کرونا سے زیادہ خطرناک سیاستدان
29 جون 2020 (15:58) 2020-06-29

ایک انٹرویو نے فساد برپا کردیا۔ سچ پوچھئے تو حکمران پارٹی کی چولیں ہل گئیں، خاطر غزنوی نے کہا تھا ’’اک ذرا سی بات میں برسوں کے یارانے گئے، ہاں مگر اتنا ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے‘‘ فواد چوہدری نے اپنے انٹرویو میں سینۂ کائنات کے کئی راز فاش کردیے۔ جہانگیر ترین نے اسد عمر کو وزارت سے نکلوایا۔ اسد عمر نے جہانگیر ترین کو آئوٹ کردیا۔ شاہ محمود کی جہانگیر ترین سے نہیں بنتی، فواد چوہدری نے کہا کہ ملکی نظام کی اصلاح کیلئے عمران خان کو لایا گیا تھا مگر تحریک انصاف کو اندرونی جھگڑوں نے نقصان پہنچایا۔ تین افراد کی لڑائی نے سیاسی لوگوں کو آئوٹ کردیا۔ ملکی نظام بیوو کریٹس کے ہاتھ میں چلا گیا۔ ’’بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی‘‘ کہ صوبائی حکومتوں کی قیادت کمزور لوگوں کو دی گئی جس سے صورتحال خراب ہوئی۔ فواد چوہدری پنگے لینے کے عادی ہیں شیخ رشید اور وہ دونوں اپنی وزارتوں کی بجائے دوسروں کے پھڈے میں ٹانگ اڑانے کے خوگر، چار دن خاموش رہنا پڑے تو پاس پڑوس سے پوچھنے لگتے ہیں۔ ’’دس اوئے رحمیا ہن کی کریے‘‘ (رحیم بخشا بتا اب کیا کریں) رحمے نے پانامہ لیکس میں کہا تھا ’’نواز شریف نوں پے جائو‘‘ چوہدری صاحب کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے، رحمے نے کہا ’’چن چڑھائو‘‘ چوہدری صاحب، مفتی منیب الرحمان اور دیگر مذہبی بابوں‘‘ کے پلے پڑ گئے، آج کل عید بقرعید کے چاند چڑھا رہے ہیں۔ رحمے نے ہی مشورہ دیا ہوگا۔ وائس آف امریکا کو انٹرویو دے دو، دنیا بھر میں نام ہوگا۔رحما معاون خصوصی، معاونین خصوصی کے مشورے ہمیشہ مفید ثابت نہیں ہوتے۔ طوفان اٹھا، چوہدری صاحب کا کڑوا سچ پوری کابینہ پارٹی بلکہ حکومت کے منہ کا ذائقہ کڑوا کرگیا۔ عوام تھو تھو کرنے لگے۔ کیا کیا تبصرے سننے اور ٹوئٹس پڑھنے کو ملیں۔ کسی نے کہا پارٹی کو عوام کی بد دعائیں لگی ہیں۔ ایک نے لکھا بدلتی ہوا کا رخ دیکھ کر پنچھی ٹھکانے ڈھونڈنے لگے ہیں۔ تجزیہ کار میدان میں اتر آئے کہا کہ لڑائی نئی نہیں پرانی ہے۔ اختلافات کی موسیقی دھیمے سروں میں شروع ہوئی تھی۔ لے تیز ہوئی تو پریشانی کا باعث بن گئی۔ پارٹی دو سال تک ڈلیور نہیں کرسکی۔ راجہ ریاض نے برملا کہا کہ کمائی نہیں ہو رہی، ناراضیاں تو ہوں گی پارٹی تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ مفاد پرستوں اور کرونا سے زیادہ خطرناک سیاستدانوں اور لیڈروں کا ٹولہ گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ حکومت چلانے کے لیے ٹیم کہاں ہے۔ تین چار وزیر باقی سارے مشیر اور ڈھیر سارے ترجمان، ڈینگی سے کرونا تک آٹا چینی سے ٹڈی دل تک بحران ہی بحران عبید اللہ علیم مرحوم کا شعر یاد آگیا۔

کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطہ زمین پر

وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

سپریم کورٹ نے برملا کہا حکومت کے پاس کوئی معاشی پلان نہیں معیشت بیٹھ چکی ہے ، بحرانوں کو دیکھنے والا کوئی نہیں۔ انٹرویو پر انٹرویو تجزیوں کے ڈھیر۔ وزیر اعظم نے جھٹ پٹ اجلاس بلالیا۔ فواد کو ڈانٹ پڑی۔ آئندہ ایسا انٹرویو مت دینا پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ فیصل واوڈا کو کمرے میں لے جا کر کہا ’’ریلیکس

