مائی لارڈ ایک ازخود نو ٹس تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مطالبات پر بھی !
29 مارچ 2018 2018-03-29

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اس وقت بہت ہی متحرک ہیں۔ انہوں نے قصور میں جنسی زیادتی کے بعدقتل ہونے والی بچی زینب کے قتل پر ازخود نو ٹس لے کر ملزموں کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا دی ہے۔ اسی طرح انہوں نے مردان میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی پری زینب کے قتل پر بھی سومو ٹو ایکشن لیا۔کراچی میں جعلی پو لیس مقابلے میں قتل کئے گئے نقیب اللہ محسود قتل پر بھی از خود نو ٹس لے کر سابق صدر آصف علی زرداری کے بہادر بچے راؤ انوار کو ہفتوں تک روپو شی کے بعد سپریم کورٹ حا ضر ہونے پر مجبور کیا ۔صاف پانی ،جعلی دودھ اورنجی میڈیکل کالجز کی بھاری فیسوں پر ازخود نو ٹس لے کر احکامات جاری کر چکے ہیں۔لاہور اور کراچی میں سرکاری ہسپتالوں کے کامیاب دورے بھی کر چکے ہیں۔کراچی کو کچرے سے صاف کرنے کے احکامات بھی جاری کر چکے ہیں۔اسی طر ح دوائیوں کی قیمتوں کا تعین اور دل میں ڈالنے والے سٹنٹ کے معیار اور قیمتوں پر بھی متعلقہ محکموں کے اعلیٰ عہدے داروں سے باز پرس کر چکے ہیں۔لیکن ان تمام اقدامات پر ایک طبقہ خا ص کر وفاقی اور صوبائی حکمران ،متعلقہ اداروں کے افسران ،بعض سیاسی جماعتوں کے عہدے دار وں سمیت سوشل میڈیا ایکٹو یسٹ معترض بھی ہے۔جو از وہ یہ پیش کر تے ہیں کہ جن مسائل کو حل کر نے کے لئے چیف جسٹس ازخود نوٹس لیتے ہیں وہ عدلیہ کے دائرۂ اختیار میں نہیں۔لیکن چیف جسٹس کا مؤ قف اس کے بر عکس ہے کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے فرائض انجام دے رہے ہیں۔بعض لوگ یہ اعتراض بھی اٹھا تے ہیں کہ چیف جسٹس آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے اختیارات کا استعمال صرف پنجاب اور سندھ میں کیوں کر رہے ہیں؟عزت مآب چیف جسٹس عدلیہ کے آئینی اور قانونی اختیار ات کا رخ خیبر پختون خوا،وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات(فاٹا) اور بلو چستان کی طر ف کیوں نہیں کر تے؟
معترضین کا یہ مطالبہ درست بھی ہے۔اس لئے کہ اس وقت خیبر پختون خوا،فاٹا اور بلو چستان کے تعلیم یا فتہ نو جوانوں میں سکیورٹی اداروں کے خلاف جو لا وا پک رہا ہے وہ آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے،یا کوئی بھی ما چس کی تیلی لگا کر اس کو بلاسٹ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کے نتائج خوف ناک حد تک خطر ناک ہو سکتے ہیں۔ریاستی ادارے تو کیا خود ریاست ان نقصات کو برادشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔اس لئے کہ اس بار ریاست اور ریاستی اداروں کے مقابل ان پڑھ دہشت گر د نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہونگے۔جو فوجی آپریشن کی وجہ سے اپنے علاقوں سے ہجرت نہیں کریں گے،بلکہ بندوقوں کے سامنے کھڑے ہوں گے۔وہ سنگینوں کے سائے میں زندگی گزارنے سے بغاوت کر یں گے۔ جنگی جہاز اور ہیلی کا پٹر کھلے آسمان تلے ان کے اوپر پروازیں کریں گے ،لیکن وہ پہاڑوں اور غاروں میں چھپنے کی بجائے سڑکوں اور شاہراہوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کی صورت میں مو جود ہو ں گے۔
