بابا جی۔۔۔
29 مارچ 2018 2018-03-29

دوستو، عدلیہ سے لے کر ورقی اور برقی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا میں ان دنوں کسی ’’بابے‘‘ کی دھوم مچی ہوئی ہے، جب دیکھو،جسے دیکھو، بابے کا ذکر ہی ہوتا نظرآتا ہے۔۔۔ ہم بھی باباجی سے متاثر ہوگئے، اسی لئے آج آپ سے باباجی سے متعلق کچھ خاص ،خاص یادیں اور باتیں شیئر کریں گے۔۔۔ہمارے باباجی کچھ ’’مخولی مائنڈڈ‘‘ ہیں، اس لئے ان کی طبیعت میں ہروقت شرارت اور چلبلاپن کوٹ کوٹ کے بھراہوتا ہے۔۔۔ باباجی کہتے ہیں۔۔۔ہمارے نوجوانوں میں ٹیلنٹ ’’کوٹ کوٹ‘‘ کر موجود ہے لیکن لگتا ہے ٹیلنٹ کو ’’کوٹنے‘‘ کے دوران کچھ زیادہ ’’پیس‘‘ دیا گیا۔۔۔ باباجی فرماتے ہیں۔۔۔ جب یورپ میں فوتیدگی ہوتی ہے تو کہتے ہیں ریسٹ ان پیس ۔۔۔ ہمارے یہاں کہتے ہیں، چنگی بھلی روٹی کھادی سی۔۔۔باباجی ایک دن ہم سے فرمانے لگے، ایک گلاس پانی پلانے پہ دس نیکیاں نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں، خود سوچو کولڈڈرنک، ایک پیکٹ سگریٹ اور بریانی کھلانے کا کتنا ثواب ملے گا؟؟۔۔۔ باباجی فرماتے ہیں، اگر کوئی انسان چوڑا ہوکر چل رہا ہو تو اسے قطعی مغرور نہ سمجھنا، ہوسکتا ہے اسے ’’ لاگا‘‘ لگا ہو۔۔۔باباجی کی ایک جڑواں بہن بھی ہے، بابا جی ساٹھ سے اوپر کے ہوچکے لیکن ان کی بہن اب تک تیس سال کی ہیں۔۔۔
ویسے تو کہاجاتا ہے کہ خواتین عمر کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہیں لیکن مرد بھی کم نہیں ہوتے، آپ کسی سچ مچ کے بابے کو ہی کبھی باباکہہ کر دیکھیں، وہ ثابت کردے گا کہ آپ کی عمر اور اس کی عمر میں بس انیس، بیس کا ہی فرق ہے۔۔۔اصل عمرتو خواتین چھپاتی ہیں،جو اگر چھپانی ممکن نہ رہے تو چہرے کو میک اپ سے چھپادیتی ہیں، چنانچہ ان کا اصل چہرہ اور اصلی عمر صرف اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ رات کو اپنے کمرے کا دروازہ لاک کرکے میک اپ اتارتی ہیں ۔۔۔ہمارے والے باباجی مفت مشورے بہت دیتے ہیں، ایک خاتون نے کہا، مجھے اپنے میاں پر شک ہے کہ اس کا چکر کسی کے ساتھ چل رہا ہے۔۔۔ بابا جی نے کہا۔اپنے میاں کے ساتھ اس خاتون کے گھر کے دروازے تک جا، اگر شوہر کے موبائل کا وائی فائی آٹومیٹک کنیکٹ ہوگیاتو تمہارا شک سچ ہوگا۔۔۔باباجی بلاکے ذہین بھی ہیں، ایک بار ہم ان کے ساتھ چائے پی رہے تھے اور ان کے پرمغزتجربات کا نچوڑ سن رہے تھے، اچانک باباجی کی اہلیہ نے آواز دی۔۔۔اجی سنتے ہو۔۔۔باباجی نے ترنت جواب دیا۔۔۔ ہاں سن ہی رہا ہوں، لیکن کاش اس وقت سنی ہوتی جب تم کہا کرتی تھیں کہ میں تم سے شادی نہیں کرسکتی۔۔۔