مرد درویش!
29 جون 2019 2019-06-29

درویش سیاستدان اور سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد مرموم کی دسویں بر سی پچیس جون کوخاموشی سے گزر گئی،ان کی سیاسی وارث جماعت سیاسی اتحادیوں اور عقیدت مندوں سمیت کسی کو کچھ توفیق ہوئی نہ احساس،،،

اس کو ناقدریء عالم کا صلہ کہتے ہیں

ایک ایسا شخص جس کی سادگی میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا رنگ ہو۔ جس کی عبادات میں خشوع و خضوع کا عنصر غالب ہو۔ جس کی استقامت کے دوست دشمن سب قائل ہوں جو تمام آسائشیں چھوڑ کر ایک مشکل زندگی گزارنے پر برضا رغبت تیار ہوا ہو جس نے کشف المحجوب جیسی اعلیٰ پائے کی کتاب کا ترجمہ کیا ہو۔ جو مرتے دم تک اپنے مشن پر ڈٹا رہا ہو ،،، اسکی برسی کا ہر سال خاموشی سے گزر جانابلاشبہ ایک قومی المیہ ہے ۔

سانحہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعدبچے کچھے پاکستان میں بھٹو حکومت قائم ہوئی تو ایک کمزور اپوزیشن کے ساتھ میاں طفیل محمد نے 1972ء میں جماعت اسلامی کی امارت سنبھالی، مولانا مودودی جیسی قد آور علمی و سیاسی شخصیت کے بعد یہ ایک مشکل کام تھا لیکن لگن، مسلسل محنت اور صبر و استقامت کے باعث بہت جلد انہوں نے معاملات کو خوش اسلوبی سے سنبھال لیا۔۔ یہ شخصی آمریت اور فسطائیت کا دور تھا جس میں میاں طفیل محمد پوری جرأت کے ساتھ کھڑے تھے چنانچہ انہیں بار بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں اور ایک موقع پر تو ان کے ساتھ ایسا توہین آمیز سلوک کیا گیا کہ دنیا چیخ اٹھی۔ بھٹو حکومت کے آمرانہ اقداما ت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا پاکستان قومی اتحاد بنا تو میاں طفیل محمد اس اتحاد کے نو ستاروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے پور ی جرأت اور اپنے کارکنوں کی قربانیوں کے ذریعے پی این اے کی تحریک کو کامیابی کی منزل تک پہنچایا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ ہوا تو جماعت اسلامی پی این اے کی دیگر جماعتوں کے ساتھ عبوری حکومت میں شامل ہوگئی۔ ضیاء ریفرنڈم کی حمایت اور جہاد افغانستان میں بھرپور شرکت کے باعث جماعت اسلامی کو حکومت کی بی ٹیم ہونے کا طعنہ سننا پڑا۔ چونکہ صدر ضیاء الحق کا تعلق مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے تھا اس لیے مخالفین نے میاں طفیل محمد کا تعلق بھی جالندھر سے جوڑ کر بہت سی کہانیاں گھڑ لیں حالانکہ ان کا تعلق جالندھر سے نہیں کپور تھلہ سے تھا۔ پھر دونوں کے درمیان ارائیں کنکشن جوڑا گیا اور بعد میں کہا گیا کہ میاں طفیل محمد صدر ضیاء الحق کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ حالانکہ اس میں کوئی زیادہ صداقت نہ تھی۔

1979 میں افغانستان پر روسی جارحیت کے خلاف شروع ہونے والا افغان جہاد گزشتہ دور کا ایک تاریخ ساز واقعہ ہے جس میں دشمن کے مقابلے میں انتہائی کم وسائل مگر جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین نے اپنی قربانیوں اور سخت مزاحمت کے باعث دنیا کی ایک سپر پاور کو شکست سے دو چار کیا۔ اس جہاد کو پاکستان میں منظم کرنے والوں میں میاں طفیل محمد کی قیادت میں جماعت اسلامی سرفہرست تھی۔ اس جہاد میں جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں مگر بعد میں حکمرانوں کی عاقبت نا اندیش پالیسیوں کے باعث جہاد کے ثمرات کو سمیٹا نہ جا سکا اور آج مذہب بیزار لوگوں نے اس جہاد کو ایک طعنہ بنا دیا ہے۔ حالانکہ یہ جہاد جہاں استعمارِ سوویت یونین کی ذلت آمیز شکست کا باعث او ر اس کی گرم پانیوں تک رسائی کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بنا وہاں پوری دنیا کے مسلمانوں کے باہمی اتحاد اور عالمی استعماری قوتوں کے خلاف منظم جدوجہد کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہوا۔

نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی خواہش تھی کہ نواب محمد احمد خان قتل کیس کو ری اوپن کیا جائے اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دلوایا جائے۔ اس مقصد کے لیے بے نظیر حکومت نے ایک انٹرنیشنل جیورسٹ کانفرنس بھی بلائی اور اس میں اس نقطہ نظر کے حامی مختلف ممالک کے حاضر اور ریٹائرڈ سروس ججوں کو مدعو کیا گیا۔ ان میں سری لنکاکے ایک جج بھی تھے جنہوں نے پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی بھٹو کی پھانسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے جوڈیشل مرڈر بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کوئی نام دیا۔ ۔ پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں نے تو ان ریمارکس کی حمایت اور ستائش کرنا ہی تھی جو انہوں نے کی۔ باقی جماعتوں نے بھی مصلحتاً یا تو خاموشی اختیار کی یا گول مول سا ردِ عمل ظاہر کیا۔اس مسئلہ پر میاں طفیل محمد سے رابطہ کیا گیا جو اس وقت جماعت کے امیر نہیں تھے، تو انہوں نے کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اپنی رائے کا برملا اظہارکیا۔

جماعت اسلامی کی امارت سے دست بردار ہونے کے بعد صحت کی خرابی کے باوجود میاں طفیل محمد آرام سے نہیں بیٹھ گئے بلکہ انہوں نے بہت بھرپور قسم کی صحت مند سرگرمیاں جاری رکھیں ادارہ معارف اسلامی کی نگرانی، مساجد کمیٹی کی سربراہی کے علاوہ انہوں نے اپنا باقی وقت مطالعہ اور لکھنے میں صرف کیا وہ اخبارات کا مطالعہ بڑی باریک بینی سے کرتے کسی اخبار میں وہ دین، سیاست، جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ کے بارے میں کوئی وضاحت طلب بات دیکھتے تو فوراً اخبار کو خط لکھتے جس میں تاریخ اور واقعات کی درستگی اغلاط کی تصحیح اور مبہم باتوں کی وضاحت کر دیتے۔ بعض اوقات اخبارات میاں صاحب کے ان خطوط کو باقاعدہ مضمون کی شکل میں شائع کر دیتے اور بعض اوقات متعلقہ کالم نگار اپنے کالم میں وضاحتی خط کے طور پر شامل کرلیتے تھے۔

امارت سے سبکدوش ہونے کے بعد میاں صاحب عام تقریبات اور اجتماعات میں بطور مقرر شرکت سے گریز کرتے۔وہ عبادات کی جانب زیادہ توجہ دینے لگے تھے چنانچہ اپنی زندگی کے آخری رمضان میں اس پیرانہ سالی کے باوجود انہوں نے پوری نماز تراویح جماعت کے ساتھ اور کھڑے ہو کر ادا کی۔ ضعیفی اور کمزور نظر کے باوجود وہ تمام نمازیں مسجد میں آ کر ادا کرتے۔ برین ہمبرج کے جان لیوا حملہ سے قبل انہوں نے مغرب اور عشاء کی اپنی آخری نمازیں مسجد میں ادا کیں۔

ان کی سادگی بھی ایک مثال تھی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ شادی کے بعد ان کے تمام کپڑے ان کی اہلیہ محترمہ سیتی تھیں صرف شیروانی درزی سے سلوائی جاتی تھی۔اللہ پاک ایسے درویش صفت انسان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین


ای پیپر