بلاول بھٹو زرداری بھی ’’ظفر‘‘ باب ہو گئے
29 جون 2020 (23:52) 2020-06-29

ایک آفس میں دو ملازم آپس میں کسی بات پر بحث و تکرار پر اتر پڑے۔ بات بڑھی تو بحث و تکرار سے تو تکرار کی نوبت آ گئی۔ بات یہاں بھی کسی کنارے نہ لگی تو موصوف گالیوں پر آ گئے۔ پہلے تو اردو زبان میں ہلکی پھلکی گالیاں دیتے رہے۔ اور شیریں لبوں کے ساتھ ان گالیوں سے قطعاً بے مزہ نہ ہوئے۔ اچانک انہوں نے لہجہ بدلا اور ٹھوس پنجابی زبان میں ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے۔ پہلے تو اسم مصغر کا استعمال تھا۔ اب دیدہ دلیری کے ساتھ اسم مکبر کا استعمال بھی ہونے لگا۔ بزرگوں کا خیال ہے کہ لطیفہ اور گالی اپنی مادری زبان میں ہی مزہ دیتی ہے۔ خیر بات بڑھی تو چند احباب نے مل کر بیچ بچاؤ کروا دیا اور خاموشی اختیار کروا دی۔ مگر دونوں فریق کے دلوں میں ابھی رقابت کی آگ بجھی نہیں تھی۔ اگلے دن جب ان کا باس اپنی نشست پر براجمان ہوا تو دونوں نے اپنا مسئلہ بیان کیا اور کہا کہ دوسرے نے اس کی بے عزتی کر دی ہے اور منوں کے حساب سے فحش گالیاں بکی ہیں۔ پہلے نے کہا؟ سر! کس نے کتنی گالیاں بکیں اور کس قدر فحش گوئی سے کام لیا ہے؟ اگر آپ کو میری اکلوتی بات پر یقین نہیں ہے تو آپ اس بابت فلاں شخص سے پوچھ سکتے ہیں؟ اس شخص کو بلایا اور اس مسئلہ (یعنی گالی) کی بات استفسار کیا گیا؟ وہ شخص تھا تو درجہ چہارم کا ملازم… مگر رکھ رکھاؤ، نشست و برخاست اور گفتگو میں اپنی مثال آپ تھا۔ وہ اس پورے مسئلے کا چشم دید گواہ تھا۔ اسے بلایا گیا۔ اسے پوچھا کہ ان دونوں میں سے زیادتی کس کی ہے؟ وہ دھمیے لہجے سے یوں! گویا ہوا… حضور! ان دونوں نے گالی گلوچ اور لڑائی میں سرحد عبور کر لی ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ قصور کس کا ہے؟

پچھلے دنوں جناب بلاول بھٹو زرداری نے بیان دیا کہ جس ملک کی وزیراعظم خاتون ہیں، وہاں وبا کا بہتر مقابلہ کیا گیا‘‘۔ اس بیان کے جواب میںبرصغیر پاک و ہند کے نامور شاعر اور دور حاضر کے سینئر ترین کالم نگار نے اپنے ایک کالم میں یوں تبصرہ فرمایا ہے۔ ’’پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے

کہ ’’جس ملک کی وزیراعظم خاتون ہیں، وہاں وبا کا بہتر مقابلہ کیا گیا ہے‘‘ اور اگر مجھے وزیراعظم بنا دیا جائے تو میں بھی وبا کا بہتر مقابلہ کر کے دکھا سکتا ہوں؛ اگرچہ میں خاتون نہیں ہوں، لیکن جب تک میری شادی نہیں ہوتی (قارئین قابل غور جملہ ہے) میں کوئی بھی کردار با آسانی ادا کر سکتا ہوں اور ایسا لگتا ہے کہ میرے والد صاحب، میری شادی اسی لیے نہیں کرتے میں ہر طرح کا کردار ادا کر سکوں جبکہ مجھے یقین ہے کہ میں آنٹی ایان علی کا کردار بھی ادا کر سکتا تھا۔ لیکن والد صاحب نے مجھے اس قابل سمجھتے ہوئے بھی آنٹی کی خدمات حاصل کرنا مناسب سمجھا۔آپ اگلے روز لاہور میں ایک بیان جاری کر رہے تھے‘‘ ۔