اہلیہ پر طنز کا وار کرکے انہوں نے چائے کا ایک سپ لیا، پھر ہمیں دیکھ کر مسکرائے اور ایک آنکھ میچ کرکہنے لگے۔۔۔ضروری نہیں ہر شہزادے کو شہزادی ہی ملے، کچھ کی قسمت میں بیوی ہی لکھی ہوتی ہے۔۔۔ابھی ہمیں بات کرتے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی، باباجی کی اہلیہ نے ڈرائنگ روم میں آکر کہا، اجی سنیے، دو گھنٹے کے لئے باہر جارہی ہوں، آپ کو کچھ چاہیے۔۔۔باباجی کہنے لگے، نہیں بس،یہی کافی ہے۔۔۔اہلیہ کے جانے کے بعد باباجی کہنے لگے۔۔۔بیٹاجی، یہ بیویاں جو ہوتی ہیں ناں دنیاکے ذہین ترین انسان کوبھی احمق سمجھتی ہیں، کل ہی جنت بیگم(باباجی کی اہلیہ ) ہم سے کہنے لگی، سنیے ، چائے بنالاؤں یا کافی؟ اور رات کو تمہاری پسند کے مٹرقیمہ بنالوں آج۔۔۔ہم نے جنت بیگم کی ’’مہربانیاں‘‘ سن کر جیب میں ڈالا اور کہا۔۔۔ یااللہ خیر، کتنے پیسے چاہئیں۔۔۔
باباجی ازدواجی حیاتیات پہ ماسٹرز بھی ہیں، یعنی شادی شدہ زندگی کا وہ کون سا تجربہ ہے جو باباجی نے نہ کیا ہو، وہ کون سا مسئلہ ہے جو وہ چٹکی بجاتے حل نہ کرسکتے ہوں۔۔۔ ایک بار ہمیں شادی شدہ لوگوں کے بارے میں اپنے ماسٹرز کے مقالہ جات سے کچھ اقتباسات سنا رہے تھے۔۔۔ یہ مقالہ جات ان کی صندوقچی میں رکھے ہوتے ہیں، جسے تالے میں محفوظ رکھتے ہیں۔۔۔ باباجی ہم سے کہنے لگے۔۔۔اگر کسی شوہر سے پوچھو کہ ۔۔۔یار مری جانے کا پروگرام بنا ہے، چلوگے؟ تو وہ بولے گا، سوچ کے بتاتا ہوں۔۔۔ہم نے حیرت سے باباجی سے کہا۔۔۔اس میں نئی بات کیا ہے، ایسا ہی ہوتا ہے ، کسی بھی انسان کا حق ہے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لے۔۔۔باباجی نے ڈپٹ کرکہا، بیٹاجی ، بات پوری ہونے دیا کروپھر لقمہ دیا کرو۔۔۔جب شوہر بولے کہ سوچ کے بتاتا ہوں تو اس کا مطلب ہوتا ہے اپنی زوجہ ماجدہ سے پوچھ کر بتاتا ہوں۔۔۔اسی طرح اگر کسی خاتون خانہ سے اس کی کوئی سہیلی پوچھے کہ ،یار مری جانے کا پروگرام بنا ہے،چلو گی؟۔۔۔ شادی شدہ خاتون کہے گی، پوچھ کر بتاتی ہوں۔۔۔ یعنی شوہر کو بتاکرآتی ہوں۔۔۔باباجی کی باتیں کبھی کبھار ہمارے سرسے گزرجاتی ہیں جیسے ہوائی جہاز گزر جاتا ہے۔۔۔اسی لئے یہ بات بھی ہمارے ننھے سے دماغ میں اٹک کر رہ گئی لیکن سمجھ پھر بھی نہ آسکی۔۔۔باباجی مزید فرمانے لگے۔۔۔ بیٹاجی۔۔۔ ماؤں کو سکھانا چاہیے کہ شوہرکو خوش کیسے رکھا جائے، لیکن مائیں اپنی بیٹیوں کو سکھاتی ہیں کہ شوہر کو قابو میں کیسے کیا جائے۔۔۔
