ریاست کون اور حکومت کہاں ہے
29 جون 2020 (23:53) 2020-06-29

زندگی تو میرے رب کی دین ہے پھر ریاست کیوں ہر سانس کی قیمت وصول رہی ہے۔ ریاست سے مراد عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ ہے ۔ جبکہ ہر ادارہ تو ادارہ ہر مقتدر اپنے آپ کو ریاست سمجھنے لگا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب گلزار احمد نے اگلے روز از خود نوٹس کے ایک مقدمہ کی سماعت میں ریمارکس دیئے ’’جعلی لائسنس پر جہاز اڑانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی چلتا پھرتا مزائل ہوا میں اڑ رہا ہو۔ اگر حکومت کی کوئی معاشی پالیسی ہے تو بتائیں اور کیا ہی خوب فرمایا کہ ’’ حکومت کہاں ہے؟‘‘ عوام کو روٹی، پٹرول، تعلیم، صحت اور روزگار کی ضرورت ہے۔ سیاسی لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کو پیٹ نہیں بھرے گا اور لاجواب بات کی کہ اس آئین کا فائدہ آج تک عام آدمی کو نہیں پہنچا۔ ایک بچہ آئین سے استفادہ کرنے کے انتظار میں بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن آئین کا پھل صرف چند لوگ کھا رہے ہیں اس میں کوئی عام آدمی شامل نہیں۔ (گویا میرے مطابق آئین سے استفادہ اس پر حلف اٹھانے والوں، معطل کرنے والوں، بحال کرنے والوں اور آئینی عہدہ حاصل کرنے والوں نے ہی حاصل کیا ہے البتہ آئین بنانے والا سولی چڑھ گیا)۔ 26 جون کو سپریم کورٹ نے کہا کہ دوا ساز ادارے بھی مافیا، خریداری کے نام پر منافع باہر بھیج دیتے ہیں، حکومت کچھ نہیں کرتی‘‘۔ ڈریپ بھر وقت فیصلہ نہ کرے دوائی کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ یہ فرمانا تھا اٹارنی جنرل کا گویا جواز گناہ بد تر از گناہ یہ بھی کہ ایک کمپنی نے 8 ادویات کی قیمت کئی گنا بڑھا دیں۔ ابھی جانکاہ صورت حال عوام برداشت نہ کر پائی کہ حسرت بنے پٹرول کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ کر دیا گیا۔ جب پٹرول سستا تھا تو کمپنیوں نے دینے سے انکار کر دیا۔ وفاق سرنڈر اوگرا کا کردار نظر انداز اور پٹرولیم و خزانہ ڈویژن نے قیمتوں کا تعین کیا قیمت بڑھتے ہی تیل عام ہو گیا ۔ ابھی میر اخیال تھا کہ میں فواد چوہدری کے انٹرویو راجہ ریاض کے ٹسوے، خواجہ شیراز کی غیر منتخب لوگوں کے ہاتھوں پارلیمانی نظام میں حکومت چلنے کا ذکر کروں گا۔ ریاض محمود مزاری کا بیان کہ کوئی تبدیلی نہیں حالات بد تر ہیں اورنگ زیب کچھی کا گلہ کہ ایوانوں سے وزراء اور وزیراعظم غائب رہتے رہیں اور اسحق خاکوانی کی امید کہ حکومت چلتی رہے گی جنہوں نے اکثریت قائم رکھنا ہوتی ہے وہ کیے رکھیں گے رقم کروں گا۔ (یہ سب حکومتی بندے ہیں) آٹا، چینی کا بہت شور مچا مگر

