بغاوت کے مقدمات،بھارتی جیلیں اور عقوبت خانے
29 مارچ 2018 2018-03-29

مقبوضہ کشمیر میں اس وقت کشمیری قیدیوں کو سری نگر کی سینٹرل جیل سے جموں اور بھارتی جیلوں میں منتقل کئے جانے پر زبردست احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بابائے حریت سید علی گیلانی سمیت دیگر قائدین نے تاحیات پابند سلاسل ڈاکٹر محمد قاسم اور ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی کی طرح بعض دوسرے رہنماؤں اور سرگرم کشمیریوں کو وادی کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کرنے پر شدید غم و غصہ اور ان کی زندگیوں سے متعلق سخت خطرات کا اظہارکیا ہے۔ سری نگر سمیت پورے کشمیرمیں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا اور اس امر کا مطالبہ کیا کہ کٹھ پتلی سرکار ہندوستانی سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کرے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو ان کی رہائش گاہوں کے قریب ترین جیلوں میں رکھا جائے تاکہ ان کے اہل خانہ کو ملاقات کرنے میں آسانی ہو لیکن کشمیریوں کیلئے توسرے سے کوئی قانون ہے ہی نہیں ۔ بھارت میں سزائے موت کے قیدی چودہ سال یا اس سے بھی کم عرصہ میں اپنی سزا کی مدت پوری کر کے رہا ہو جاتے ہیں لیکن کشمیریوں کو تاحیات عمر قید کی سزائیں سنادی گئی ہیں اور ڈاکٹر محمد قاسم جیسے رہنمابیس سال سے بھی زائد عرصہ سے جیل میں قید ہیں مگر اس کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جارہا۔ مقبوضہ جموں اور بھارت کی جیلوں میں قید کشمیریوں سے حال ہی میں ان کے اہل خانہ نے
ملاقات کی اور واپسی پر بابائے حریت سید علی گیلانی سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ رکھے جانے والے ناروا سلوک سے آگاہ کیا ہے۔ وفد میں شامل افراد کی باتیں سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کشمیری قیدیوں کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ جب سے سری نگر کی سینٹرل جیل سے انہیں دوسری جیلوں میں بھیجا گیا ہے انہیں انتہائی ناقص غذا فراہم کی جاتی ہے اور انہیں بھوکا رکھ کر اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح واش روم میں استعمال ہونے والے برتنوں میں انہیں پانی پینے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔اپنے پیاروں سے مل کر آنے والے کشمیری زاروقطار روتے اور بھارتی جیلوں کا احوال بیان کرتے رہے جس پر بزرگ کشمیری قائد نے انہیں تسلی دی اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کی حالت زار کا نوٹس لیں اور غاصب بھارت سرکار کے ظلم و دہشت گردی سے مظلوم کشمیریوں کو نجات دلانے کی کوشش کریں لیکن معاملہ چونکہ مظلوم کشمیری مسلمانوں کا ہے اس لئے بابائے حریت اور دیگر کشمیریوں کی یہ آواز کوئی سننے کیلئے تیار نہیں ہے بلکہ ہر آنے والے دن کشمیریوں کی قتل و غارت گری کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔
بھارتی فورسز کی جانب سے پچھلے دو ہفتوں میں درجنوں کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ بھارتی فوج اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے آپریشن آل آؤٹ کے نام پر نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر خون بہانے کی سیاہ تاریخ رقم کی جارہی ہے اور گرفتار کشمیریوں کو تفتیش کے بہانے وادی کے مختلف عقوبت خانوں میں رکھ کر شدید ٹارچر کیا جارہا ہے مگر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے۔ نام نہاد انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بھارتی فوج جب اور جسے چاہتی ہے پبلک سیفٹی ایکٹ لگا کر جیل میں ڈال دیتی ہے اور پھر کوئی اس کا پرسان حال نہیں ہوتا۔ چند دن قبل دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی نے یوم پاکستان کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اس دوران خواتین نے پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا اور وطن عزیز پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا ۔ یہ ویڈیو جیسے ہی سوشل میڈیا پروائرل ہوئی بھارتی میڈیا نے آگ بگولا ہو کر شور مچایا تو بھارت سرکار کے دباؤ پر فوری طور پر سیدہ آسیہ اندرابی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بھارتی فورسز کی جانب سے اس سے قبل بھی ان پر بغاوت کے مقدمات بنائے گئے اور طویل عرصہ تک انہیں نظربندیوں اور قیدو بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس کے باوجود وہ جدوجہد آزادی کے عظیم مقصد سے پیچھے ہٹنے کیلئے کسی طور تیار نہیں ہیں۔