باباجی پڑھائی لکھائی میں کچھ خاص نہیں تھے، اوسط درجے کے طالب علم تھے، ایک بار ان کے والد نے پوچھا،تمہارا رزلٹ اتنا براکیوں آیا ہے؟ باباجی نے فوری جواب دیا۔۔۔اچھے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ برا ہی تو ہوتا ہے۔۔۔استاد نے جب پوچھا کہ تم شہد کی مکھی سے کیا سبق سیکھتے ہو تو باباجی نے تاریخی جملہ فرمایا۔۔۔جو چھیڑے اسے ڈنگ مارو۔۔۔باباجی کی ذہانت کا یہ عالم بچپن سے ہی تھا، جس طرح وہ بچپن میں ٹیچرز کو جواب دیا کرتے تھے اسی طرح کے ’’ذہانت آمیز ‘‘ جملے بازی آج بھی ان کے لبوں سے جھڑتی ہے۔۔۔ باباجی کہتے ہیں بیٹا،جب کوئی تمہارے دل کے دروازے پر دستک دے تو فورا مت کھولنا، بعض لوگوں کی عادت بچوں جیسی ہوتی ہے دستک دے کربھاگ جاتے ہیں۔۔۔باباجی مزید فرماتے ہیں۔۔۔ بچپن میں جب کبھی گھر کے اوپر سے جہاز گزرتاتھا تواس کو ہاتھ ہلاکر’’ ٹا ٹا ‘‘کیا کرتے تھے اور اب بڑے ہوکر ساتھ والے کو سلام تک نہیں کرتے۔۔۔ باباجی کے مطابق آج کل ہرانسان کی زندگی واشنگ مشین جیسی ہوگئی ہے، چکرپہ چکر دیئے جارہی ہے۔۔۔باباجی کے تجربات اور مشاہدات بھی غضب کے ہیں،جن کا نچوڑ وہ اکثر و بیشتر پیش کرتے رہتے ہیں۔۔۔باباجی کامشاہدہ ہے کہ ۔۔۔غریب کی دال میں اتنی پروٹین وٹامن نہیں ہوتی جتنی امیر کے شیمپو میں ہوتی ہے۔۔۔باباجی کہتے ہیں۔۔۔بعض لوگ زندگی کے اس سفر میں ہمارے ساتھ صرف یہ دیکھنے کے لیے ہوتے ہیں کہ ہم کب کہاں اور کیسے گرتے ہیں۔۔۔یہ بھی باباجی کا ہی کہنا ہے کہ ۔۔۔ ہمارے یہاں ایک طبقہ ایسا بھی پایاجاتا ہے جو گھر میں خود اٹھ کر پانی پینا ’’بزتی‘‘ اور میکڈونلڈز یا کے ایف سی میں سیلف سروس کو ’’سٹائل‘‘ سمجھتا ہے۔۔۔باباجی کہتے ہیں۔۔۔ کچھ لوگوں کو اچھا بھلا پتہ ہوتا کہ اللہ نے انہیں انسان بنایا ہے لیکن وہ حرکتیں ایسی کر دیتے ہیں کہ کسی نا کسی کو انہیں کہنا پڑتا ہے اوئے انسان بن۔۔۔باباجی ایک روزہمیں سمجھاتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔دوسروں کے منہ پر ٹیپ تو آپ لگا نہیں سکتے ،لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنی مرضی کی بات سنیں تو اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگالیں .۔۔۔مزید فرماتے ہیں کہ۔۔۔سمجھدار لوگ بحث نہیں کرتے،بس تیلی لگا کے سائیڈ پہ ہو جاتے ہیں۔۔۔
باباجی کہتے ہیں اب ان پر بڑھاپا طاری ہوگیا ہے، جس کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔۔۔ہم نے ان سے بڑھاپے کی نشانی کا پوچھاتو کہنے لگے۔۔۔ اپنی سگی بیگم سے محبت ہوجانا بھی بڑھاپے کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے۔۔۔باباجی کا ہی کہنا ہے۔۔۔سیانے کہتے ہیں کم بولنے میں حکمت ہے،میں کم بولوں تو لوگ مجھے" میسنہ"کہتے ہیں۔۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔یہ بھی باباجی اکثر ہم سے کرتے رہتے ہیں۔۔۔وہ کہتے ہیں۔۔۔دعا کا کوئی رنگ نہیں ہوتا،مگر یہ رنگ لے آتی ہے۔


ای پیپر