سستی تو کیا چینی غائب ہی ہو گئی ۔ اسمبلی اجلاس میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ وقت آئے گا کہ وزارت دینے والے پھریں گے مگر لے گا کوئی نہیں اور بات آگے بڑھائی کہ بلکہ آچکا ہے اب ہم بھی available دستیاب نہیں ہیں اور پیپلزپارٹی کے بنچوں کی طرف اشارہ کیا کہ یہ بھی دستیاب نہیں مگر ان باتوں پر اظہار خیال کی نوبت ہی نہیں آئی کہ ہر لمحہ تنزلی کی طرف حالات کا سفر یوں جاری ہے جیسے ذمہ داروں نے قائداعظم کے احسان کا بدلہ اتارنے کی ٹھان لی ہے۔ 35سال حکومت کرنے اور 72سال کی بات کرنے والے ایوب ، یحییٰ، ضیاء اور مشرف کے ادوار شمار کرتے ہیں کہ نہیں؟ خدا خدا کر کے وزیراعظم اسمبلی میں آئے اور تقریر فرمانے کے بعد اتنا وقت بھی نہ دیا کہ کسی کی بات سن لیں۔ غیر ملکی بھی اسمبلی میں تقریر کرتا ہے تو وہ کچھ وقت پارلیمنٹ کی توقیر کے لیے وہاں موجود رہتا ہے مگر تقریر میں اسامہ بن لادن کو پہلے کہا ہمیں ہتک محسوس ہوئی کہ امریکیوں نے اسامہ کو آ کر مار ڈالا پھر مار ڈالا کی فوراً اصلاح کی کہ شہید کر دیا جو یہ کہتے ہیں کہ شہید زبان کا پھسلنا تھا۔کلپ دوبارہ سنیں مار ڈالنا زبان کا پھسلنا ہے جو فوراً ہی شہید کہہ کر لفظ کی اصلاح کی۔ انسان کا نقطۂ نظر ہوتا ہے اس پر قائم رہنا چاہیے لیکن یہ واحد رہنما ہیں جن کا زبان پھسلنا، زبان پر لفظ نہ چڑھنا چاہے وہ خاتم النبیینؐ ہی کیوں نہ ہو ان کے پیرو کاروں نے بہت دفاع کیا۔ بلاول بھٹو نے عمران خان کو جھوٹا، نا اہل، نالائق سلیکٹڈ اور ایک دفعہ تو بے غیرت کہہ دیا تھا مگر اب کی بار انہوں نے مناظرے کا چیلنج دیا جس پر پی ٹی آئی والے کافی سیخ پا نظرآتے ہیں۔ شاید بلاول سے خائف ہیں۔ دراصل میرے خیال سے عمران خان زرداری صاحب اور میاں صاحب تو دور کی بات مریم اور بلاول کا 5 منٹ بھی سامنا نہ کر پائیں گے۔ تیسری قوت کی تلاش میں ملک زمین کی تیسری تہہ کی طرف چلا گیا۔ پہلی دو سیاسی قوتوں کے منحرف اور کمزور اخلاقی و سیاسی کردار کے مالک لوگوں کو اکٹھا کر کے تیسری قوت بنانے کی کوشش سمجھ سے بالا تر ہے اور امید رکھنا کہ بھلائی ہوگی یہ ایسے ہی جیسے کسی کو مینار پاکستان سے دھکا دے کر پھینک دیں اور اس کی زندگی کی دعا کریں اور امید بھی رکھیں۔ ہم نے تو قدرت کو بھی امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔ قدرت اپنا نظام افراد اور اقوام کی خاطر نہیں بدلتی قدرت کے تابع کوششیں کرنے والے ہی کامرانی راہی ہوتے ہیں۔جن سرکارؐ کی امت ہیں اُن کے زخمی صحابہؓ میں سے کسی نے بھی ایک غزوہ میں پانی کا پیالہ نہیں پیا کہ دوسرے کو دے دے۔ زخمی حالت میں دوسرے کی فکر کرتے ہوئے شہید ہو گئے مگر ہماری اخلاقیات اور کردار تو دیکھیں کہ یہاں افواہ پھیل جائے کہ فلاح دوائی یا جڑی بوٹی کرونا وبا کے لیے فائدہ مند ہے وہ مہنگی تو درکنار غائب ہی کر دی جائے گی۔ لعنت ہے ایسی سوچ، ایسے کردار ایسے اخلاق پر۔ حکومت نے ہوا بازوں کا معاملہ ایسے ڈیل کیا جیسے بھارت کامسئلہ تھا اور اپنی ایئر لائن کی شہرت کو مزید برباد کر دیا۔ دراصل عروج کو نہیں تکبر کو زوال ہوتا ہے۔ ہمارے ’’وزیراعظم‘‘ کا تکبر ہی بے قابو ہے اور غلط فہمی کہ ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں واہ! کیا قحط الرجال ہے؟ ڈھٹائی، پارلیمانی نظام کی روایات کے برعکس رویہ ملک کا نقصان کر چکا۔ بھارت چائنہ کے ہاتھوں تذلیل کے بعد ہماری طرف جارحیت کے در پے ہے جیسے 1965ء میں ہوا کیا حکومت کو ادراک ہے۔ موجودہ حکومت کی نا اہلی نے بیورو کریسی کی چاندی کر دی۔ جب حکومت کی بات پر بھروسہ اور رٹ قائم نہ رہے تو سمجھیں کھیل ختم Game is over۔ مافیاز کا رونا روتی حکومت اب خود مافیا بن گئی میں نے نہیں چیف جسٹس پوچھتے ہیں حکومت کہاں ہے اور عوام پوچھتے ہیں ریاست کہاں ہے؟


ای پیپر