ضرورت ہے افغانستان کو احمد شاہ ابدالی کی
29 جون 2019 2019-06-29

مجھے جہاد افغانستان کے دوران اور اس کے بعد 1997-98ء میں جب ملک افغاناں پر ملا عمر کی قیادت میں طالبان کی حکومت قائم ہو گئی اور اس کے فوراً بعد اسامہ بن لادن ان کے مہمان بن گئے… تقریباً دس سال کی مدت کے دوران چھ سات مرتبہ افغانستان جانے کا اتفاق ہوا… اس عرصہ میں جلال آباد، کابل ، قندہار کے کئی چکر لگے… جہاد افغانستان کے سر بر آوردہ لیڈروں میں سے انجینئر گل بدین حکمت یار، پروفیسر برہان الدین ربانی ، اس وقت کے معروف جہادی لیڈر عبدالرب رسول سیاف (جنہوں نے اپنی سر زمین وطن پر سوویت قبضے کے فوراً بعد مکۃ المکرمہ میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں نہایت درجے کی فصیح اور بلیغ عربی میں تقریر کر کے پوری عرب دنیاکو متاثر کیا تھا ) اور جلال الدین حقانی کے علاوہ ثانوی درجے کے کئی جہادی رہنماؤں سے تفصیلی ملاقاتوں کا موقع ملا… 12 دسمبر 1992ء کو جب دنیا کی دوسری بڑی سپر طاقت سوویت یونین کے باقی نہ رہنے کا اعلان ہوا، اس روز میں ماسکو ہوائی اڈے پر اترا اور تقریباً 11 دن تک اس شہر میں قیام کر کے وہاں کی اس ہر اہم شخصیت سے ملاقات کرنے کی کوشش کی جس کے ساتھ گفتگو کے نتیجے میں دنیا کی دوسری بڑی سپر طاقت کے زوال کے اسباب تک رسائی حاصل ہو سکتی تھی، وہاں کی مشہور پیٹرک لوممبا یونیورسٹی میں بھی گیا… ظاہر ہے اتنے بڑے زوال کا ایک اہم سبب مجاہدین کے ہاتھوں سرخ فوج کی شکست بھی تھی… وہاں سے میں تیز رفتار ریل گاڑی کا دو دن اور تین راتوں کا سفر کرتے ہوئے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچا… ازبک پارلیمنٹ ہاؤس میں اس وقت کے صدر اسلام کریموف کا انٹرویو کیا… وسطی ایشیا کی ریاستیں نئی نئی آزاد ہوئی تھیں… وہاں پر جوش و خروش دیدنی تھا… تاشقند کے مفتی اعظم محمد یوسف صاحب کے یہاں بہت پذیرائی ملی… ان کے گھر میں عشائیے کی تقریب میں مقامی علماء سے تبادلہ خیال کا موقع ملا… ریڈیو تاشقند پر دو پروگرام ہوئے… ایک تقریر تھی ، دوسرا انٹرویو کی شکل میں… یہاں بھی حالات میں اتنی بڑی تبدیلی کو ممکن بنانے میں جہاد افغانستان اور اس کی کامیابی میں پاکستان کا کردار زیر بحث آیا… اس کے بعدسمر قند اور بخارا جیسے تاریخی شہروں کا مشاہداتی سفر کیا… وہاں سے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ پہنچا … اس شہر میں دو دن پہلے ایوان صدر کے سامنے آزادی کے حق میں بہت بڑا عوامی اجتماع ہوا تھا اور اس کے شرکاء نے جس فلک شگاف آواز اور بے پناہ جذبے کے ساتھ علامہ اقبال ؒکے مشہور مصرعہ ’از خواب گراں خیز‘ کا ورد کیا اس کی گونج سنائی دے رہی تھی… جہاد افغانستان کے نقطۂ نظر سے تاجکستان کی اہمیت اس لیے قابل ذکر ہے کہ ملک افغاناں کی دوسری بڑی نسلی آبادی تاجک اور یہاں کے لوگ اسی طرح ایک دوسرے کے ہم آہنگ ہیں جیسے پاکستان اور طور خم کے اس پار کے پشتون ہیں دری (قدیم طرز کی فارسی) ان کی مشترک زبان ہے … تاجکوں نے جہاد افغانستان کے مشہور گوریلا رہنما احمد شاہ مسعود کو جنم دیا تھا اور ان کا دریا آمو کے آر پار کی تاجک آبادی میں اتنا ہی رسوخ تھا جتنا پشتونوں کے اندر انجینئر گلبدین حکمت یار وغیرہم کا… اس کے بعد 1996ء کے اواخر میں جب طالبان قندہار پر پوری طرح قابض ہو چکے تھے اور کابل و جلال آباد پر ان کی یلغار ہونے والی تھی تو اس کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے پروفیسر برہان الدین ربانی اور انجینئر گلبدین حکمت یار کے درمیان مجاہدین کی مشترکہ حکومت قائم