ایک فریادی چل کر آیا تھا ٗ میں نے فریاد سن لی : چیف جسٹس ثاقب نثار
29 مارچ 2018 (13:20) 2018-03-29

اسلام آباد : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ملاقات میں عدلیہ نے کچھ کھویا نہیںبلکہ کچھ پایا ہے‘ ایک فریادی میرے پاس آیا تھا میں نے ا سکی فریاد سنی ،میں اپنے ادارے اور وکلاء کو مایوس نہیں کروں گا۔


مری میں غیر قانونی تعمیرات کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس کے درمیان حال ہی میں ہونے والی ملاقات کا تذکرہ ہوا جس پر چیف جسٹس نے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لطیف کھوسہ صاحب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ میٹنگ میں عدلیہ نے کچھ کھویا نہیں بلکہ کچھ پایا ہی ہے عدلیہ اور مجھ پر اعتماد کریں ایک فریادی چل کر آیا تھا میں نے اسکی فریاد سنی کیو نکہ میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے۔


انہوں نے کہا عدلیہ کے اس ادارے اور اپنے اس بھائی پر اعتبار کریں، اپنے ادارے اور وکلا کو مایوس نہیں کروں گا،میں نے ان کے گھر جانے سے انکار کیا تھا ۔ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان (وزیراعظم) کی تکلیف سے سب واقف ہیں‘کیاجسٹس (ر) عبدالرشید والی صورتحال تھی ۔وہ کسی کا نام نہیں لے رہے بلکہ فریادی کی بات کررہے ہیں۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس آف پاکستان نے گندے پانی سے جنازہ لے جانے کے از خود نوٹس کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علاقہ میں گندگی کے ڈھیر ہیں‘ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ایگزیکٹو کا کام ہے‘ بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ نے کرنا ہے‘ میں ایگزیکٹو کا معاون بننے کے لئے تیار ہوں اور مرد کیلئے کسی کو پکڑنے کے لئے بھی تیار ہوں‘ لوگوں کو اچھی زندگی کی فراہمی کی کوشش کریں۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں گندے پانی سے جنازہ لے جانے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔


دوران سماعت چیف جسٹس نی میونسپل کمیٹی سے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ کے علاقہ میں یہ کیا ہورہا ہے سوا سال سے آپ نے ٹھیک نہیں کیا گندگی کے ڈھیر دیکھے ہیں آپ کے علاقہ میں قبضہ مافیا کی شکایات بھی ہیں۔چیئرمین میونسپل کمیٹی نے کہا کہ جب سے عہدہ سنبھالا ہے یہی حال ہے حالات بہتر ہورہے ہیں دو ہفتہ میں مزید تبدیلی آئے گی۔


چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب کام میرے کرنے کے نہیں ہیں۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ایگزیکٹو کا کام ہے۔ بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ نے کرنا ہے۔ بنیادی حقوق کے معاملات پر عدالت میں آتے ہیں تو مداخلت ہوجاتی ہے۔ ہسپتال کے معاملات پر ایگزیکٹو کام نہیں کرے گی تو نوٹس لینا مداخلت ہے؟ کیا بنیادی حقوق پر نوٹس لینا غلطی ہے سندھ میں چار ہزار سکول ہیں جہاں پانی تک دستیاب نہیں کیایہ ہماری غلطی یا مداخلت ہے کہ میں تو ایگزیکٹو کا معاون بننے کے لئے تیار ہوں اور آپ کی مدد کے لئے کسی کو پکڑنے کے ئے بھی تیار ہوں۔ جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ ایم این اے رائو ا جمل صاحب آپ کے علاقہ میں کیا ہورہا ہے؟ جس پر ایم این اے نے کہا کہ یہ ذمہ داری میونسپل کمیٹی کے چیئرمین کی ہے۔


ای پیپر