غیر ملکو ں میں بستے بیو رو کر یٹس اور جعلی ڈگریاں
29 جون 2020 (15:57) 2020-06-29

کئی ٹن وز نی ہوا ئی جہا ز جب سطحِ ز مین سے کئی میل اوپر آ واز کی رفتا ر سے بھی زیا دہ تیز ی سے سفر کر رہا ہو تا ہے تو اس میں سوار مسا فروں کے منزلِ مقصو د پہ خیر یت سے پہنچنے کا دا رو مد ا ر اس کے پائلٹس کی قا بلیت پر ہو تا ہے۔ مگر جس ملک کے پائلٹس کی ڈگر یا ں ہی مشکو ک ہوں، تو با ہر کے لو گوں کی تو با ت چھو ڑ یں، اس ملک کے اپنے مکین اس کی قو می ائر لا ئنز سے سفر کر نے سے گر یز کر تے ہیں۔مگر کم از کم کرا چی طیا ر ہ حا دثے کی بناء پر ہما رے پا ئلٹس کی کا ر کر دگی تو منظرِعا م پر آ گئی۔وہ یو ں قا رئین کرا م کہ آ پ اچھی طر ح جا نتے ہیں کہ اس ملک پہ اصل میں حکمر انی بیو رو کریٹس کی ہے۔ گو یا اس ملک کی تقدیر یہاں کے بیو رو کر یٹس کی ا س ملک میں دلچسپی سے وا بستہ ہے۔ مگر ہو کچھ یوں کہ بیو رو کر یٹس کی اکثر یت کے بیوی بچے اور جا ئید ا دیں با ہر ہوںاور وہ خو د بھی اس بنا ء پر دوہری شہر یت کے حا مل ہوں کے ریٹائر منٹ کے بعد کی زند گی با ہر گذا رنے کے آ رزو مند ہوںتو وہ اس ملک کی بہتری کیونکر چاہیں گے؟ جی ہاں، ہما رے ملک کے 22380بیو رو کر یٹس کا تعلق اسی قسم سے ہے۔اور ہم ہیں کہ ملک کی تر قی کی آ س لگا ئے بیٹھے ہیں۔ خیر اب آ تے ہیں اس طیا رہ حا ثے کی جا نب جہا ں سے با ت چلی تھی۔توکراچی طیارہ حادثہ رپورٹ وفاقی وزیر ہوابازی نے قومی اسمبلی میں پیش کردی ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ اور اے ٹی سی نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا جو حادثے کا سبب بنا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں حکومت یقینا قومی ایئرلائن میں پائی جانے والی خامیوں کی اصلاح کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی تاکہ آئندہ اس طرح کے افسوسناک واقعات رونما نہ ہوسکیں۔ یہ خبر بھی خوش آئند ہے کہ طیارے حادثے کی عبوری رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد پی آئی اے نے فلائٹ ڈیٹا کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کرلیاہے۔ مانیٹرنگ ایک سینئر ترین پائلٹ کریں گے جو کسی بھی ایوی ایشن سے منسلک نہیں ہوں گے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پائلٹس کے جعلی لائسنس پر کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ بعض ہوابازوں کے امتحانات کے دن بھی مشکوک ہیں اور بعض کی ڈگریاں اور اسناد بھی جعلی ہیں۔ وفاقی وزیر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دور میں ایک بھی بھرتی پی آئی اے میں نہیں ہوئی ہے، تاہم یہ بھرتیاں سابقہ ادوار کی ہیں۔ قومی ایئرلائن ہمارا ملکی اثاثہ ہے، جو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بنی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ملک میں اقربا پروری کا جو چلن سیاسی جماعتوں نے پروان چڑھایا اس سے ہمارے پورے قومی نظام کو دیمک لگ گئی۔ سرکاری ادارے ہوں یا نجی ادارے سب ہی زبوں حالی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں سرے سے کوئی نظام ہی موجود نہیں۔ کسی کی کہی یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے کہ بس اللہ کے سہارے پر چل رہا ہے یہ ملک۔ دنیا بھر میں فضائی حادثات کی شرح انتہائی کم ہے لیکن ہمارے یہاں