کرنے کا سمجھوتہ ہو گیا… کابل میں نئی حکومت کے صدر اور وزیراعظم کے عہدیداروں کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی… میں پاکستان کے کچھ سیاستدانوں اور صحافیوں کے ساتھ یہاں پر بھی موجود تھا اس تقریب میں احمد شاہ مسعود کو بطور وزیر داخلہ شرکت کے لیے آنا تھا مگر انہوں نے اپنا نائب بھیج کر خود کو دور رکھنا مناسب سمجھا… ایک دو ماہ کے بعد طالبان نے کابل پر قبضہ کر کے اس حکومت کو اڑا کر رکھ دیا… اس کے بعد گورنر قندھار کی دعوت پر مجھے دوسرے صحافیوں کے ساتھ وہاں جا کر ملا عمر کے ساتھ بھی ملاقات کا موقع ملا… اس تمام تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے اور ہر دورے کی واپسی پر روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے میرے مشاہداتی اور تجزیاتی کالم گواہ ہیں … میں نے بار بار لکھا کہ سوویت سپر طاقت کے خلاف مجاہدین کی بے مثال تاریخی کامیابی اپنی جگہ پر اور یہ حقیقت اپنی جگہ جب تک افغانستان کی دو بڑی آبادیوں یعنی پشتونوں اور تاجکوں کے مجاہد لیڈروں حکمت یاد اور احمد شاہ مسعود کے درمیان قابل عمل اور پائیدار سمجھوتہ نہیں ہو جاتا ، اس ملک کے اندر انتشار رہے گا اور خانہ جنگی اس کا بہت بڑا عنوان بن جائے گی…

1997ء کے آغاز تک طالبان نے تقریباً 90 فیصد افغان آبادی و افغان سر زمین کو اپنے تسلط میں لے لیا اور بلا شبہ ایک پر امن حکومت قائم ہو گئی… تب بھی میں نے اپنی تحریروں میں ایک خدشے کا اظہار کیا کہ جب تک ملا عمر کی حکومت شمالی اتحاد یعنی تاجکستان اور ازبکستان کے سرکردہ جہادی نمائندوں کو پوری طرح شریک اقتدار نہیں کر لیتی، اس وقت تک اس حکومت کی پائیداری کو یقینی نہیں کہا جا سکتا… یہ غالباً اپریل یا مئی 1997ء کی بات ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دنیا کے پہلے دو ملک تھے جنہوں نے طالبان کی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کر لیا… میاں نواز شریف کو دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے ابھی تین چار ماہ ہوئے تھے ان کی قیادت میں پاکستان تیسر املک تھا جس نے طالبان کی حکومت پر مہر تصدیق ثبت کر دی… انہی دنوں وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد میں ملک بھر سے بلائے گئے کالم نگاروں کے ساتھ ناشتے کی ایک محفل رکھی… لاہور سے جناب مجیب شامی، عبدالقادر حسن اور حسن نثار صاحب کے علاوہ کچھ دوسرے صاحبان قلم بھی شریک تھے… میں بھی اگرچہ مشت خاک تھا لیکن بڑوں کے ساتھ تھا … اس محفل میں نواز شریف صاحب نے باری باری ہر ایک سے اپنی حکمرانی کے بارے میں رائے طلب کی … مجھے عرض کرنے کا موقع ملا تو کہا میاں صاحب آپ نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے … انہوں نے بظاہر اپنی writ قائم کر لی ہے لیکن تاجکوں اور ازبکوں کی جائز نمائندگی نہ ہو نے کی وجہ سے ملا عمر کی انتظامیہ کی بنیادیں بہت کمزور ہیں…اسی وجہ سے شمالی اتحاد والے بھارت اور ایران کی جانب لڑھکتے نظر آ رہے ہیں اور یہ امر طالبان حکومت کو زیادہ دیر تک چلنے نہیں دے گا… میں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس جملے پر کیا کہ جناب وزیراعظم اپنی افغان پالیسی کو اپنے ہاتھوں میں لیجیے دوسروں کی دسترس میں نہ رہنے دیجیے… میاں صاحب نے خشمگیں نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہاکہ اگر افغان پالیسی میرے ہاتھ میں نہیں تو کس کے پاس ہے … جنرل جاوید اختر قاضی ان دنوں ڈی جی آئی ایس آئی تھے… وزیراعظم سے ملاقات کے بعد انہوں نے کالم