دیکھا جائے تو کشمیریوں کی تحریک آزادی میں خواتین نے بھی لازوال کردار ادا کیا ہے۔ بھارتی فوج کے مظالم کے نتیجے میں کشمیر کا کوئی ایسا گھر نہیں ہے جو متاثر نہ ہوا ہو۔خواتین کو بھارتی فوج مسلسل ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہے۔خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں خواتین بدقسمتی سے ’’گھر نما جیل‘‘ میں زندگی گزار رہی ہیں اور کئی باربھارتی درندوں کی جانب سے جنسی استحصال کا بھی شکار ہوئیں، جس کی مثال کنن پوشہ پورہ، جگر پورہ اور چھانہ پورہ جیسے علاقے ہیں جہاں انتقامی کارروائی کے دوران خواتین کو نشانہ بنایا گیا تاکہ کشمیری نو جوانوں کے عزائم و حوصلوں کو توڑا جا سکے۔ تنازع کشمیر نے بیواؤں اور نیم بیواؤں کی ایک کثیر تعداد کھڑی کر دی ہے جو بے بسی، مفلسی اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جموں کشمیر میں رواں تحریک کے دوران ہزاروں کی تعداد میں لاپتا کئے گئے افراد کا دکھ کشمیر کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے۔ ہزاروں خواتین آج بھی اپنے ان عزیزواقارب کی راہ تک رہی ہیں جنہیں برسوں پہلے یا تو لاپتا کیا گیا یا پھر گمنام قبرستانوں میں دفن کر دیا گیا۔ان سب مظالم اورمصائب کے باوجود کشمیری خواتین نے بہادری کی عظیم تاریخ رقم کی ہے جو تحریک آزادی کے لئے اپنے لخت جگر قربان کروا نے کے بعد بھی شہید کے جنازے میں رونے کی بجائے کہتی ہیں کہ میرا ایک بیٹا اور بھی ہے میں اسے بھی آزادئ کشمیر اور تکمیل پاکستان کے لئے قربان کر دوں گی۔ تحریک آزادئ کشمیر میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے جس بہادری اور جرأت سے بھارتی فوج کے مظالم کا مقابلہ کیا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔سیدہ آسیہ اندرابی بھی ایسی ہی باہمت خاتون ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہمیشہ پاکستان کا پرچم لہرایا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔بھارت سرکار نے ان پر غداری کے مقدمات بناکر جیلوں میں ڈالا لیکن ان کے جذبات ،ہمت اورحوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی وہ ہمیشہ میدان میں ڈٹی رہیں اور نہ صرف خود بلکہ ہزاروں خواتین کو بھی تحریک آزادی کے لئے متحرک کیا۔ان کے شوہر ڈاکٹرمحمد قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔ آسیہ اندرابی کے ساتھ ان کی شادی 1990ء میں ہوئی۔ 1992ء میں انہیں تحریک آزدی میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تاہم آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتو پچھلے 24 سال سے جیل میں ہیں۔ جیل میں انہوں نے اسلامک سٹڈیز میں پی ایچ ڈی کرلی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔ عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 24 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جموں کشمیر کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے جہاںآٹھ لاکھ
سے زائد بھارتی فوجی دندناتے پھررہے ہیں۔ یہ ایک قید خانہ ہے جس میں کشمیری اپنی زندگی کی سانسیں پوری کررہے ہیں۔ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قراردیاتھا ۔آج یہ شہ رگ دشمن کے قبضہ میں ہے اور کشمیری مسلمان اس وقت بھی پاکستان کوہی اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتے ہیں مگر حکومت پاکستان مظلوم کشمیریوں کی مددکیلئے وہ مضبوط کردار ادا نہیں کر رہی جو اسے کرنا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر سے پاکستان کی سالمیت اور استحکام وابستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی، ہندوستانی جیلوں میں قیدیوں سے نارواسلوک اورکیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے اور اس سلسلہ میں تمام سفارت خانوں کو پوری طرح متحرک کیا جائے۔ یہ پاکستانی حکمرانوں کا فرض بھی ہے اور ان پر قرض بھی۔ آزادئ کشمیر کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہے اور نہ ہی غاصب بھارت کو کشمیر سے بے دخل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ممکن ہے۔


ای پیپر