وہ خود ہی تماشا ہیں، وہ خود ہی تماشائی
29 جون 2019 2019-06-29

وزیرِاعظم صاحب نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا حکم صادر فر ما دیا ہے۔ اِسے کہتے ہیں قوم کے ساتھ ’’ہَتھ‘‘ کرنا۔ اِسے کہتے ہیں ’’تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو‘‘۔ دَست بستہ سوال ہے کہ مہنگائی کی کِس نے؟۔ ڈالر کو 164 روپے تک لے جانے کا ذمہ دار کون؟۔ سٹاک مارکیٹ میں زلزلے کی سی کیفیت کس کے دَم قدم سے؟۔ تنخواہ دارملازمین کی تنخواہیںبیٹھے بٹھائے 40 فیصد تک کم کیسے ہو گئیں؟۔ مہنگائی کے عفریت نے کس کی وجہ سے پورے ملک کو گھیر رکھا ہے؟۔ یہ بجا کہ فوج نے اپنے بجٹ میں کمی کا اشارہ کرکے محبِ وطن ہونے کا ثبوت دیا لیکن ڈالر کی اونچی اُڑان کی وجہ سے اُس کے بجٹ میں بھی خود بخود 40 فیصد کمی ہو گئی، اِس کا ذمہ دار کون؟۔ وزارتِ عظمیٰ کے حصول سے پہلے آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ڈالر ایک روپیہ مہنگا ہوتا ہے تو بیرونی قرضوں کا بوجھ 100 ارب روپے بڑھ جاتا ہے۔ آپ کے دَورِ حکومت کے ابتدائی 10 ماہ میں ڈالر 114 سے 164 روپے تک جا پہنچا، بیرونی قرضوں کے کھربوں روپے بڑھ جانے کا حساب کون دے گا؟۔ آپ قوم کو متواتر صبر کی تلقین کر تے ہوئے قطرے کو گُہر میں ڈھالنے کے دعوے کر رہے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ گُہر میں ڈھلنے تک قطرے پر کیا گزرتی ہے۔ اگر مزید چند ماہ تک یہی حالت رہی تو تحقیق کہ مہنگائی کی تپش سے ’’قطرہ‘‘ اپنا وجود بھی کھو بیٹھے گا۔ تاریخ کا سبق یہی کہ آتشِ شکم ہمیشہ انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے اور وہ انقلاب خونی ہوتا ہے۔ اِس لیے صبر کی تلقین کرنے کی بجائے بھوکوں کے پیٹ کی آگ سرد کرنے کا بندوبست کریں کہ اِسی میں سب کا بھلا ہے۔ ویسے بھی جس ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کا پرچار آپ کر رہے ہیں اُس میں انسان تو کجا دریائے فرات کے کنارے مَر جانے والے کُتّے کی روزِ قیامت پُرسش کے خوف سے بھی امیرالمومنین لرزہ بَراندام ہو جاتے تھے۔