نگاروں کو ایک بریفنگ پر بلایا اور بڑے شد و مد سے سمجھانے کی کوشش کی کہ ملا عمر کی طالبان حکومت ملک افغانان پر اپنے پنجے اس طرح گاڑ چکی ہے کہ کوئی اسے ہلانے کی جتنی کوشش کرے کامیاب نہیں ہو سکتا… پھر یوں ہوا کہ 9 ستمبر 2001ء کو احمد شاہ مسعود کو قتل کر دیا گیا اور اس کے دو روز بعد نائن الیون کا پوری دنیا کی سیاست کو بدل کر رکھ دینے والا واقعہ رونما ہو گیا… تب امریکہ نے پاکستان کے چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی مدد سے افغانستان پر ہوائی حملہ کرنے کی ٹھان لی لیکن اس سے پہلے شمالی اتحاد والے بھی بھارت کی اشیر باد کے ساتھ طالبان کی حکومت کو منہدم کرنے میں امریکہ کو اپنی حمایت کا یقین دلا چکے تھے… بعد کے واقعات کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں… یہاں یہ کہنا کافی ہو گا کہ طالبان نے واحد سپر طاقت کے خلاف اپنی تحریک مزاحمت کو اسی طرح کامیاب کر دکھایا ہے ، جیسے 19ویں صدی کے اواخر کی دو افغان جنگوں نے سلطنت برطانیہ کے چھکے چھڑا کر رکھ دیئے تھے… اور 20 ویں کی آٹھویں دہائی کا جہاد افغانستان جس نے کمیونسٹ سپر طاقت کے پرزے پرزے کرنے میں بڑا کردار ادا کیا… یہ بہادر افغانوںکی تاریخ ہے کہ انہوں نے اپنی سر زمین وطن پر کسی بھی بیرونی طاقت کاقبضہ برداشت نہیں کیا… آج 18 سال کی طویل جنگ لڑنے کے بعد صدر ٹرمپ سمیت امریکہ کے ارباب بست و کشاد کے اند ربھی طالبان کی قوت مزاحمت کے ہاتھوں بری طرح ناکام ہونے کا اعتراف و ادراک پایا جاتا ہے … یہی امر امریکہ اور طالبان (جنہیں واشنگٹن کے حکمران کل تک دہشت گرد کہتے نہ تھکتے تھے) کے درمیان براہ راست مذاکرات کا باعث بنا ہے … جس کے چھ ادوار ہو چکے ہیں اور آج ہفتہ 29جون کو جبکہ یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں ساتواں منعقد ہو رہا ہے

ان مذاکرات کی کامیابی میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن ہے … اس حقیقت کو امریکہ بھی تسلیم کرتا ہے اور یورپ میں اس کے تمام نیٹو اتحادی بھی… اسی دوران میں بھوربن (پاکستان ) میں ان افغان رہنماؤں کی کانفرنس بھی منعقد ہوئی ہے جس کے اندر طالبان اور موجودہ افغان حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہ تھا… تاہم گلبدین حکمت یار اور افغان امن کونسل کے سربراہ محمد کریم خلیلی، سابق وزیر داخلہ حنیف اتمر اور استاد عطا محمد نور سمیت 50 کے قریب افغان لیڈر شریک تھے… اگرچہ عبدالرشید دوستم نہیں آئے اور سابق شمالی اتحاد کا کوئی نمایاں لیڈر بھی نظر نہیں آیا… اس کانفرنس کے انعقاد کے معاً بعد پرسوں جمعہ کے روز افغان صدر اشرف غنی بھی اسلام آباد اور لاہور کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے واپس گئے ہیں… اس سے پاکستان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو جہاد افغانستان کے روز اول سے لے کراب تک چلی آ رہی ہے … پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی سہولت کاری کا فریضہ ادا کر رہا ہے … ان مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں دو باتوں پر اتفاق ہو سکتا ہے ایک یہ کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کا حتمی ٹائم ٹیبل دے دے گا اور دوسرا طالبان اس امر کی یقین دہانی کرائیں گے کہ وہ افغان سر زمین کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں کریں گے… یہ بلا شبہ بہت بڑی اور تاریخی پیشرفت ہو گی… مگر کیا اس سے افغانستان کے اندر مستحکم اور پائیدار امن اور اس کی آئینہ دار پوری قوم کی نمائندگی کرنے