ڈاکٹر مغیث، سب کو اُداس کر گئے!
29 جون 2020 (15:55) 2020-06-29

کچھ محرومیوںکچھ مخالفتوں اور کچھ مزاحمتوں تلے دبی سسکتی زندگی کو ، حوصلہ، دانشمندی ،جہد مسلسل اور اعلیٰ منصوبہ بندی سے ایک ہنستی مسکراتی زندگی میں بدل دینے والے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ہزاروں لاکھوں لوگوں کو سوگوار اور اداس کر کے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ۔ جس کی کبریائی کا جھنڈا انہوں نے مرتے دم تک بلند رکھا۔ انہیں آخری وقت تک مزاحمتوں کا سامنا رہا لیکن ان کی جدو جہد بھی آخری لمحے تک جاری رہی۔ اقبالؒ نے ایسے ہی لوگوں کی بھرپور اور پر استقلال زندگی کے بارے میں کہا تھا کہ

برتر از اندیشہء سود و زیاں ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

تو اسے پیمانہء امروز و فردا سے نہ ناپ

جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ

جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی

اس سنگ گراں زندگی کو اپنی محنت اور صلاحیتوں سے گل و گلزار بنانے والے با کمال انسان کا نام ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ہے۔ بے پناہ کامیابیوںکے ساتھ ساتھ انہیں مخالفتوں اورمزاحمتوں کے خارزاروں میں بھی زندگی بھر آبلہ پائی کرنا پڑی۔ انسانی صلاحیتوں کا اتنا بڑا اور خوبصورت امتزاج کم انسانوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی ذات میں قدرت کی عطا کردہ بے پناہ صلاحیتیں اور خوبیاں جمع ہو گئی تھیں اور انہوں نے بھی ان کا جتنا بھرپور استعمال کیا ہے وہ بہت ہی کم لوگوں کے حصہ میں آتا ہے۔ وہ میری بستی کا مان تھے اور اب اُن کے چلے جانے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لاہور کی اس مضافاتی بستی کے سب سے بڑے انسان تھے۔غریب محنت کشوں، درمیانے درجے کے سرکاری و نجی ملازمین اور چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے والے لوگوں کی اس بستی میں پی ایچ ڈی تو ایک دو اور بھی تھے لیکن ڈاکٹر صاحب نے جتنا فیض اور علم بانٹا اس میں وہ سب پر

سبقت لے گئے تھے۔ اُن کی نماز جنازہ میں قاری محسنین خان بتا رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب نے اُن سمیت بیسیوں

لوگوں کو ابلاغ عامہ میں ماسٹر کرنے کی ترغیب دی۔ انہیں اپنے شعبے میں داخلہ دیا۔ دوران تعلیم ہر طرح سے خیال رکھا اور تعلیم کے بعد روزگار کے معاملے میں بھی حتی الوسیع مدد کی۔ تعلیمی میدان میں اُن کا آخری مورچہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ ٹیکنالوجی تھا۔ جہاں انہوں نے 38 میڈیاپروفیشنلز کو وزیٹنگ فیکلٹی میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ان میں بیشتر افراد پیشہ ورانہ طور پر بے حد مصروف تھے لیکن ڈاکٹر صاحب کو انکار کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس طرح ڈاکٹر صاحب نے اپنی یونیورسٹی کے طلبہ طالبات کے لیے عملی صحافت کے بہترین افراد کی خدمات حاصل کر لیں۔یہ کام وہ ہر ادارہ میں کرتے تھے ہمارے دوست اور سینئر صحافی جناب زاہد رفیق سمیت انہوں نے بہت سے طلباء و طالبات کو ذاتی دلچسپی لے کر میڈیا کے اداروں میں ایڈجسٹ کروایا جو آج بھی صحافت کے شعبہ میں اعلیٰ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ صدقۂ جاریہ انشاء اللہ ان کی بخشش کا ذریعہ بنے گا۔

