پیغام پاکستان کے بعد
29 مارچ 2018 2018-03-29

آپ کو یاد ہوگاکہ گزشتہ سال نومبرمیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں تمام مسالک کے علمائے کرام نے22نکات پر مشتمل ایک متفقہ اعلامیہ یا فتویٰ ’’ پیغام پاکستان ‘‘ کے عنوان سے جاری کیاتھا جس میں کہا گیاکہ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ،ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی ،نیز لسانی ،علاقائی ، مذہبی ،مسلکی اختلافات اور قومیت کے نام پر تخریب کاری و فساد کی تمام صورتیں احکام شریعت کے خلاف ہیں۔ تکفیر کے لیے کسی گروہ کو ٹارگٹ نہیں کیا جا سکتا اور یہ حق ریاست کے پاس ہے، پرائیویٹ جہاد کی اجازت نہیں اورکسی بھی جرم کی سزا صرف ریاست ہی دے سکتی ہے۔ اس فتویٰ میں اور بھی بہت سی باتیں ہیں جنہیں کالم کی تنگ دامنی کے سبب درج نہیں کیا جا سکتا۔ تمام مسالک نے تو اپنی طرف سے متفقہ فتویٰ جاری کر دیا جس کی مزید توثیق 1800سے زائد علماء نے بھی کی لیکن دوسری جانب غور طلب معاملہ یہ ہے کہ اس تاریخی اعلامیہ کو ریاستی سطح پر پروموٹ کیا گیا اور نہ ہی میڈیا یاکسی دوسرے ادارے نے اسے قابل توجہ سمجھا۔
ممتاز دانش ور اور کالم نگار خورشید ندیم کے ادارہ ’’آرگنائزیشن فار ریسرچ اینڈ ایجوکیشن‘‘ کے زیر اہتمام صحافیوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں اسی موضوع کو زیر بحث لایا گیاتھا۔’’ پیغام پاکستان کے بعد ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس فکری مذاکرے میں مجیب الرحمن شامی ،سجاد میر،ارشاداحمد عارف، ایثار رانا، رؤ ف طاہر، حفیظ اللہ نیازی،یاسر پیر زادہ،عامر ہاشم خاکوانی،حبیب اکرم،ڈاکٹر حسین پراچہ،سعید اظہر،افضال ریحان،نصیر الحق ہاشمی ،اجمل جامی اور دیگر دانش وروں نے اظہار خیال کیا۔اس موقع پر اہل دانش کا کہنا تھا کہ ملک سے تشدد کے خاتمے کے لیے ایک قومی بیانیہ کی اشد ضرورت تھی جس کے لیے تمام مسالک کی طرف سے متفقہ اعلامیہ جاری ہوا لیکن آج تک اس پر حقیقی معنوں میں عمل در آمد نہ ہونا لمحۂ فکر ہے۔خود ریاستی اداروں کی جانب سے بھی اس پر چنداں پیش رفت نہ ہوئی۔
مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا کوئی قومی ادارہ ’’ پیغام پاکستان ‘‘کو’’اون‘‘کرتا۔ وزارت داخلہ، وزارت مذہبی اموریا کسی اور ادارے نے اس کی پروموشن کے لیے کچھ نہ کیا۔ پیغام پاکستان کیسا پیغام تھا جو صحیح معنوں میں قوم تک نہ پہنچ سکا۔ د انش وروں کوبھی معلوم نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے بیس اور پیغام پاکستان کے 22نکات کون سے تھے۔ نیشنل ایکشن پلان کی مانیٹرنگ کے لیے اپیکس کمیٹیاں بنائی گئیں لیکن ان کمیٹیوں نے صحیح کام نہ کیا ۔ پیغام پاکستان کی صورت میں علمائے کرام نے جو کچھ کیا بہر حال اس کی اہمیت ہے۔ علمائے کرام کا سوسائٹی میں ایک رول ہے ،یہ علماء ہی تھے جنہوں نے سوشلز م کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور سوشلزم کے مد مقابل لفظ’ مساوات‘ متعارف کروایا تھا۔ ارشاد احمد عارف نے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہاکہ حکومتوں کی نااہلی نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ۔ جہاد کو پرائیویٹائز کرنے میں پہلا قصور ہماری ریاست کا ہے مولوی کا بعد میں ہے۔ پیغام پاکستان کی دستاویزات کو کسی بھی میڈیا آفس میں نہیں پہنچایا گیا ۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ شدت پسندوں کو قومی دھارے میں لائیں گے لیکن دوسری طرف اگر یہی لوگ کسی سیاسی پلیٹ فارم سے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہیں تو ان کا راستہ روکا جاتا ہے ۔