے، جتوئی ہوئے، مفتی محمود ہوئے ، میاں طفیل محمد ہوئے پھر اُن کا ڈاکٹرائن ’’بستی کمال‘‘ میں ڈوب گیا نہ اُن کی سیاست رہی نہ نام۔ مشرف ڈاکٹرائن بھی ایوب اور ضیاء الحق کا چربہ تھا۔ اب باجوہ صاحب کا ڈاکٹرائن رونما ہو رہا ہے اس کی وضاحت آ چکی ۔ سیاسی منظرنامے میں جمہوریت نہ پسپا ہوئی ہے اور نہ ہونی چاہیے۔ وزیراعظم خاقان عباسی اور چیف جسٹس کی دو گھنٹے کی ملاقات میں کیا ہوا اس کا پہلے دن جو معلوم ہو سکا ذکر سپریم کورٹ کے اعلامیہ میں بتایا گیا مگر یہ حقیقت ہے کہ اس میں وزیراعظم نے کسی این آر اوز کا ذکر نہیں کیا بلکہ اور باتیں ہوئی ہیں۔ اپوزیشن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے ۔ معاملہ تو وہی تھا کہ سپریم کورٹ مدد کرے۔ مگر اس ملاقات سے کسی نے ریلیف نہیں مانگا۔ یہ اچھی خبر ہے کہ اب کسی قسم کی کوئی قومی حکومت نہیں بنے گی اور نہ ہی انتخابات ملتوی ہوں گے۔ یہ بات حکمران جماعت کے حق میں جاتی ہے مگر کپتان تو ڈیل کے مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہ بات کہی جا رہی ہے کہ وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات بیک فائر کرے گی۔ مگر نواز شریف کوئی این آ راو نہیں لے رہے۔ مگر وہ تو عدلیہ کی جانبداری کا سوال اٹھانے کے باوجود الزامات کا عدلیہ میں ہی معاملہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ وزیراعظم تھے اسمبلی کے اجلاسوں میں جاتے تھے یا نہیں مگر وہ احتساب عدالت میں مسلسل پیش ہو رہے ہیں۔ جس ’’پناما‘‘ کا شور اپوزیشن نے اٹھایا تھا وہ کہاں گئی۔ ثبوت لائے اور نواز شریف اس مقدمے میں پیش کرے ۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے کہہ دیا ہے کہ نواز شریف کے خلاف نہ تو آف شور کمپنیوں میں نہ لندن فلیٹس اور العزیزیہ سٹیل ملز ملکیت کے کوئی دستاویزی ثبوت ملے۔ گویا انہوں نے تمام معاملات میں نواز شریف کو تو بری الذمہ قرار دے دیا ہے ۔ اب چیف جسٹس کا رول شروع ہو رہا ہے ۔وہ اس بات کا اہتمام کر سکتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں شفاف انتخابات ہوں۔ جس کے لیے وہ راضی بھی ہو گئے۔ کیونکہ وہ پہلے ہی ’’ جمہوری ڈاکٹرائن ‘‘ پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس اور وزیراعظم کی ملاقات سے پس پردہ سازشوں کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔


ای پیپر