میرے استاد ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم
29 جون 2020 2020-06-29

چند دنوں میں کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں رخصت ہو گئیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف کمپیئر طارق عزیز صاحب، ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم صاحب، معروف عالم دین اور ذاکر علامہ طالب جوہری صاحب، جماعت اسلامی کے سابق امیر اور دانشور سید منور حسن صاحب، ممتاز ماہر تعلیم اور جامعہ پنجاب کے ادارہ علوم ابلاغیات کے معمار پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب۔ اللہ پاک ان سب کو غریق رحمت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

ڈاکٹر مغیث مجھ نالائق کے استاد تھے۔ استاد بھی ایسے جن کے علم و فضل اور رعب و دبدبہ کی دھاک مجھ پر ہمیشہ قائم رہی۔ برسوں قبل شعبہ ابلاغیات میںایم ۔اے کیلئے داخلہ لیا تو ان سے پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد پی۔ایچ۔ڈی میں بھی ان سے فیضیاب ہوئی۔انتظامی ذمہ داریوں کے باعث وہ باقاعدگی سے لیکچر نہیں دے پاتے تھے۔ مگر جب بھی لیکچر دیتے ان کے بیان سے علم جھلکتا نہیں، چھلکتا تھا۔ تند و تیزطبیعت کے حامل تھے۔ ذرا سی بات پر گرجنے برسنے لگتے۔ دھاڑ چنگھاڑ سے طالب علم سہم جاتے۔ اگلے ہی پل وہ ایک مہربان اور بے تکلف دوست کا روپ دھار لیتے۔ صحیح معنوں میں دھوپ چھاوں جیسا مزاج رکھتے تھے۔ ڈگری مکمل ہوتے ہی مجھے ایک معروف ٹیلی ویژن چینل میں ملازمت مل گئی ۔ یونیورسٹی کے احباب سے رابطہ منقطع ہو گیا۔تاہم میں جس بھی صحافتی ادارے میں گئی، ڈاکٹر مغیث مجھ سے ہمیشہ رابطہ رکھتے.۔انہوں نے میرا نام " آئرن لیڈی" رکھ چھوڑا تھا۔ جب بھی فون کرتے ، کسی علمی یا صحافتی مجلس میں ملاقات ہوتی، تواسی نام سے پکارتے۔

اقرباپروری کی حد تک میری حوصلہ افزائی فرماتے۔ جنرل پرویز مشرف کے زمانہ میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے سپرد تھی۔ میں نے چوہدری صاحب کا ایک انٹرویو کیا جو ڈاکٹرمغیث کی نگاہ سے گزرا۔ انہی دنوں کسی سرکاری تقریب میں ڈاکٹر صاحب کی ملاقات وزیر اعلیٰ پنجاب سے ہو ئی۔ ڈاکٹر مغیث نے اس انٹرویو کا تذکرہ کیا۔ بتایا کہ لبنیٰ ظہیر میری شاگرد ہے۔ برسبیل تذکرہ، سیاسی نظریات سے قطع نظر، چوہدری برادران کو میں نے نہایت مہذب اور وضعدار انسان پایا۔ میرے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ انتہائی مشفقانہ اوربزرگانہ رہا۔ چوہدری صاحب کی مہربانی کہ انہوں نے میرے متعلق چند اچھے کلمات کہہ ڈالے۔ چند روز بعد میں یونیورسٹی گئی اورڈاکٹر صاحب کے دفتر میں حاضری دی۔ زندگی میں پہلی اور آخری بار انہوں نے کھڑے ہو کر میرا استقبال کیا۔ باقاعدہ میرے کاندھے پر تھپکی دی۔ اس کے بعد یہ قصہ سنایا۔ کہنے لگے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے بھری محفل میں تمہارے متعلق جو تعریفی اور تعظیمی کلمات کہے، انہیںسن کر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ ایسی نیک نامی تو لوگ عشروںمیں کماتے ہیں۔ تم نے چند برس میں اپنے نام کر لی۔ ڈاکٹر صاحب کی ساری بات سن کر میں نے فلمی انداز میں ایک ڈائیلاگ جھاڑ دیا۔ عرض کیا کہ مجھے کسی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کی تعریف سے کیا غرض۔ ہمارے لئے تو فقط اپنے استاد محترم کی تعریف اور حوصلہ افزائی اہم ہے۔ میری بات پر ڈاکٹر صاحب نے ایک بلند آہنگ قہقہہ لگایا۔ کبھی میرا اخباری کالم انکی نگاہ سے گزرتا تو فون کر کے تعریف کرتے۔ میرے ٹیلی ویژن پروگرا م کے حوالے سے بھی وقتا فوقتا حوصلہ افزائی فرماتے۔