ما ئی لارڈ آپ سے گز ارش ہے کہ ایک از خود نو ٹس اس پر بھی لیا جائے۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) ،خیبر پختون خوااور بلوچستان کے ان تعلیم یا فتہ نوجوانوں کو بلا یا جائے ۔ان سے پو چھا جائے کہ ان کے مطا لبات کیا ہیں۔ ان نو جوانوں کی مطالبات کیا ہیں،بس چند چھوٹی چھوٹی خواہشیں ہیں۔چونکہ یہی نو جوان پنجاب اور سندھ کے تعلیمی اداروں سے پڑھے ہو ئے ہیں ۔اس لئے ان کی خواہش ہے کہ اپنے علا قوں میں آنے کے بعد یہاں بھی وہ آزادی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ان تعلیم یا فتہ نوجوانوں کی پہلی خواہش یہ ہے کہ جو لوگ گز شتہ کئی سالوں سے لا پتہ ہیں ۔ان کے بارے میں بتا یا جائے۔اگر زندہ ہیں تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ عدالتیں ان کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں وہ سرآنکھوں پر ۔اگر قتل کر دئیے گئے ہیں تو بھی بتا یا جائے تا کہ ان کے ورثاء کے دلوں کو قرار آجائے ۔اسی طر ح ان نو جوانوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ بلو چستان ،خیبر پختون خوا اور فاٹا میں سڑکوں پر بنائی گئی چیک پو سٹوں کو ختم کیا جائے۔جہاں ضرورت ہے وہاں چیک پو سٹ موجود رہے ،لیکن اس چیک پو سٹ پر کھڑے جو انوں کو پابند کیا جائے کہ وہ گز رنے والوں کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آئیں،خا ص کر بزرگوں ،بیماروں اور عورتوں کے ساتھ۔فاٹا کے نو جوانوں کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ قبائلی علاقہ جات میں بارودی سرنگوں کو صاف کیا جائے ،اس لئے کہ اس سے سکیورٹی اداروں کے جو ان شہید ہو رہے ہیں۔ان بارودی سرنگوں سے بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ ابھی تک سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ بچے اور عورتیں ان با رودی سرنگوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے معذور ہو چکے ہیں۔وادی پشاوراورملاکنڈ ڈویژن کے تعلیم یا فتہ نو جوانوں کا مطالبہ ہے کہ چونکہ امن قائم ہو چکا ہے،اس لئے سکیورٹی اداروں کی چیک پو سٹوں کو ختم کرکے امن و امان کی صورت حال سول انتظامیہ کے حوالے کی جائے۔
مائی لارڈ ! مقصد آپ کو ڈیکٹیٹ کرنا نہیں ۔بس ایک تجویز ہے۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج کو ایک مہینے کے لئے بلوچستان کے لئے وقف کیا جائے؟ سپریم کورٹ کا یہ جج ایک مہینے تک کو ئٹہ میں عدالت لگائے۔ پورے صوبے میں منادی کرائی جائے کہ جس گھر سے بھی کسی کو اغوا کیا گیا ہے یا لاپتا ہے وہ اپنی درخواست مقررہ مدت میں جمع کرا دیں۔جس تر تیب سے درخواست جمع ہوں وہی مقدمہ نمبر ہو گا۔پھر اسی تر تیب سے تمام مقدمات کو ایک ایک کر کے سنا جائے۔روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو ۔تمام معلومات سکیورٹی اداروں کو فراہم کی جائے تاکہ ان کے پاس جواب جمع کرنے کے لئے مناسب وقت ہواور مقدمات میں تا خیر بھی نہ ہو۔
مائی لارڈ !کیا ایسا ممکن نہیں کہ سپریم کورٹ کا ایک جج بلو چستان کے ساتھ ساتھ خیبر پختون خوا اور فاٹا کے لئے بھی صرف ایک مہینے کے لئے مختص کیا جائے۔وہ تمام لاپتہ افراد کا ریکارڈ مرتب کریں۔چونکہ خیبر پختون خوا میں امن و امان کی صورتحال اب بہت ہی بہتر ہے لہذا ان کو یہ بھی ٹا سک دیا جائے کہ صوبے میں سکیورٹی چیک پو سٹوں کے حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ مرتب کر کے عدالت میں پیش کردیں۔اس لئے کہ خیبر پختون خوا میں زیادہ تر سکیورٹی چیک پوسٹوں کی اب ضرورت نہیں۔وہاں کی پو لیس اب اس قابل ہے کہ امن و امان کو بر قرار رکھ سکے لہٰذا جہاں ضرورت ہے وہ دوسرے اداروں کی بجائے پولیس کے حوالے کئے جا ئیں۔
مائی لا رڈ! اگر آپ آئینی اور قانونی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بلو چستان ،خیبر پختون خوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے تعلیم یا فتہ نوجوانوں کی یہی چند خواہشیں پوری کردیں گے تو یہ آپ کا ان نو جوانوں پر نہیں ،بلکہ اس ریاست اور ریاستی اداروں پر بہت بڑا احسان ہو گا۔اس لئے کہ یہی تعلیم یا فتہ نو جوانوں ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف مسلح جدوجہد کی بجائے جمہوری جدوجہد یعنی احتجاج کے راستے سے اپنے حقوق مانگنے کے قائل ہیں۔


ای پیپر