میں پہلے ہی گزارش کر چکا ہوں کہ ظفر اقبال اردو ادب کے ایک چودہویں کے چاند ہیں۔ اسّی کے بعد شاعری کی بنیاد رکھنے والے یعنی شاعری کرنے والے ہر شاعر نے بلواسطہ یا بلاواسطہ ظفر اقبال سے کسب فیض لیا ہے۔ جدید غزل کہنے والا اور غزل میں معنویت پید اکرنے والا ہر شاعر ’’آب رواں‘‘ کو پیرو مرشد کا درجہ دیئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ بہت سے شعراء نے کئی مرتبہ آب رواں پڑھی اور کئی شاعروں کو آب رواں پوری کی پوری حفظ بھی ہو گئی۔ قد کاٹھ کے اعتبار سے (جو کہ ان کا جسمانی بھی ہے) اس وقت ظفر اقبال پاک وہند کی تمام یونیورسٹیوں میں اردو ادب کے بی اے کے نصاب سے لے کر پی ایچ ڈی کی سطح پر شامل ہیں۔ اندرون و بیرون ممالک میں ظفر اقبال پر سیکڑوں کے اعتبار سے تنقیدی اور تحقیقی مضامین لکھے جا چکے ہیں… ظفر اقبال صاحب پاکستان کے ہر بڑے اور قومی اخبار میں بطور کالم نگار اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ اپنے کالموں میں بہت سے نئے اور جدید شاعروں کو متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ ان کی اعلیٰ سطح پر حوصلہ افزائی کا بھی بیڑا اٹھا چکے ہیں۔ ہاں مگر بہت سے اعلیٰ شاعروں کو ان سے گلہ بھی رہا اور وہ ان کو اپنا کلام اس لیے نہیں بھیجتے کہ وہ اپنے کالموں ان کی مٹی پلید کرتے ہیں (یہ بات سوفیصد درست بھی ہے) ظفر اقبال صاحب بطور شاعر ہی اپنی الگ حیثیت نہیں رکھتے وہ غیر شاعروں اور غیر ادیبوں میں ’’آفتاب اقبال‘‘ کے ابا جان کی حیثیت بھی جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ ’’اب تک‘‘ کے نام سے ظفر اقبال صاحب کی چار کلیات سامنے آ چکی ہیں۔ یعنی ظفر صاحب اس وقت پینتیس سے چالیس شعری مجموعوں کے خالق ہیں۔ اس کے علاوہ کالموں کی تعداد الگ سے ہے جو کم و بیش لاکھوں کی تعداد میں ہو گی اور بطور نقاد ظفر اقبال ایک الگ حیثیت کے مالک ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود ظفر اقبال صاحب اپنے روئیے اور ’’حسن سلوک کے اعتبار سے ادبی دنیا ‘‘ میں متنازع حیثیت کے حامل ہیں۔ اکثر شاعروں ادیبوں اور حتیٰ کہ ان کے دوستوں کو اُن سے ’’ادبی گلے شکوے‘‘ ہی رہے ہیں۔ ظفر اقبال اردو ادب کی موجودہ نسل کے لیے ایک راہبر اور استاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر انہوں نے جو زبان استعمال کی ہے۔ وہ نسل نو کے لیے کیا نمونہ ہے؟ کیا پیغام ہے؟ یا ظفر صاحب یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ میں ہوں ہی اُس طرح کا، جس طرح کی رائے میرے دوست میرے بارے میں رکھتے ہیں۔ اب شیخ رشید کی باڈی لینگوئج اور ظفر اقبال صاحب کی اس ادبی زبان میں کیا فرق ہے؟ چلیں شیخ رشید صاحب بلاول کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے اپنی کسی ’’حس‘‘ کو تسکین دیتے ہوں گے؟ جب کہ ظفر صاحب کا تو یہ بھی معاملہ نہیں ہے؟ جس نسل کے ظفر اقبال صاحب پیرو کار ہیں… وہ نسل ظفر اقبال صاحب سے کیا سیکھے گی؟ علم سے تو شمع سے شمع جلائی جاتی ہے… اور ظفر اقبال صاحب اپنے کالموں میں ہر اس عضو کو بیان کر رہے ہیں جن سے تخلیق انسان میں مدد ملتی ہے۔ افزائش نسل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو تو ویسے بھی معصوم بچہ ہے۔ اسے کیا پتہ کہ سیاست کس کھیل کا نام ہے؟ اور یہ کھیل کیسے کھیلا جاتاہے؟ بلاول بھٹو کے بیان کا جواب شیخ رشید صاحب دینے کے لیے ہی کافی ہیں؟ ظفر اقبال صاحب کو ’’ادبی کاموں‘‘ سے کام رکھنا چاہیے کیونکہ وہ 1977ء میں سیاست کا مزہ لے چکے ہیں… اور یہ سیاسی کھیل ان کے بس کا کام نہیں تھا… ظفر صاحب کو نئی ادبی نسل کی آبیاری ہی بہتر رہے گی۔


ای پیپر