دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مناسب اقدامات
29 مارچ 2018 2018-03-29

پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر جین فرانسسکو کوٹین نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مناسب اقدامات کئے ہیں جس کے بعد ملک میں امن وامان کی صورت حال بہت حد تک بہتر ہوئی ہے۔ دہشتگردوں کو مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے پاکستان نے اگر تسلی بخش اقدامات نہ کیے تو پاکستان کا نام گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل ہوسکتاہے۔ یورپی یونین کے سفیر جین فرانسسکو کوٹین کا کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پیشہ ور اور ماہر فوجی ہیں۔انہوں نے ملک کے اندرونی حالات کو کنٹرول کرنے کے ساتھ بین الاقوامی برادی کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کیے ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف حالیہ آپریشن کے بعد ملک کے اندر امن وامان کی صورت حال بہت بہتر ہوئی ہے۔جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بارے میں تاثر بہتر ہوا ہے۔ خصوصاً یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات خوشگوار حد تک بہتر ہوئے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن ردالفساد سے فاٹاسمیت دیگر علاقوں میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے یعنی 'نیکٹا' نے ملک میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک قومی پالیسی وضع کی ہے جس میں مدارس اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے نصاب کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں اصلاحات وضع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ پالیسی وفاقی حکومت نے وضع کی ہے جس کے تحت انسداد انتہاپسندی کے لیے مختلف سفارشات اور اقدامات تجویز کیے گئے تاہم صوبائی حکومتیں اپنے حالات اور ثقافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے حکمت عملی وضع کر سکتی ہیں۔اس پالیسی میں ان عوامل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو معاشرے میں انتہا پسندانہ سوچ اور تشدد کی وجہ بن رہے ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں جن میں نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی شامل ہے۔پالیسی میں ملک میں قائم دینی مدارس کو مرکزی تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے ان کے نصاب کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔انتہا پسند سوچ بننے میں کئی سال لگے ہیں اس کو تبدیل کرنے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔ ہر شعبے میں دور رس اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے جن میں مدارس کا تعلیمی نصاب، جیل اصلاحات، اس میں غربت کا تدارک کرنا بھی شامل ہے۔ان تجاویز پر عمل کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل بنانا پڑے گا۔ اس سے ملک میں دہشت گردی میں کمی آنے سے انتہاپسندی کے رجحانات میں بھی کمی آئے گی۔ایک مسئلہ انتہاپسندی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا چیلنج ہے۔ اول ترجیح تو دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو۔ اس کے لیے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل کے تحت عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری آپریشن ردالفساد کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن حالیہ ہفتوں میں ملک میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے ملوث ہونے کی وجہ نوجوانوں میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو قرار دیا جارہا ہے۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش اور اس جیسی شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے پر توجہ دے رہی ہیں جس کا بروقت تدارک ضروری ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ملک میں دہشت گرد گروپ کا کوئی وجود نہیں۔ ہم نے پچھتر ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے میں خطے کو ایک سو تئیس ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑی۔ افغانستان میں القاعدہ کے خلاف امریکی آپریشن سے دہشت گردی پاکستان میں پھیلی، تاہم اب خطے میں دہشت گرد گروپ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ آپریشن رد الفساد سے بڑی کامیابی ملی۔ منظم فوجی آپریشن کر کے حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانے ختم کرائے۔
2003ء سے 2013ء تک دہشت گردی کی وجہ سے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں تیزی آئی تھی لیکن 2017ء تک اس میں کافی حد تک کمی ہوئی ہے۔ پاک فوج نے کارروائیاں کرتے ہوئے کراچی اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کیا اور جو دہشت گرد بمبار کارروائیاں کرنے کے لیے نکال دیے گئے تھے انہیں بھی گرفتار کیا۔ اگر پاکستان کے ریاستی اور غیر ریاستی دشمن پاکستان کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے لیے متحد ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستانی قوم اپنے دفاع کے لیے ایک کیوں نہیں ہو سکتی۔


ای پیپر