انہوں نے ملی مسلم لیگ کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا دوہرا پن نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف ہم بلوچوں کو بھاری پیسے د ے کر انہیں قومی دھارے میں لانا چا ہ رہے ہیں اور دوسری جانب جو جہادی طبقہ خود سے قومی دھارے میں آنا چاہتا ہے ہم اس کا راستہ روک رہے ہیں۔ قانون تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے بات کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ 295-Cکو اس قدر پیچیدہ بنا یاگیا ہے کہ آسانی سے اس کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی بھی بندہ مایوس ہو کر خود ہی ہتھیار اٹھا لیتا ہے۔ رؤف طاہرکا کہنا تھا کہ کوئی بھی قومی لیڈر اس پر معذرت نہیں کرنا چاہتا کہ چالیس سال قبل ہم نے ایک قدم اٹھایا تھا اور جہاد کو پرائیویٹ کر کے تاریخی غلطی کی تھی۔حسین احمد پراچہ نے کہا کہ ہر زمانے اور وقت کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں اور وہی اپنے وقت کے حساب سے بہتر ہوتے ہیں۔ یہ کہنا کہ چالیس سال قبل ہم نے غلطی کی یہ کوئی اچھا تاثر نہیں ۔عامر ہاشم خاکوانی اور یاسر پیر زادہ نے کہا کہ علمائے کرام سمجھتے ہیں کہ ریاست ہمیں استعمال کرکے چھوڑ دیتی ہے اور پھر نتیجہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے ، جس طرح ماضی قریب میں ہوا اور بہت سے علما ء کو دہشت گردوں نے شہید بھی کیا ۔اگر ہم علماء سے کام لینا چاہتے ہیں تو ان کے تحفظ کے لیے بھی کچھ کرنا ہوگا۔ پیغام پاکستان ایک اچھی کاوش ہے،اس میں اقلیتوں کے حقو ق پر بھی زور دیا گیا ۔ایثار رانانے کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کن ممالک نے یہاں پر پیسہ لگایا اور کن بیرونی طاقتوں نے یہاں دہشت گردوں کو پروموٹ کیا۔یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی تھی اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ یہ ہماری جنگ بن گئی ۔اجمل جامی(اینکر ) ،حبیب اکرم (اینکر) ، سعید اظہر اور سجاد میر کا کہنا تھا کہ بیانیہ کس بلا کا نام ہے ، ریاست میں کوئی بیانیہ تھا نہ اب ہے۔سرکاری سطح پر جس طرح ماضی میں جہاد کی نجکاری کی گئی اس کے نتیجے ہی میں دہشت گردی اور متشددانہ رویوں نے جنم لیا۔ وطن کو قائم ہوئے71برس ہو چکے ، اس طویل عرصے کی بیلنس شیٹ یہ ہے کہ ملک ٹوٹ چکا ہے اورفرقوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔
یہ فکری مذاکرہ تقریباً چار گھنٹے جاری رہا ، اس میں مختلف آراء سامنے آئیں تاہم تمام سکالرز کا مرکزی نقطہ نظر یہی تھا کہ وطن عزیز سے تشدد کے خاتمے کے لیے ہر شخص خواہ وہ عالم دین ہو، صحافی/اینکر ہویا بیوروکریٹ اور عام شہری اپنے طور پر کردار ادا کرے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسی فضا پیدا کریں جس سے دہشت گردوں کی بودو باش بند ہو اورمتعصبانہ رویوں کا خاتمہ ہو ۔شدت پسندی خواہ مذہبی ہو یا سیاسی اور لسانی‘ سماج کے لیے زہر قاتل ہے ۔دراصل سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک قوم نہیں ہیں لہذا ہم قومی مفاد میں کسی ایک بیانیہ پر متفق بھی نہیں ہوتے جس کے سبب مسائل پر قابو پانے میں مشکلات درمشکلات کا سامنا رہتا ہے ۔جس دن ہم حقیقی معنوں میں ایک قوم بن گئے ہمارے مسائل حل ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ انشاء اللہ۔


ای پیپر