قاتل معاشرہ اور بیوروکریسی!
29 مارچ 2018

اللہ انسان کو زندگی ایک بہت بڑی نعمت کے طورپر عطا فرماتا ہے۔ زندگی موت کا اختیار صرف اُسی کے پاس ہے۔ ہم جب یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں اُس پر اللہ ناراض ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے اسلام میں خودکشی حرام ہے، ....احمد فراز کا ایک شعر ہے ”زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا ....تری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا “....سیف الدین سیف نے اسے ذرا اور رنگ میں پیش کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں ” موت سے تیرے درد مندوں کی ....مشکل آسان ہوگئی ہوگی۔ اِن دونوں اشعار میں زندگی سے مایوسی کی جھلک ملتی ہے ۔ میرے نزدیک جوچیز اللہ نے انسان کو بطور ایک نعمت عطا کی ہو اُس کی حفاظت کرنی چاہیے، یہ درست ہے زندگی سے اتنی محبت ٹھیک نہیں کہ انسان موت کو بالکل ہی فراموش کر بیٹھے۔ مگرزندگی کو اتنا بے وقعت بھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ انسان موت کو زندگی پر ترجیح دینے لگے۔ مصیبتیں ، غم اور پریشانیاں زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، کوئی چیز مگر مستقل نہیں۔ انسان کی زندگی میں غم نہ ہو خوشی کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی۔ اِسی طرح رات اگر نہ ہو دِن کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی، اِسی طرح ہار انسان کی زندگی میں نہ ہو جیت کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی، وہ انسان خوشی کے اصل لطف سے آشناہی نہیں ہوسکتا جس کی زندگی میں کوئی غم نہ ہو، اِسی طرح وہ انسان جیت کی اصل لذت سے محروم ہی رہتا ہے جس نے ایک دوبار شکست نہ کھائی ہو، شاید بابا بلھے شاہ نے فرمایا تھا ”جے سوہنا میرے دُکھاں وِچ راضی ....میں سُکھاں نوں چولہے ڈانواں“۔ یعنی آپ فرماتے ہیں ” میں نے وہ سُکھ لے کر کیا کرنے ہیں جن میں میرا اللہ راضی نہیں ہے؟ وہ دُکھ میرے لیے ہزار درجے بہتر ہیں جو اللہ کی رضا کے مطابق ہیں“۔ اور بے شک ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی چاہت کو دل وجان سے قبول کرلیتے ہیں غم ، مصیبت ، پریشانی کو ذرا دل پر نہیں لگاتے۔ ہارنا کوئی بُری بات نہیں ہوتی مگر دل نہیں ہارنا چاہیے۔ ہاں یہ دعاضرور کرنی چاہیے اللہ اپنی عطا کردہ آزمائشوں کے مطابق اُن سے نمٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دُکھوں ، پریشانیوں اور مصیبتوں سے تو ہمارے نبی، ولی، پیغمبر بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔ واقعہ کربلا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ میں نے حضرت امام حسینؓ کی شہادت سے عین پہلے کی دعا کہیں پڑھی تھی۔ آپؓ نے فرمایا ” جوکچھ ہوا اُس پر کوئی پریشانی لاحق نہیں، اے اللہ ہماری اِس چھوٹی سی قربانی کو قبول فرمالے“ .... انسانی تاریخ میں سانحہ کربلا سے بڑا کوئی سانحہ نہیں ہوسکتا۔ اُس کے مقابلے میں ہمارے دُکھوں کی بھلا کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے ” صابرین کے لیے روز حشر میں سوچوں گا اِن کے میزان قائم کروں کہ اُنہیں سیدھا جنت میں بھیج دوں“.... گزشتہ دنوں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہوا۔ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو نے خودکشی کرلی۔ اُن کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے وہ ایک انتہائی ایماندار آدمی تھے، میں حیران ہوں اس کے باوجود ایک غلط راستہ اپنے لیے انہوں نے کیسے چُن لیا؟۔ ایمان والا کوئی شخص مصیبتوں ، پریشانیوں سے ذرا نہیں گھبراتا ۔ وہ اُن کا مقابلہ کرتا ہے۔ واصف علی واصف نے فرمایا تھا ”خوش قسمت وہ ہے جو اپنی قسمت پر خوش ہے “ ....