وزیراعظم صاحب نے فرمایا ’’یہ بہت کھلے دِل کی قوم ہے۔ میں 30 سال سے اپنی قوم سے پیسہ اکٹھا کر رہا ہوں۔ جتنا پیسہ میں نے اکٹھا کیا، کسی نے نہیں کیا۔ قوم فیصلہ کرے کہ ہم نے مِل کر ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ ملک میں سب سے بڑا مسٔلہ کرپشن کا ہے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ اُن کے ٹیکس کا پیسہ ضائع ہو جائے گا۔ لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں، اُس میں اصلاحات لا رہے ہیں‘‘۔ بجا! مگر حقیقت یہی کہ رفاعی کاموں میں یہ قوم واقعی کھلے دِل کی مالک ہے۔ وزیرِاعظم صاحب نے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کیا تو سکولوں کے بچے تک اپنا ’’جیب خرچ‘‘ لے کر پہنچ گئے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کے بعد نمل یونیورسٹی کے لیے بھی لوگوں نے دِل کھول کر عطیات دیئے لیکن سیاست کے لیے قوم کے ہاں کوئی گنجائش نہیں۔ عبدالستار ایدھی مرحوم کا سیاست سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ وہ صبح ومسا رفاعی کاموں میں مگن رہتے تھے اِسی لیے قوم نے ہمیشہ اُن کا ساتھ دیا اور اُنہیں کپتان سے کئی سو گُناعطیات ملتے رہے۔ وزیرِاعظم صاحب نے تیس سالوں تک رفاعی کام کے لیے چندہ اکٹھا کیا جبکہ اب وہ سیاست کے لیے مانگ رہے ہیں۔ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں ’’قوم فیصلہ کرے کہ ہم نے مل کر ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے‘‘۔ جبکہ ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا’’عوام سمجھتے ہیں کہ اُن کے ٹیکس کا پیسہ ضائع ہو جائے گا، اُنہیں ایف بی آر پر اعتماد نہیں‘‘۔ ایسے میں بھلا کون بیوقوف ٹیکس دے گا۔ پہلے قوم کا اعتماد تو بحال کر لیںلیکن آپ کو تو چور چور، ڈاکو ڈاکو کہنے سے ہی فرصت نہیں۔ رہی بات وزیروں، مشیروں اور حواریوں کی تو اکثریت ’’ریلو کَٹے‘‘ جنہیں طوطے کی طرح کرپشن کرپشن رٹایا گیا ہے۔ اُن سے بھلا قوم کیا اُمید رکھے اور کیوں۔ شیخ رشید جیسے ’’عقلمند‘‘ بھی اِسی کابینہ کا حصّہ۔

ایک دفعہ ارسطو نے محفل میں بیٹھے لوگوں سے کہا ’’میں سب سے زیادہ عقلمند ہوں‘‘۔ لوگوں نے پوچھا ’’ وہ کیسے‘‘۔ ارسطو نے جواب دیا ’’کیونکہ میں اپنے آپ کو عقلمند نہیں سمجھتا‘‘َ لیکن شیخ رشید کا معاملہ اُلٹ۔ اُس نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا ’’میں عقلمندوں کا لیڈر ہوں، بیوقوفوں سے بات بھی نہیں کرتا‘‘۔ اب قوم خود ہی اندازہ لگا لے کہ عقلمندوں کا یہ ’’سردار‘‘ عقل کے کِس مقام پر فائز ہے۔ اُس نے یہ بھی کہا’’ حکومت لائن اور لینتھ پر ہے۔ یہ مہینہ مشکل ہے۔ اگر 3 تاریخ کو آئی ایم ایف کے دستخط ہو گئے تو سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ جس شخص کا معیار قرضے پہ جینا ہو، اُس سے بھلا قوم کیا توقع رکھ سکتی ہے۔ نون لیگ اور پی پی پی بجا طور پر کہتی ہیں کہ شیخ رشید کی باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اب عمر کے اُس حصّے میں ہے جس میں ’’بونگیاں مارنا‘‘ اچنبے کی بات نہیں۔ شیخ صاحب نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا ’’اگر میں ریلوے کے معاملات ٹھیک نہ کر سکا تو عمران خاں سے کہوں گا کہ میری وزارت تبدیل کر دے‘‘۔ گویا وزارت ضروری ہے خواہ وہ کچرا اُٹھانے کی ہی کیوں نہ ہو۔ کیا کوئی صاحبِ عقل ایسی بات کر سکتا ہے؟۔ ایک شیخ رشید ہی کیا یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ فیصل واوڈا نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا ‘‘میں نے پہلے کہا تھا کہ 500 لوگوں کو لٹکا دیں تو ملک ٹھیک ہو جائے گالیکن اب میں کہتا ہوں کہ پہلے 500 لوگوں کو گاڑیوں سے باندھ کر ملک میں پھرایا جائے اور پھر اُ ن کو لٹکایا جائے‘‘۔ وہ لوگ جنہیں کسی ماہرِنفسیات کو دکھانا چاہیے، وہ جب وزارتوں پر بیٹھے ہوں تو پھر اِس ملک کا اللہ ہی حافظ۔ حیرت تو اِس بات پر ہے کہ وہ سپیکر جس کے نزدیک ’’سلیکٹڈ‘‘ غیرپارلیمانی لفظ ہے اور جس نے قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہبازشریف کو دَورانِ تقریر یہ لفظ استعمال کرنے سے نہ صرف روک دیا بلکہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں شاید پہلی بار قائدِ حزبِ اختلاف کا مائیک بھی بند کروا دیا، اُسے فیصل واوڈا کے بیان میں کوئی غیرپارلیمانی لفظ نظر نہیں آیا جسے اسمبلی کی کارروائی سے حذف کروایا جا سکے۔ ہم نے تو یہی سنا تھا کہ سپیکر پوری پارلیمنٹ کا ہوتا ہے اِس لیے غیرجانبدار بھی ہوتا ہے لیکن محترم اسد قیصر تو صرف تحریکِ انصاف کے سپیکر نکلے جن کے نزدیک چور اور ڈاکو تو غیرپارلیمانی الفاظ نہیں لیکن سلیکٹڈ غیرپارلیمانی ہے۔

