مطالعے اور کتابوں کی دُنیا ۔۔۔۔ !
29 جون 2020 (15:55) 2020-06-29

مطالعے اور کتابوں کی دنیا کے تحت چھپے کالم کے حوالے سے کافی مثبت ردِ عمل کا اظہار سامنے آیا ہے۔ علم و ادب اور تصنیف و تالیف کے شعبوں میں نمایاں مقام اور حیثیت کی مالک کچھ انتہائی مہربان اور محترم شخصیات کی طرف سے یہ خواہش بھی سامنے آئی ہے کہ ملکی تاریخ کی نامور، معتبر، مقتدر اور مستند سمجھی جانے والی قابل قدر شخصیات کی تصانیت ، تحریروں اور یاداشتوں کے ساتھ حافظے کی لوح پر موجود معلومات کی مدد سے پاکستان کی تاریخ کے بعض گوشوں اور حالات و واقعات پر روشنی ڈالنے کے اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے۔ اس ضمن میں معروف علمی و ادبی شخصیت محترم ڈاکٹر انعام الحق جاوید جو ایک خوبصورت شاعر، مصنف، مزاحیہ شاعری میں ایک مستند نام ، شفیق اُستاد اور معلم ، نامور سکالر اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تجربہ کار منتظم کی حیثیت سے اپنا لوہا منوائے ہوئے ہیں اور کچھ ہی عرصہ قبل اہم وفاقی ادارے نیشنل بُک فائونڈیشن کے شاندار کارکردگی کے حامل سربراہ کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے ہیں کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ پچھلے کالم کے بارے میں ان کا تقریباً تین منٹ کا ویڈیو وائس میسج مجھے ملا ہے جس میں اُنہوں نے کالم کی تعریف کے ساتھ ستمبر 1965 ؁ء کے اوائل میں جی او سی بارہویں ڈویژن میجر جنرل اختر حسین ملک کی کمانڈ میں پاکستانی افواج کی سیز فائر لائن کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی کرنے اور بھارتی افواج کو پسپائی پر مجبور کرکے ان کے اکھنور تک پیچھے ہٹنے اور اس دوران جنرل اختر حسین ملک کے کمانڈ سے ہٹائے جانے کے بارے میں کچھ استفسار بھی کئے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ میں دونوں جرنیل بھائیوں جنرل اختر حسین ملک اور جنرل عبدالعلی ملک جو مرزائیت پر سختی سے کار بند تھے کے بارے میں کچھ مزید بھی لکھوں کہ یہ ایک لحاظ سے میرے ’’گرائیں‘‘ بنتے ہیں کہ ان کا آبائی گائوں ’’پنڈوڑی‘‘ میرے آبائی گائوں چونترہ سے کچھ ہی (دس بارہ کلو میٹر ) فاصلے پر واقع ہے۔

میرے لیے یقینا اعزاز اور خوشی کی بات ہے کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید جیسی معروف علمی و ادبی شخصیت میرے حلقہ قارئین (میرے خیال میں جو شائد انتہائی محدود ہے) میں شامل ہیں۔ میں ان کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے پچھلے کالم کے بارے میں انتہائی توصیفی کلمات مجھ تک پہنچائے۔ جہاں تک ان کے بعض استفسارات کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کالم سے بڑی حد تک ان کی وضاحت ہو جائے گی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یکم ستمبر 1965 ؁ء کو میجر جنرل اختر حسین جی او سی بارہویں ڈویژن کی کمانڈ میں پاکستانی مسلح دستوں نے چھمب جوڑیاں سیکٹر (پاکستان کے ضلع گجرات کے شمال مشرق میں مقبوضہ کشمیر کے ملحقہ علاقوں) میں پیش قدمی کا آغاز کیا تو انہیں ابتدا ہی سے پے در پے کامیابیاں ملنی شروع ہوگئیں۔ پہلے دن پاکستانی مسلح دستوں نے مقبوضہ علاقے میں کئی کلو میٹر تک پیش قدمی ہی نہیں کی بلکہ پاکستانی فضائیہ کے ایک سٹار فائٹر جنگی طیارے F104 نے بھارتی فضائیہ کے دو ہنٹر جنگی طیاروں کو بھی مار گرایا۔ اس کے ساتھ بھارتی اسلحے اور گولہ بارود کے وسیع ذخائر بھی پاکستانی فوجی دستوں کے ہاتھ لگے ۔ مزے کی