ڈاکٹر صاحب نے مجھے جامعہ پنجاب میں بطور وزیٹنگ لیکچرر متعارف کروایا۔ سپیرئیر یونیورسٹی گئے تو وہاں پڑھانے کا موقع دیا۔ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب جوائن کی تو ہر سمسٹر میں خود فون کرتے یا کسی معاون سے کرواتے۔ اپنی مصروفیات (اور سستی) کے باعث میں پڑھانے سے معذرت کر لیتی۔ نہایت خفا ہوتے ۔ اسکے باوجود مجھے تحقیقی مقالاجات کے معائنے اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے ضمن میں باقاعدگی سے مدعو کر تے ۔انہوں نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ ٹیکنالوجی جوائن کی۔ مجھے باقاعدہ حکم جاری فرمایا۔ الفاظ ان کے یہ تھے کہ آئرن لیڈی اس مرتبہ تمہارے نخرے نہیں چلیں گے۔ ایک کورس تمہیں پڑھانا ہی پڑے گا۔ میں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ اب سوچتی ہوںکہ بہت اچھا ہوا۔ اس بہانے ان سے ملاقات کے مزید مواقع میسر آگئے۔ وگرنہ مجھے عمر بھر قلق رہتا کہ ان کے حکم کی تعمیل نہیں کر سکی۔

وبائی صورتحال سے قبل ان کیساتھ چند طویل نشستیں رہیں۔ اکثر و بیشتر مذاقاً فرماتے۔ کالم کیساتھ لگی تصویر فورا ًبدلو۔ اس میں تم انتہائی بری اور فضول دکھائی دیتی ہو۔ کسی علمی سرگرمی کے معاوضے کا چیک تھماتے تو ہمیشہ کہتے۔ ان چند ہزار روپوں سے تمہیں کیا فرق پڑے گا۔جواباً میں یہ جملہ دہرا دیتی کہ یہ آپ کی طرف سے عیدی ہے جو ایڈوانس میں مجھ تک پہنچ گئی ہے۔ان کی سوانح حیات (biography) شائع ہوئی تو مجھے یہ کتاب بھجوائی۔ ایوان اقبال میں منعقد ہ ، کتاب کی تعارفی تقریب میں بطور مقرر مدعو کرکے عزت افزائی کی۔ کیسی کیسی یادیں ہیں جو میرے ذہن میں ابھرتی چلی آرہی ہیں۔

ہمارے ہاں ہر حکومت اور صاحب اختیار کیساتھ اپنا قبلہ تبدیل کر کے جائز ناجائز فائدے سمیٹنے والوں کی بہتات ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر مغیث استقامت کا پہاڑ تھے۔ آتے جاتے صاحبان ارباب و اختیار کیساتھ اپنا رخ تبدیل نہیں کرتے تھے۔ اپنے مو¿قف پر ڈٹ کر کھڑے رہتے۔محبت اور عداوت جم کر نبھاتے۔ ان کی یہ عادت مجھے پسند تھی۔ تنگ مزاجی کے باوجود، انتہائی درد دل رکھنے والی شخصیت تھے۔ درجنوں حاجت مند طالبعلموںکی فیس اپنی جیب سے اداکرتے۔ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دیتے۔ شاگردوں کی نوکریوں کا بندوبست کرتے۔میری کلاس فیلو رابعہ نور آج کامیاب رپورٹر ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی وفات پر وہ نہایت دکھی تھی۔ کہنے لگی کہ میں کبھی کہہ نہیں سکی مگر آج دل چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو بتاوں۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیشہ میری سرپرستی کی۔ خاموشی سے میری سمسٹر فیس ادا کر دیا کرتے تھے۔ ہوسٹل اور میس کاخرچہ بھی اپنے ذمے لے رکھا تھا۔ بلا شبہ سینکڑوں ہزاروں لوگ انکے مداح اور شکرگزار ہیں۔ تاہم بیسیوں ایسے ہیں جو احسان فراموش نکلے۔ غرض پوری ہونے کے بعد پلٹ کر نہیں دیکھا۔ مخالفت اور مخاصمت میں جتے رہے۔ بہت سے چھوٹے لوگوں کی بڑی ڈگریاں اور نوکریاں ڈاکٹر صاحب کی مرہون منت ہیں۔ لیکن یہ کم ظرف ڈاکٹر مغیث کا قد کترنے میں سرگرداں رہے۔ ایسوں کا ذکر کرتے ڈاکٹر صاحب دکھی ہو جایا کرتے تھے۔