ڈاکٹر صاحب کا خاندان غیر منقسم ہندوستان کے کسی علاقے سے ہجرت کر کے لاہور پہنچاتھا۔ جہاں انہیں ہماری مضافاتی بستی میں ایک مکان الاٹ ہو گیا تھا۔ ابھی اس خاندان کے ہجرت کے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے اور یہ پوری طرح ایڈجسٹ بھی نہیں ہو سکا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے والدظہیر الدین کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب کی عمر بمشکل دو تین سال ہو گی جبکہ ان کے بڑے بھائی رئیس الدین اور قمر الدین شاید پانچ چھ سال کے ہوں گے لیکن ان کی باہمت اور نیک صفت والدہ نے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا تہیہ کر لیا۔ ڈاکٹر مغیث کے چچا بدر اعلیٰ پوری بہت نفیس اور اعلیٰ انسان تھے۔ وہ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں ملازم تھے اور شام کو مترجم قرآن حافظ نذر احمد کے قائم کردہ شبلی کالج میں ریاضی پڑھایا کرتے تھے۔ وہ اردو کے بہت اعلیٰ شاعر تھے کاش ان کا کلام محفوظ ہو سکتا۔ انہوں نے اپنے کلام کو محفوظ کرنے پر تو زیادہ توجہ نہ دی مگر اپنے بھتیجوں اور بچوں کی تعلیم کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب کی والدہ جو اپنی حلیم و باوقار شخصیت اور سفید بالوں کے ساتھ کوئی نورانی مخلوق لگتی تھیں۔ اپنا زیادہ وقت محلے کے بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے پر لگاتی تھیں۔ ڈاکٹر مغیث کی اہلیہ محترمہ بھی ان کی قرآن پاک کی شاگرد ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی والدہ جن کے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانے مجھے آج بھی یاد ہیں۔ میں نے انہیں کبھی ننگے سر نہیں دیکھا۔ یقینا ڈاکٹر صاحب اور ان کے دونوں بھائیوں نے بھی قرآن پاک والدہ ہی سے پڑھا ہو گا۔ شوہر کے انتقال کے بعد مشکل حالات میں بھی انھوںنے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی ۔ چنانچہ 1970ء کی دہائی میں ایک ایسا وقت آیا جب ہماری بستی کے اس عام سے گھر سے صبح تین بچے اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی جاتے تھے۔ بستی میں ایسے خوش قسمت گھر دو تین ہی ہوں گے۔ اس وقت ڈاکٹر مغیث پنجاب یونیورسٹی کے شعبے طبیعات میں بی ایس سی آنرز۔ ان کے بڑے بھائی رئیس الدین مرحوم اور سب سے بڑے بھائی قمرالدین مرحوم ہیلی کالج سے ایم کام کر رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈاکٹر مغیث اسلامی جمعیت طلبہ کے ہراول دستے کے متحرک فرد تھے۔ اور یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کی انتخابی مہم میں فرنٹ لائن پر ہوتے تھے۔ وہ حفیظ خان اور جاوید ہاشمی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے ۔جاوید ہاشمی کی یونین میں تو وہ اسلامک سٹڈیز کمیٹی کے چیئرمین بھی منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے جسٹس (ر) نذیر غازی کو شکست دی تھی۔ دوسری جانب ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی رئیس الدین جہانگیر بدر کے حامی تھے اور اُن کی انتخابی مہم میں شریک تھے لیکن اس سیاسی اختلاف کے باوجود دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں تھا بلکہ پیار محبت کی فضا میں یہ اختلاف جاری تھا۔ اور دونوں بھائی ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ رئیس بھائی ہمار ی بستی میں پیپلز پارٹی کی تنظیم قائم کر نے والے نو جوانوں میں شامل تھے جبکہ ڈاکٹر مغیث اسلامی جمیعت طلبہ کا یونٹ قائم کرنے والے طلبا ء کے سرخیل تھے رئیس بھائی تعلیم مکمل کرنے کے فوری بعد روزگار کے سلسلہ میں حیدر آباد چلے گئے اور کچھ عرصہ بعد اپنی فیملی سمیت کراچی منتقل ہو گئے جہاںکوئی چار سال قبل ان کا انتقال ہوگیا (جاری ہے)


ای پیپر