اپوزیشن نے پورے ملک میں 25 جولائی کو احتجاج کی کال دے دی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اِس احتجاج کا فائدہ اپوزیشن کو ہوگا نہ حکومت کو۔ اگر فائدہ ہو گا تو اتحادیوں اور آزاد ’’لوٹوں‘‘ کو جن کے مطالبات بڑھ جائیں گے۔ حکومتی اتحادی اختر مینگل اپوزیشن کے ساتھ وعدے وعید کر چکے تو حکمرانوں نے ایک دفعہ پھر اُن کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ مقصد بجٹ کی منظوری تھاحالانکہ یہ بجٹ تو منظور ہونا ہی تھا۔ ہم تو اپنے پچھلے کالم میں ہی لکھ چکے کہ آئی ایم ایف کے پیش کردہ بجٹ میں قومہ اور فُل سٹاپ تک ہٹانے کی کسی میں ہمت نہیں۔ یہ بجٹ تو منظور ہونا ہی ہے۔ اب اپوزیشن کے شورشرابے اور بڑھکوں کے باوجود آئی ایم ایف کا تیارکردہ یہ بجٹ منظور ہو چکا۔ اب اختر مینگل نے ایک دفعہ پھرحکومت کو 2 ماہ کی مہلت دے دی ہے۔ ہمارے خیال میں بالآخر اخترمینگل کو اپوزیشن کے ساتھ ہی ملنا ہوگاکیونکہ 2 ماہ کے بعد بھی اُن کے مطالبات پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔ اُدھر ایم کیو ایم جو ہمیشہ ’’تاڑ‘‘ میں رہتی ہے، اُس کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے بھی کہہ دیا ’’ہم نے تو اپنے وعدے نبھائے، اب وفاقی حکومت بھی اپنے وعدے پورے کرے‘‘۔ بجٹ کی آڑ میں ایم کیو ایم مزید ایک وزارت لے اُڑی۔ اب پتہ نہیں وہ کن وعدوں کی بات کر رہی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ ابھی ابتدا ہے اور ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ پتہ نہیں 25 جولائی آنے تک اور کتنے اور کس کس کے مطالبات سامنے آئیں گے کیونکہ اپوزیشن کی اے پی سی میں چیئرمین سینٹ کی تبدیلی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ شیخ رشید جیسے لوگ لاکھ کہتے پھریں کہ اے پی سی بکواس تھی، جمعہ بازار تھا، اتوار بازار تھا لیکن حقیقت یہی کہ اپوزیشن کی 8 جماعتوں کی اِس اے پی سی نے حکومتی حلقوں میں ’’تھرتھلی‘‘ مچا دی ہے۔ کرکٹ کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن نے ابتداء پانچ روزہ ٹیسٹ میچ سے کی پھر وَن ڈے انٹرنیشنل شروع ہوا اور اب T-20 کی آمد آمد ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمٰن تو روزِ اوّل ہی سے T-20 کے حق میں تھے کیونکہ اُنہیں بھی کپتان کی طرح جلدی ہی بہت ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیتے گا وہی جس کی لائن اور لینتھ درست ہوگی۔


ای پیپر