وہ اِسے اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرلیتا ہے، حیرت اِس بات پر ہے جس افسر کے بارے میں ہرکہیں یہ چرچے ہوں وہ حرام کِسی صورت میں بھی قبول نہیں کرتا اُس نے ایک حرام فعل کو کیسے گلے لگا لیا ؟۔ اِس پس منظر میں دیکھنا پڑے گا یہ خودکشی ہے یا قتل ؟۔ میرے نزدیک اِس افسر نے اگر خودکشی بھی کی ہے حقیقت میں یہ اُس کا قتل ہی ہے۔ اور قاتل کوئی ایک فرد نہیں پورا معاشرہ ہے۔ وہ معاشرہ جس میں پوری تلاش کے باوجود اب ایک فرد ایسا نہیں ملتا جس کے بارے میں کسی شخص کو یقین ہو کہ وہ اپنے غم، پریشانیاں اور تکلیفیں اُس سے شیئر کرسکتا ہے۔ پہلے خونی رشتوں کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی تھی، اب خونی رشتے بھی جذبات واحساسات سے عاری ہوتے جارہے ہیں۔ ایک گھر، ایک چھت ، ایک کمرے میں رہنے والے بھی ایک دوسرے کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے واقف نہیں ہوتے۔ آج سے بیس پچیس برس پہلے خودکشیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ ایک دوسرے کے دُکھوں اور سُکھوں میں شریک ہونے کو اپنے لیے بڑی سعادت بڑا اعزاز سمجھتے تھے، اب لوگوں کے پاس اپنے لیے وقت نہیں ہوتا دوسروں کے لیے کیا ہوگا؟۔ ہر شخص نے خود کو پیسے بنانے والی ایک مشین بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ مشینیں اپنے اِردگرد کے لوگوں کے حالات سے واقف ہی نہیں ہوتیں۔ اور واقف ہوں بھی تو کوئی جیئے یا مرے اُنہیں اِس سے کوئی غرض ہی نہیں ہوتی ۔ پہلے دوسروں سے اپنے دُکھ شیئر کرنے سے لوگوں کے دِل کا بوجھ ہلکا ہو جایا کرتا تھا۔ اب یہ سوچ کر لوگ اپنے دُکھ کسی سے شیئر نہیں کرتے بجائے اِس کے دوسرے اُن کی کوئی مدد کریں یا اُنہیں کوئی اچھا اور مخلصانہ مشورہ دیں، اُلٹا اُن کا تماشا ہی نہ بنادیں ،.... سہیل احمد ٹیپو سی ایس پی افسر تھا۔ پاکستان میں سی ایس ایس کرنا خواب ہوتا ہے۔ یہ خواب اُس نے دیکھا، پھر اُس کی تعبیر بھی اُسے مل گئی۔ جو کم لوگوں کو ملتی ہے۔ سول سروس جائن کرتے ہوئے اُس نے یقیناً سوچا ہوگا اب عزت کے بلند ترین مقام پر وہ فائز ہو جائے گا۔ اُسے کیا پتہ تھا وقت بدل گیا ہے، پاکستان میں یہ مقام آہستہ آہستہ اب ذلت کا بنتا جارہا ہے، اور اِس میں قصور کسی اور کا نہیں اُس کی اپنی ”کلاس“ کا ہے جو اپنے چھوٹے بڑے مفادات کے لیے اپنا سب کچھ داﺅد پر لگادیتی ہے۔ کسی زمانے میں ایک پٹواری اُس مقام پر آنا گوارا نہیں کرتا تھا جس مقام پہ آج کا چیف سیکرٹری یا گریڈ اکیس بائیس کے دیگر افسران آسانی سے خود کو لٹا لیتے ہیں، حکمرانوں کی گالیوں اور جھڑکیوں کو وہ ”پارٹ آف سروس“ سمجھنے لگے ہیں، اس ملک کی اصل بربادی کا باعث یہ سی ایس پی اور پی ایس پی کلاس ہے۔ نااہل حکمرانوں کو بددیانتی کے سارے راستے یہ خود محض اس لیے دکھاتی ہے اُس سے اِس کلاس کی اپنی بددیانتیوں کے سارے راستے کھلے رہتے ہیں، یہ بھی ایک المیہ ہے ہمارے اکثر افسران کا تعلق انتہائی غریب گھرانوں سے ہوتا ہے۔ بجائے اس کے پاکستان کی اعلیٰ ترین سروس جائن کرنے کے بعد یہ ملک اور معاشرے سے جاہلیت اور غربت ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کریں صرف اپنی غربت مٹانے میں لگے رہتے ہیں۔ احد چیمہ اس ضمن میں واحد مثال نہیں، ایک ایک احد چیمہ کرپشن کی ہر شاخ پر بیٹھا ہے ۔ اُس کا قصور کرپشن نہیں اُس کا قصور یہ ہے وہ پکڑا گیا ہے۔ اُسے سزا اُس کی کرپشن پر نہیں اُس کی اِس نااہلی پر ملنی چاہیے کہ وہ پکڑاکیوں گیا ہے؟،....سہیل احمد ٹیپو کی تین بیٹیاں ایک بیٹا ہے۔ اُس کی گھریلو زندگی بظاہر بڑی مطمئن تھی۔ البتہ ممکن ہے اُسے یہ دُکھ (ڈپریشن) اندر ہی اندر سے کھاتا جارہا ہو کہ اُس کی ”کلاس“ خودکو کرپشن اور ذلت کے کس مقام پر لے آئی ہے؟؟؟


ای پیپر