ان کے انتقال کی خبر پر، مداحوں کے ساتھ ساتھ کئی دو رخے لوگ بھی فیس بک اور واٹس ایپ گروپس پر ان کی تصاویر شیئر کرتے رہے۔ ان کو اپنا ستاد، آئیڈیل، سرپرست اور پتہ نہیں کیا کیا قرار دیتے رہے۔ زندگی میں انہیں ڈاکٹر صاحب کے متعلق کبھی حرف خیر کہنے ، کسی چھوٹی موٹی تقریب کا اہتمام کرنے کی توفیق تک نہیں ہوئی۔ خود جس ادارے کو اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا، اس کی جانب سے برتی جانے والی بے اعتنائی پر ڈاکٹر مغیث ہمیشہ شاکی رہے۔انہیں گلہ تھا کہ انکی سوانح عمری (biography) شائع ہوئی تو دیگر اداروں نے تقاریب کا انعقاد کیا۔مگر انکے اپنے ادارے نے پوچھا تک نہیں۔دکھی ہوا کرتے تھے کہ پاکستان بھر کی جامعات نے مجھے اپنے اداروں کی علمی کمیٹیوں اور بورڈز میں شامل کر رکھا ہے۔ لیکن میرا اپنا ادارہ میری ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

کاش جیتے جی ان کی دل جوئی اور عزت افزائی کی جاتی ۔ اب اگر اینٹ ،پتھر، مٹی، گارے کی کوئی دیوار یا کمرہ ان کے نام منسوب کیا جاتا ہے تو یہ بے سود ہے۔ عالیشان مقبرہ یا مزار بھی تعمیر کر دیا جائے تو ڈاکٹر صاحب کو کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا۔ ڈاکٹر صاحب کا معاملہ میرے رب کے سپرد ہے۔ وہ تمام تر مادی خرخشوں سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔برسوں قبل ڈاکٹر مغیث کو ”صدارتی ایوارڈاعزاز فضیلت“ عطا ہوا تھا۔ میں ذاتی طور پر آگاہ ہوں کہ گزشتہ دور حکومت میں ان کا نام ”صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی“ کیلئے تجویز کیا گیا ۔ وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر اور وفاقی وزیر برائے قومی تاریخی و ادبی ورثہ ڈویژن، عرفان صدیقی صاحب ایوارڈ کمیٹی کے سربراہ تھے۔ مغیث صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ صدیقی صاحب نے بذات خود ان سے رابطہ کیا اور متعلقہ دستاویزات طلب کی ہیں۔ یہ معاملہ مگر پانامہ لیکس کی نذر ہو گیا۔ وہ کمیٹی اور اسکی سفارشات ہوا کا رزق ہوئیں۔ ڈاکٹر صاحب اب ہر قسم کے دنیاوی اعزازات کی آرزو سے آزاد ہو چکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ان کے نام سے کسی صحافتی اور علمی ایوارڈ، میڈل، یا اعزاز کا اجراءکیا جائے۔ ان کے بیٹے علی مغیث کی خواہش ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے نام سے ضرورتمند اور ذہین طالبعلموں کیلئے وظیفے (scholarship) کا اجراءہو۔ یہ ایک عمدہ تجویز ہے۔ ایسا ہو جائے تو یہ صدقہ جاریہ ہوگا۔ کاش ادارہ علوم ابلاغیات میں ڈاکٹر مغیث کے نام پر تحقیقی چیئر قائم کر دی جائے۔ تاکہ ان کی ذات اور علمی خدمات پر تحقیق ہو سکے۔ جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد صاحب نے وبائی صورتحال کے باوجود، بذات خود ڈاکٹر مغیث کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یہ طرز عمل نہایت قابل تحسین ہے۔ یوں لگا جیسے ڈاکٹر نیاز نے جامعہ کے تمام اساتذہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہو۔ امید ہے کہ وائس چانسلر صاحب مندرجہ بالا گزارشات پر بھی غور فرمائیں گے۔


ای پیپر