بات یہ کہ ان میں اسلحے اور گولہ بارود کی ایسی بند Packed پیٹیاں بھی شامل تھیں جن پر امریکی پرچم کے ساتھ پاکستان کے لئے دوستی کے ہاتھ بھی بنے ہوئے تھے۔ یہ وہ اسلحہ تھا جو امریکہ کی طرف سے سیٹو اور سینٹو (Cento - Seato ) کے معاہدوں میں شامل اپنے اتحادی ملک پاکستان کو بھجوایا جانا تھا لیکن 1962 ؁ء میں بھارت اور چین کے درمیان نیفا کے محاذ پر چین کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد یہ پیٹی بند Packed اسلحہ بھارت کو بھجوا دیا گیا۔

خیر مقبوضہ کشمیر میں جنرل اختر حسین ملک کی کمانڈ میں پاکستانی افواج کی پیش قدمی جاری رہی۔ چھمب اور جوڑیاں کی فتح کے بعد پاکستانی مسلح دستوں نے دریائے توی کو عبور کر کے سیالکوٹ کے شمال مشرق میں سیز فائر لائن پر جنگی نقطہ نظر سے اہم مقام اکھنور کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اکھنور بھارت کے لئے شاہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے کہ بھارت کے اہم ضلع پٹھانکوٹ سے آنے والی شاہراہ یہاں سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر آگے جموں اور سرینگر تک جاتی ہے۔ دکھائی دے رہا تھا کہ پاکستانی مسلح دستے اکھنور پر جلدہی قبضہ جما لیں گے اسی اثنا میں غالباً4 ستمبر 1965 ؁ء کو جنرل اختر حسین کو مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی کرنے والے فوجی دستوں کی کمان سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ میجر جنرل آغا محمد یحییٰ خان جو صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے بڑے منظورِ نظر تھے۔ بعد میں جنرل موسیٰ خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد فوج کے کمانڈر انچیف بنے اور 25 مارچ 1969 ؁ء کو محمد ایوب خان کے مستعفی ہونے پر ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر مملکت کے عہدوں پر بھی براجمان ہوئے کو اس محاذ کی کمانڈ سونپ دی گئی ۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی فوجی دستوں کی پیش قدمی میں تعطل واقع ہو گیا۔ یہاں تک کہ ایک دن بعد 6 ستمبر کی رات کو بھارتی فوجوں نے واہگہ کی بین الااقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کر دیا۔

میجر جنرل اختر حسین ملک کو جب کہ ان کے فوجی دستے میدان جنگ میں بظاہر کامیابی سے پیش قدمی جاری رکھے ہوئے تھے فوجی کمانڈ سے کیوں ہٹایا گیااس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اس بارے میں واضح طور پر کہ سکتا ہوں کہ میجر جنرل اختر حسین ملک اور ان کے ان کے خانوادے کے مرزائیت پر سختی سے کار بند ہونے کا اس میں کوئی عمل دخل تھا۔ تاہم میرے ذہن میں ایک گمان سا موجود ہے کہ میں نے کہیں سے یہ سُنا تھا یا کسی اور بنا پر یہ بات میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہے کہ جھوٹی نبوت کے دعویدار ، مرتد اور کافر مرزا غلام احمد قادیانی نے کہیں یہ دعویٰ کر رکھا ہے یا اس طرح کا بول بول رکھا ہے کہ جموں و کشمیر مرزائیت کا مرکز بنے گا۔ اس سیاق و سباق کو سامنے رکھتے ہوئے جنرل اختر حسین ملک کا پہلے مقبوضہ کشمیر میں گوریلا کاروائیوں کے لئے ترتیب دئیے گئے آپریشن ’’جبرالٹر ‘‘ کا پُر جوش حصہ بننا (اگرچہ صدر ایوب خان اور فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ اس آپریشن کے کھل کر مخالف نہیں تھے توپُر جوش حامی بھی نہیں تھے) اور بعد میں سیز فائر لائن عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی کرنے والے پاکستانی فوجی دستوں کے کمانڈر کے طور پر بھر پور کردار کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ جنرل اختر حسین ملک کے اس کردار کے لئے جنرل کا مرزائیت کا عقیدہ مہمیز کاکام دے رہا تھا۔ ایسا اس لئے بھی یہ سمجھا جاسکتا ہے میجر جنرل اختر حسین ملک جو بعد میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پا کرپاکستان، ایران، ترکی اور برطانیہ کے درمیان دفاعی معاہدے سینٹو CENTO میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے انقرہ میں تعینات ہوئے اور وہیں سڑک کے حادثے کا شکار ہو کر لقمہ اجل بنے اور پاکستان میں ان کی میت لائی گئی تو ان کی وصیت کے مطابق ان کوربوہ میں مرزائیوں کے خصوصی اور درجہ اول کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

