مشرف غداری کیس : جسٹس یحیٰی آفریدی نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا
29 مارچ 2018 (13:41) 2018-03-29

اسلام آباد:سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والاخصوصی بینچ سربراہ جسٹس یحیی آفریدی کی مقدمہ سننے سے معذرت کے بعد ٹوٹ گیا۔


تفصیلات کے مطابق خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں کیس کی سماعت کرنا تھی۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر پر تین رکنی خصوصی بینچ کیس کی سماعت کررہا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے وکلا کی طرف ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں بینچ کے سربراہ جسٹس یحیی آفریدی پر اعتراض اٹھایا گیا ۔


درخواست میں کہا گیا تھاکہ جسٹس یحیی آفریدی سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے وکیل رہے ہیں، انہیں مشرف کے حوالے سے بغض ہے لہذا ان سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔پرویز مشرف کے وکلا کی طرف سے درخواست پر چیمبر میں 40منٹ تک سماعت ہوئی جس پر فیصلہ محفوظ کیا گیا جسے بعد ازاں سناتے ہوئے جسٹس یحیی آفریدی نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا۔ جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے حکم میں لکھا کہ گوکہ یہ اعتراض غلط ہے، وہ افتخار چوہدری کے وکیل رہے ہیں یہ بات درست ہے کہ جب 3نومبر 2007کی ایمرجنسی لگائی گئی تو اس کے خلاف سپریم کورٹ میں جو درخواست دی گئی وہ اس میں شریک درخواست گزار تھے، اب جبکہ اعتراض اٹھایا گیا ہے تو انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر درست سمجھتا ہوں کہ خود کو مقدمے سے الگ کرلوں۔


بینچ کے سربراہ جسٹس یحیی آفریدی نے کیس کی سماعت سے معذرت کے بعد تحلیل ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے 16 مارچ کو تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں سابق صدر کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔عدالت نے پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی معطل کرنے کی ہدایت کی تھی۔


ای پیپر