کچھ عرصے سے اس کے ایک غیر محفوظ سفر ہونے کا تاثر ابھرنا

صورتحال کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ درحقیقت جعلی ڈگریاں، اقربا پروری اور سیاسی سفارش کے کلچر نے ہمارے قومی نظام کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یادش بخیر! بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی نے کہا تھا کہ ’’ڈگری، ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا نقلی‘‘۔ تو سنجیدہ قومی حلقوں میں اس بات پر بہت لے دے ہوئی تھی۔ آج بھی پاکستانی ڈگریوں کی چھان پھٹک کی جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ یہ ڈگریاں یا تو جعلی ہیں یا پھر سفارش اور رشوت کی بنیاد پر حاصل کی گئی ہیں، ان میں اقربا پروری ملوث ہے یا یہ نقالی کا نتیجہ ہیں۔ چاہے وہ ڈاکٹر ہوں، انجینئر ہوں، وکلاء ہوں یا ایم بی اے، ایم فل، پی ایچ ڈی ہوں۔ ایک بڑی تعداد میں ڈگریاں سفارش، رشوت، اقربا پروری اور نقل سے حاصل کی گئی ہوتی ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا قومی المیہ یہ بھی ہے کہ قوم کی ’’قیادت‘‘ کرنے والے بڑے بڑے سیاستدانوں اور ان کی اولادوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں براجمان ہونے کے لیے بغیر پڑھے لکھے ’’ ڈگریاں‘‘ حاصل کرلیں۔ سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بی اے کی ڈگری ہونا ضروری تھا۔ سیاسی زوال کی انتہا یہ ہے کہ سیاستدانوں نے واقعی ڈگری یافتہ ’’ہونے‘‘ کو اہمیت اور فوقیت دی، گریجویٹ ہونے کو نہیں اور نہ ہی علم حاصل کرنے کے عمل کو مقدم جانا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان علمی سطح سمیت ہر شعبے میں پستی اور زوال کا شکار ہوچکا ہے۔ اگر ہم اپنی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں اس بات کی کھوج کرنا ہوگی کہ یہاں جعلی ڈگریوں کا چلن عام کیسے ہوا اور اس کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے۔ ایک نظر ڈالیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ملک میں رائج کئی اقسام کے تعلیمی نظام سے قوم میں واضح طبقاتی تقسیم پیدا کردی گئی ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعات بھی دو طرح کی ہیں۔ ایک سرکاری جہاں صرف اپنے اپنے بندے تعینات کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ اشتہار دیا جاتا ہے لیکن پہلے سے مخصوص لوگ منتخب کرلیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ملک بھر میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کاایک جال بچھا ہوا ہے جہاں کسی بھی اعلیٰ ڈگری کے لیے پانچ چھ لاکھ روپے سے چالیس پچاس لاکھ روپے تک ادا کرنے ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں جی پی اے آسمانوں سے باتیں کرتا ہے اور عموماً ایک بھی طالب علم ایسا نہیں ہوتا جسے اعلیٰ ڈگری عطا نہ کی جاتی ہو۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا سارے طالب علم افلاطون یا ارسطو ہوتے ہیں۔ کیا سارے ہی اتنے لائق اور قابل ہوتے ہیں کہ ڈگری لے کر نکلیں۔ ظاہر ہے یونیورسٹی فیس کے نام پر جو بڑی رقمیں وصول کرتی ہیں اس پر ڈگری دینا بھی لازم ہوتا ہے۔ آپ اس ڈگری کے معیار کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یونیورسٹیوں کے ریسرچ پیپرز میں گھسی پٹی اور نقل شدہ چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ کسی ایک یونیورسٹی کے جریدے میں ایک بھی حقیقی ریسرچ آرٹیکل نظر نہیں آتا۔ یہی حال انجینئرنگ، طب، قانون اور دیگر شعبوں کا ہے۔ روز چھتیں اور عمارتیں اور پلازے پل گرتے ہیں، ہر روز اسپتالوں اور پرائیویٹ کلینک میں لوگ سینکڑوں کی تعداد میں غیر طبعی موت مرتے ہیں کیونکہ یہاں علاج پر متعین عملے نے دو نمبر طریقے سے ڈگریاں حاصل کی ہوتی ہیں۔یہ بھی ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے کہ افغانوں کو سیاسی عمل میں داخل کرنے اور ان سے ووٹ کے حصول کے لیے انہیں قومی شناختی کارڈ بنا کر دیئے گئے۔ سوشیالوجی اور کرمنالوجی کے طالب علم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جن علاقوں میں ایسی ہجرتیں بغیر کسی ضابطہ اخلاق کے ہوں وہاں پر ایسے اثرات کا پایا جانا فطرت سے بعید ہرگز نہیں۔ دنیا میں ایسے بے شمار خطے ہیں جہاں پر لوگ مائیگریشن کرتے ہیں لیکن وہاں پر قانون کی بالادستی کے باعث ایسے اثرات کم ہیں۔ قومی سچ تو یہ ہے ہم ہر معاملے میں شارٹ کٹس کے راستے پر چل رہے ہیں۔ کھیل ہو یا سیاست کا میدان ہم ہر جگہ کوشش کرتے ہیں کہ رشوت، سفارش اور اقربا پروری کے ذریعے اعلیٰ مقام بنائیں۔ میرٹ والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور سفارشی اور پرچی مافیا والے میدان مار لیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم مردِ میدان بننے سے محروم ہیں۔ ہر شعبے میں جو زوال نظر آرہا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ کرپشن، رشوت اور سفارش ہمارے معاشرے کے ایسے ناسور بن چکے ہیں جب تک انہیں جسم سے علیحدہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک ہماری ترقی ایک خواب رہے گی۔


ای پیپر