میں تمہارے جذبات سمجھتا ہوں‘‘ ایک ہی دن میں پانسہ پلٹ گیا گویا ’’یہ ایک دن میں کیا ماجرا ہوگیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا‘‘ چوہدری صاحب نے انٹرویو سے توبہ کرلی۔ اسد عمر نے کہا ’’میں نے تو کچھ کہا نہیں، میں نے تو کچھ سنا نہیں‘‘ عثمان ڈار کے دفتر میں دونوں ملے۔ ’’وہ گلے سے آلگے سارے گلے جاتے رہے‘‘ جھگڑا ختم پیسہ ہضم، فواد چوہدری حبیب جالب کا شعر گنگناتے ہوئے باہر نکلے۔ ’’دل کی بات زباں پر لا کر ہم کتنے دکھ سہتے ہیں‘ ہم نے سنا ہے اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں‘‘ کسی دل والے نے کہا پارٹی از اوور، دوسرے نے لقمہ دیا۔ پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کے کہنے پر فائر بندی ہوئی ہے۔ معاملات صحیح کہاں ہوئے اندرونی اختلافات گروپ بندی حکومت کیلئے آئندہ چل کر بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔ دلوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں گی۔ اگر یہ فاصلے کچھ کم نہ ہوں گے‘‘ پارٹی کے تین چار بڑوں کی لڑائی کیا گل کھلائے گی۔ وزیر اعظم نے وزیروں کو پانچ چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔ کیا واقعی صورتحال دوسری طرف نکل جائے گی۔ بحرانوں کی فہرست لمبی ہوگئی ہے۔ نئے بحران سر اٹھا رہے ہیں۔ بساط الجھی ہوئی ہے۔ مہرے بکھرے پڑے ہیں۔ شہ کو بچانے کے لیے پیادے مارے جا رہے

ہیں۔ کسی نے سچ ہی کہا تھا۔

یہ جو اس ملک میں شطرنج بچھی ہے اس کو

پہلے ان جیتنے والوں کی سیاست سے نکال

کرونا ختم ہوا تو مزید مہرے بکھرنے کا ڈر ہے اندر کی کہانیاں باہر آرہی ہیں۔ ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی، لوگ کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی بڑی تعداد جہانگیر ترین کی حامی ہے۔ سارے وزارتیں مانگ رہے ہیں۔ سب اپنی اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اپنے کہاں تھے سب اِدھر اُدھر سے لائے گئے تھے۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا۔ ابن الوقتوں کی کھیپ وزیروں مشیروں کی شکل میں اکٹھی ہوگئی۔ اِدھر اُدھر کے (اب اپنے) سیاستدان کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم اکیلے تلوار چلا رہے ہیں۔ باقی مال غنیمت کے انتظار میں ہیں۔ ناراضیوں کی وجہ یہی ہے کہ کسی کو حکومت کرنی نہیں آتی۔ جیسے اکٹھے ہوئے تھے ایسے ہی بکھر جائیں گے۔ صرف غیبی اشارے کے منتظر ہیں۔ کیا پھر کسی امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ کیا واقعی6ماہ کا وقت بچا ہے۔ اختر مینگل نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر کے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ پرویز خٹک کی سربراہی میں مصالحتی ٹیم کے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمان نے انہیں رام کرلیا۔ اپوزیشن نے انگڑائی لی ہے۔ ایک سیانے بیانے لیکن عوامی لہجہ کے ترجمان نے اپوزیشن کے لیڈروں کو کرونا سے زیادہ خطرناک سیاستدان قرار دے دیا جنہیں قرار دیا گیا ان میں سے کئی کو نیب نے لاک ڈائون کر رکھا ہے۔ چند ضمانتوں پر رہا ہو کر بولنے لگے ہیں۔ بقول حبیب جالب ’’بولتے جو چند ہیں سب ہی شر پسند ہیں‘‘ تضمین کر لیجیے نیب سے نوٹس دلا سب کو تو اندر کرا، اس نے مجھ سے یہ کہا کیا یہ بھی جمہوریت کا حسن ہے یا اس کے ماتھے پر داغ ہے خواجہ آصف دو چار دن کھل کر برسے تو نیب کا نوٹس مل گیا۔ شہباز شریف کی طلبی حمزہ شہباز ایک سال سے نیب کے لاک ڈائون میں بند منصوبہ کوئی نہیں صرف الزام لیکن خطرہ کہ باہر نکلے تو ان کی تقریروں سے وائرس پھیلے گا۔ ان تمام اقدامات کے باوجود پے در پے بحران کرونا زدہ اپوزیشن کو انگڑائیاں لینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی تیاریاں لیکن ان کے اور بلاول بھٹو کے شہباز شریف سے رابطے، آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر مشاورت، ادھر گرفت کمزور، ادھر سرگرمیاں تیز، گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بروقت انتباہ کیا ہے کہ ہم بارودی مواد پر بیٹھے ہیں۔ کوئی غلطی برداشت نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود تاریخی غلطی۔ آٹا، چینی، ادویات، اشیائے صرف کی مہنگائی ختم نہیں ہو پائی کہ پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے 10 پیسے اضافہ کر دیا گیا۔ 70 سالوں میں کبھی اتنا اضافہ نہیں ہوگا۔ عمر ایوب سے پوچھا جائے کہ کس مافیا کے کہنے پر اتنا اضافہ کیا گیا کیا اس سے مہنگائی نہیں بڑھے گی۔ مگر یہ بات کون سمجھائے، سمجھانے والا بھی کل کلاں کو نیب کے ریڈار پر آجائے گا۔ قابل احترام بزرگ صحافی اور تجزیہ کار الطاف حسن قریشی نے تمام احتیاطیں بالائے طاق رکھتے ہوئے لکھا کہ بڑی تیزی سے ماحول ایسا بنتا جا رہا ہے کہ ریاست کے اہم ادارے کرونا کے پھیلائو، معاشی بدحالی روکنے اور بھارت کی ممکنہ مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے جلد حرکت میں آنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ فصیل شہر کی اینٹیں گرنا شروع ہوگئی ہیں۔ گھر اندر سے تقسیم ہے۔ کرپشن میں تین گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ کسی کو یاد نہیں کہ کوچ کا وقت کسی لمحے بھی آ سکتا ہے۔


ای پیپر