جنرل اختر حسین ملک کے اس تذکرے کے ساتھ اس کے بھائی عبدالعلی ملک جو فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔ عبدالعلی ملک جنہوں نے میرے گائوں میں شادی کر رکھی تھی ستمبر 1965 ؁ء کی جنگ میں چونڈہ سیالکوٹ کے محاذ پر بحیثیت بریگیڈئیر انفنٹری بریگیڈ کی کمان کر رہے تھے۔ بلا شبہ بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کی بہادری ، بے خوفی اور فرائض کی سرانجام دہی میں لگن نے پاکستان کو بہت بڑی ہزیمت سے بچایا۔ غالباً سات یا آٹھ ستمبر 1965 ؁ء کو بھارت نے اپنے فرسٹ آرمڈ ڈویژن کے کم و بیش چار سو ٹینکوں کے ساتھ شکر گڑھ، نارووال، پسرور اور سیالکوٹ سے ملحقہ بین الااقوامی سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقوں میں پیش قدمی شروع کی ۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ اسی طرح پیش قدمی کرتا ہوا وزیر آباد سے جی ٹی روڈ پر قبضہ جما کر لاہور کے عقب میں پہنچ کر اس کا رابطہ باقی ملک سے منقطع کر دے گا۔ بھارتی ٹینک آگے بڑھتے ہوئے لاہور سیالکوٹ ریلوے لائن پر واقع ریلوے سٹیشن چونڈہ کے اس پار رُک گئے۔ چونڈہ کے اس طرف بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کا انفنٹری بریگیڈ تعینات تھا جبکہ ہمارے چھٹے آرمڈ ڈویژن کی ٹینک رجمنٹیں گوجرانوالہ کے آس پاس کہیں موجود تھیں۔ بھارتیوں کو مقابلے میں پاکستانی ٹینک نظر نہ آئے تو انھیں خدشہ محسوس ہوا کہ کہیں پاکستانی انھیں پیچھے سے گھیرے میں نہ لے لیں اس طرح بھارتیوں کی بیس پچیس گھنٹے پیش قدمی رُک گئی ۔ بریگیڈئیر عبدا لعلی ملک چونڈہ ریلوے سٹیشن کے اس طرف مضبوطی اور سختی سے جمے ہوئے تھے۔ انھیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں بھارتی ٹینک ان کے سامنے مورچہ زن ہیں۔ وہ کم و بیش ساٹھ ، ستر گھنٹے بھارتیوں کے مقابلے میں سینہ سپر رہے اس طرح یہ مشہور ہوا کہ پاکستانی جانباز سینوں کے ساتھ بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کی راہ روکے رہے۔ اس دوران ہمارے چھٹے آرمڈ ڈویژن کی ٹینک رجمنٹیں بھارتی آرمڈ ڈویژن کے مقابلے میں پہنچ گئیں اور پھر چونڈہ کے میدانوں میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی لڑی گئی اور چونڈہ بھارتی بھاری کم شرمن ٹینکوں کے قبرستان کا روپ دھار گیا۔

ستمبر 1965 ؁ء کی جنگ کے یہ واقعات جنرل اختر حسین ملک اور جنرل عبدالعلی ملک کی بہادری، بے خوفی اور جرات کے شاہد ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ ان جرنیلوں کا خانوادہ مرزائیت کے دائرہ اسلام سے خارج اور کفر اور مرتد ہونے کے باطل اور جھوٹے عقیدے پر سختی سے کاربند چلا آ رہا ہے ایسا کیوں ہوا اس کا مطالعہ بھی اپنے اندر کئی تلخ حقائق سمیٹے ہوئے ہے ہیں۔


ای پیپر