شب گریزاں ہو گی آخر
29 جون 2019 2019-06-29

پرائم منسٹر ہائوس کو نیشنل یونیورسٹی بنا دینے کا منصوبہ ختم ہو گیا۔ ایچ ای سی والے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ پاکستانیوں کو دو ہاتھ دیے ہی اس لیے گئے ہیں کہ سر پکڑ بیٹھے رہیں۔ سو پوری قوم اسی پوزیشن میں ہے۔ مشکلیں ( حماقتیں ) اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں! پریشان نہ ہوں غلطی بہت سے وعدے کرنے منصوبے بگھارنے میں ہو گئی۔ ختم ہونا تو فطری ہے۔ یہاں تو بنیادی ضروریات چھیننے میں ہی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ڈالر محو پرواز ہے اور اس سے نتھی تمام اشیائے ضروریہ بھی۔ آٹا، گھی، چینی، دودھ ! ہمارے مقابلے میں افغانستان ، بنگلہ دیش، نیپال، سکم، بھوٹان کی کرنسی مستحکم ہے۔ ایٹمی پاکستان کا روپیہ اپنی ناتوانی پر پڑا سسک رہا ہے۔ اس پر بھی FATF معاشی بلیک میلنگ پر اتر ا ہوا ہے۔ امریکہ ، اسرائیل ، بھارت ، برطانیہ گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت نہ روکی گئی، گلے نہ گھونٹے گئے تو ( اکتوبر تک ) بلیک لسٹ کر دیں گے۔ اسی نوعیت کے مطالبات پر پورا وزیرستان ادھیڑ کر رکھ دیا ۔ ملک کو عدم استحکام سے دو چار کر دیا۔ ان کا دل ٹھنڈا نہ ہوا۔ یہ ڈومور کی باریاں لگا رکھی ہیں حیلے بہانوں سے ۔ دہشت گردی کے نام پر اہل ایمان کا صفایا مطلوب ہے بس۔ مصر کی طرح مرسی جیسے مارو تو مال ملے گا۔ مصری معیشت ، مرسی کی مقبول عام جمہوریت کا گلا گھونٹ کر 60 ہزار اخوانیوں کو جیل ڈالنے پر استوار ہے۔ امریکہ ڈالر نچھاور کر تا ہے مصر پر اس کے بدلے۔ سعودی عرب اور امارات سے بھی اس نے معاشی تحائف السیسی کو دلوائے۔ مصر السیسی کے شکنجے میں ہے۔ بنگلہ دیش حسینہ واجد کے شکنجے میں ۔جس نے وہاں جماعت اسلامی کے راسخ العقیدہ صالحین کو پھانسی چڑھایا۔ سید مودودی ؒ کی کتب پر امریکہ کی رضا کی خاطر پابندی لگائی۔ ( سو ان کا ’ٹکہ‘ مضبوط ہے، ڈالر سے دوستی کے عوض۔) واللہ پوری کہانی اسلام کے گرد گھومتی ہے۔ دہشت گردی ، عالمی استحصالی قوتوں کے ہاں اسلام اور جہاد ہی کا نام ہے۔ کفر کی بے لگام بد تہذیبی کے لیے شفاف ، پاکیزہ اسلامی تہذیب بہت بڑا چیلنج ہے، جو ان پر لرزا طاری کر تا ہے۔ اسی لیے مسلم دنیا میں حقیقی اسلام اس نام سے ہی کچلا گیا ہے۔ ورنہ انسانیت کے خلاف قومی سطح پر لرزہ خیز مظالم قومی سطح پر ڈھانے والی قوتیں یوں بے لگام نہ ہوتیں۔ برما، شام، کشمیر، فلسطین میں پوری پوری آبادیاں خون آشام درندگی کی لپیٹ میں ہیں۔ ’ اسلامی فوجی اتحاد ‘ کے لشکر بنا اٹھائے گئے۔ لیکن جب ان مظلوم مسلمانوں کی مدد بارے سوال اٹھتا ہے تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ اسلامی فوجی اتحاد کا مینڈیٹ نہیں ہے ! یعنی مظلوم مسلمان کی چارہ گری سے ہم قاصر ہیں؟ ہمارے اپنے مسلم اداروں کے مینڈیٹ دنیائے کفر طے کرتی ہے۔ حقائق سمجھیے ان کا جبرقبول کر لیجئے۔ آپ اس دور سے گزر رہے ہیں جس میں (حقیقی ) مسلمان ہونا ہتھیلی پر حدیث کے مطابق انگارہ رکھنے کے مترادف ہے ۔ سو تپش کے اس عالم میں لوگ ہاتھوں پر مہندی لگا بیٹھنے کا مشورہ اسی لیے دیتے ہیں۔ ہم انگاروں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اندازہ کیجئے کہ مرسی کو مصری فرعون السیسی نے جو سزائے موت دلوائی تو الزامات میں سے ایک یہ تھا کہ ’ دہشت گرد تنظیم‘ حماس (مظلوم فلسطینیوں کی واحد نمائندہ آواز) کے ساتھ اسرائیل کے مقابل تعاون۔ خود السیسی اصلی دہشت گرد اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ ہے۔ جنوں کا نام خرد رکھ دیا خرد کا جنوں!! یہی قرب قیامت ہے! اسرائیل کا کردار۔؟ دیگر مقبوضہ جاتی قیامتیں جو فلسطینیوں کا مقدر ہیں ان میں سے تازہ ترین یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے واحد بجلی گھر کو ایندھن کی فراہمی روک دی۔ 20 لاکھ فلسطینی آبادی ، غذا ، پانی ، ادویہ، تعلیم سمیت بنیادی سہولیات سے محرومی کے بعد اب بجلی سے بھی محروم کر دی گئی۔ دوسری طرف امریکہ کا یہودی داماد کشنر مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی ’امن منصوبہ ‘ لاگو کرنے کے لیے بحرین میں کانفرنس کے ذریعے مصروف کار ہے۔ یہودی منصوبہ ، بلکہ امن جھانسے پر مسلم دنیا سے حمایت حاصل کر رہا ہے ۔ یاد رہے کہ گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھتی پھیلتی منصوبہ بندی ، اپنے نقشے میں مکہ و مدینہ بھی رکھتی ہے ۔ لہٰذا مسلم دنیا کو راضی بہ رضائے امریکہ و اسرائیل رکھنے کے سارے اہتمام ہیں۔ مرسی جیسوں کا خاتمہ بلکہ صفا یا ضروری ہے۔ ہر سطح پر ۔ خواہ دینی کارکن مرسی جیسی خوبو رکھتا ہو یا قیادت! ستم ظریفی یہ ہے کہ جب مرسی قتل کر دیا تو امریکی ٹائم میگزین تجاہل عارفانہ کے ساتھ بھر پور آرٹیکل لکھ کر اپنی ( objectivity ) غیر جانبداری کا اشتہار لگا کر داد پا رہا ہے۔ امریکہ کو مسلم دنیا میں بھیڑوں کے گلے درکار ہیں اور ان پر السیسی جیسے چرواہے۔ مسلمان حد سے حد داڑھی ، پردہ، نماز، وظیفے کر لے۔ اسے بھی دیکھا تو خشمگیں نگاہوں سے جائے گا مگر فی الوقت گوارا ہے۔ اس سے آگے ریڈزون ہے۔ شریعت کی رو سے دینی، دنیاوی معاملات میں لب کشائی؟ اس کی جرات مت کرنا۔ شانِ رسالت، صحابہ ؓ، ختم نبوت، سود ، عالمی معیشت سیاست، امت کی غم خواری، کفر کا ظلم جبر قہر، اسرائیل، فلسطین۔ یہ ممنوعہ موضوعات ہیں۔ مرسی نے اپنی قوم سے کہا تھا اپنے شیروں کو قتل مت کرو ورنہ دشمن کے کتے تمہیں کھا جائیں گے۔ ہم شیروں کے شکار کے عادی ہو چکے کیونکہ مسلم عوام نے اپنی تقدیر یں خود ہی دشمن کے کتوں کے ہاتھ میں دے دیں۔ شام، مصر، بنگلہ دیش چند مثالیں ہیں کتا پروری اور شیروں کے شکار کی! آج فقہیان مصلحت بیں نو جوانوں کو عزیمت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنے اور حکمت و مصلحت کے نام پر کھال اور مال بچا رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ حالانکہ سر کی آنکھوں سے ہم نے اپنے ہمسائے کے ہاں بے سروسامانی کی آخری انتہا پر ایمان کی جنگیں لڑنے والے صاحب عزیمت طالبان کو دیکھا ہے۔ وہ امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لے آئے۔ اور اب گلوبل چوہدری مذاکرات میں بھی گھٹنے ٹیکے طالبان سے سمجھوتے کے لیے مسودہ تیار کر چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے نیوز کانفرنس میں طالبان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم مکمل غیر ملکی فوجیں نکالنے کے لیے تیار ہیں۔ ستمبر سے پہلے فوجوں کا انخلاء ہو جائے گا۔ بدلے میں وہ کیا مانگ رہے ہیں؟ یہ کہ، امید ہے افغان سر زمین دوبارہ دہشت گردی کا مرکز نہیں بنے گی ۔ اب امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنے ایجنڈوں کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ طالبان ، اجاڑے گئے تباہ حال افغانستان میں مصروف ہو جائیں۔ وہ شیر جو امریکہ کو عمر ابن خطابؓ اور خالد بن ولیدؓ کی خوبو سے بیک وقت دہلاتا تھا۔ وہ رخصت ہوا۔ ( ملا عمر ؒ !) جس ایک مسلمان کی خاطر اس نے پوری مملکت دائو پر لگا دی وہ بھی کہانی پوری ہوئی۔ اب گریٹر اسرائیل اہم تر ہے۔ اس کے لیے قدس کے گردو نواح پر پنجہ مضبوط کرنا ہے۔ مرسی کا قتل اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ 60 ہزار قید اخوانیوں پر پابندیاں، شدتیں، شدید تر کر دی گئیں۔ اخوانی اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کو دہلاتے ہیں۔ با وجود کہ انہوں نے القاعدہ سے الگ تھلگ رہ کر جمہوریت پسندی اور آئینی جدو جہد کا منہج اپنایا۔مگر جمہوریت کا ڈھول پیٹتے امریکہ نے اسے لمحہ بھر گوارانہ کیا۔ وجہ یہ ہے کہ ایسا مسلمان جو مغرب کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو ۔ مغرب کو اندر باہر سے جانتا ہو اور پھر قرآن و سنت پر عبور رکھتا ہو ، راسخ العقیدہ ہو ، مغرب کے لیے ہولناک چیلنج ہے۔ ایسوں کا علاج وہ سیسی اور حسینہ واجد وغیرہ سے کرواتا ہے کہ یہی حقیقی دہشت گرد ہیں۔ تاہم بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ۔ امام مہدی کو بھی آنا ہے۔ اور نزول مسیح حقیقی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی ان کی خیریت پوچھنے کو ہونا ہی ہے۔ شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے۔ یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے ! سو ہمیں کوئی ٹینشن نہیں ہے۔ تنہا تنہا ہر کہانی قبر پر جا مکمل ہونی ہے، اس کی خیر منائیں۔ رب کو راضی کر کے گھر لوٹیں۔ اور پھر الساعۃ حق، الجنتہ حق، النارُ حق! ابدی حقائق یہی ہیں !


ای پیپر