والی حکومت کا قیام بھی ممکن ہو پائے گا … یہ بہت بڑا اور بنیادی سوال ہے … اس کے لیے لازم ہے جیسے طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہوا چاہتا ہے ویسے ہی طالبان اور افغانستان کی دوسری بڑی آبادیوں یعنی تاجکوں ، ازبکوں اور ماضی میں شمالی اتحاد کا ساتھ دینے والے دیگر عناصر کے درمیان ایک وسیع طرز سمجھوتہ عمل میں آئے… (واضح رہے کہ پشتونوں ، تاجکوں اور ازبکوں کا نہ صرف دین ایک ہے بلکہ یہ سب حنفی المسلک بھی ہیں… صرف قلیل تعداد کے شیعہ دوسرے مسلک کے حامل ہیں) اس کے بغیر طالبان اپنی داخلی طاقت اور امریکہ کو شکست دینے کے نشے میں سرشار کیفیت کے ساتھ ایک مرتبہ پھر حکومت قائم کر بھی لیں گے بھی تو ایسی حکومت کو سخت داخلی خطرات کا سامنا کرنا پڑے گاجو اس ملک کو بارِ دگر خانہ جنگی کی جانب دھکیل سکتا ہے … پاکستان اس سلسلے میں بھی سہولت کاری کا اہم فریضہ ادا کر سکتا ہے … کیونکہ افغانستان کا داخلی امن ہمارے اپنے ملک کے اندر امن و استحکام کی حالت کو یقینی بنانے کے لیے امر لازم کا درجہ رکھتا ہے … طالبان اور تاجک و ازبک آبادیوں کے حقیقی نمائندوں کے درمیان شراکت اقتدار کا معاہدہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ بھارت کی افغانستان کے اندر بہت مضبوط لابی موجود ہے اور اس ملک میں وہاں امریکی چھتری کے تلے سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے … خاص طور پر دری زبان بولنے یا شمالی اتحاد والوں ظاہر شاہ دور کی اشرافیہ کے اندر اس کا اچھا خاصا رسوخ پایا جاتا ہے … اسے بے اثر کرنے کے لیے بھی لازم ہے کہ مستقبل کی افغان حکومت کے قیام کے اندر طالبان اور دیگر افغان رہنماؤں کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولا طے پا جائے جس کے بعد وہاں انتخابات منعقد ہوں… جسے افغانستان کہتے ہیں یہ ریاست موجودہ شکل میں 1741ء میں وجود میں آئی تھی… اس کے قیام کو عمل میں لانے والی مشہور اور وقت کی فاتح شخصیت احمد شاہ ابدالی تھا… احمد شاہ ابدالی نے نادر شاہ کے قتل کے بعد اپنے علاقے کا اقتدار سنبھالا تو اس نے پختونوں، ازبکوں، تاجکوں اور دوسرے قبائلی رہنماؤں پر مشتمل ایک لویہ جرگہ منعقد کیا اور اپنی بے مثال قیادت کے ذریعے ان تمام قبائل کو افغان حکومت کے جھنڈے تلے جمع کر لیا… یوں بالآخر آج کے افغانستان نے جنم لیا… یاد رہے یہ وہ احمد شاہ ابدالی تھا جس نے 1761ء میں ہندوستان پر یلغار کر کے پانی پت کی تیسری جنگ لڑی اور مرہٹہ طاقت کی کمر توڑ کر رکھ دی… بصورت دیگر آج کے پاکستان سمیت پورے شمالی ہند کے اندر آباد مسلمانوں کو تہ تیغ کر کے رکھ دیاجاتا… اس احمد شاہ ابدالی کے اندر اپنے ملک کے قبائل کو اکٹھا کرنے اور ایک لڑی میں پرو دینے کے لیے اتنی بصیرت اور حکمت عملی پائی جاتی تھی کہ اس نے ایک ہی خطہ پر آباد مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والی آبادیوں کو افغان قوم کی شکل دے دی… آج تک یہ ملک تمام داخلی و خارجی جنگوں اور چیلنجوں کے باوجود اپنی شناخت منوائے چلا آ رہا ہےضرورت ہے کہ موجودہ افغانستان کے اندر احمد شاہ ابدالی از سر نو جنم لے… وہ تمام قبائل کو متحداور ان کے اندر باہمی قومی یگانگت کا جذبہ اس طرح سمو دے کہ افغان جہاں خارجی دشمنوں کے مقابلے کے لیے ایک ہو جاتے ہیں وہیں داخلی لحاظ سے بھی کسی انتشار اور سازش کا شکار نہ ہونے پائیں اور خاجہ جنگی کے چنگل سے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر لیں… اسی میں ان کا اور پاکستان دونوں کا حقیقی فائدہ مضمر ہے


ای پیپر