عمرہ نامہ!.... (ساتویں قسط)
29 جون 2019 2019-06-29

گزشتہ سے پیوستہ....

اپنے عمرہ کے کالمی سفرنامے کی گزشتہ قسط میں، میں عرض کررہا تھا ایوان صدر میں زرداری سے ملاقات کے بعد مری میں ایک روزہ قیام کرکے ہم واپس لاہور کے لیے نکلے۔ کلرکلہار سے اگلے ”ریسٹ ایریا“ میں رُکے میں نے اپنا موبائل فون چیک کیا بے شمار کالز اسلام آباد کے مختلف سرکاری نمبروں سے آئی ہوئی تھیں، جو موبائل فون کی بیل آف ہونے کی وجہ سے میں نہ سن سکا تھا، میں نے اُن میں سے ایک نمبر پر کال کی پتہ چلا یہ پریذیڈنٹ ہاﺅس اسلام آباد کا نمبر ہے۔ میں نے آپریٹر کو اپنانام بتایا، وہ بولا ” سر ہم آپ کو بڑی دیر سے کالز کررہے ہیں، صدر زرداری آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں“۔ ....اب وہ ایک میٹنگ میں ہیں وہ جیسے ہی فارغ ہوتے ہیں ہم کال کریں گے“،....ہم لاہور کے بالکل قریب پہنچے ایوان صدر سے کال آگئی، میں نے گاڑی رُکوادی، آپریٹر نے اِس تسلی کے بعد کہ آواز میں کوئی خلل وغیرہ نہیں ہے لائن صدر زرداری کو دے دی، پہلے اُنہوں نے پوچھا ”کل آپ خیریت سے واپس لاہور پہنچ گئے تھے؟“۔ میں نے ازرہ مذاق جواب دیا ”آپ کے ساتھ ملاقات چونکہ خوشگوار رہی تھی اس لیے میں واقعی خیریت سے لاہور پہنچ گیا ہوں، پھر میں نے انہیں بتایا ”ہم ایک روز کے لیے مری رُک گئے تھے“ .... اُس کے بعد وہ فرمانے لگے ”دوستوں سے پتہ چلاہم جب چین اور امریکہ جارہے تھے، آپ کو ساتھ جانے کے لیے کہا تھا ، آپ نے معذرت کرلی تھی، مجھے آپ کی معذرت کی وجوہات معلوم نہیں، مگر تب ہم دوست نہیں تھے، اب ہم آپ کو ایسی جگہ ساتھ لے جانا چاہتے ہیں، جہاں آپ انکار نہیں کرسکیں گے“ .... میں پتہ نہیں اُس وقت کس موڈ میں تھا ، میں نے عرض کیا ”سر میرے خیال میں دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں جانے سے میں انکار نہ کرسکوں“ ،....وہ بولے ” ہم آپ کو اپنے ساتھ خانہ کعبہ اور روضہ رسول پر لے جانا چاہتے ہیں “، .... میری آنکھیں بھیگ گئیں، میں خاموش ہوگیا، میرا سارا تکبر خاک میں مِل گیا، مجھے مری میں دیکھا خواب یاد آگیا کہ کس طرح کالے رنگ کا ایک چمکدار پردہ تھا جس کے اندر کوئی موجود تھا۔ میں اُس سے ملنے کی التجائیں کررہا تھا۔ مجھے حاجی غلام فرید صابری کی قوالی ” تاجدار حرم، ہونگاہ کرم، ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے “ کے دوران خود پر طاری ہونے والی رقت یاد آگئی جس کے دوران میں نے دل ہی دل میں دعا کی تھی اللہ مجھے اپنا گھر دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے“،....صدر زرداری نے میری ”خاموشی“ کی ”آواز“ شاید سن لی تھی، کہنے لگے ”ہمارے لوگ آپ سے رابطہ کرلیں گے“ ،....یہ کہہ کر انہوں نے بات ختم کردی، تھوڑی دیر بعد مجھے احمد ریاض شیخ جن کے بارے میں گزشتہ کالموں میں،میں تفصیل سے بتاچکا ہوں وہ زرداری کے بہت ہی مخلص اور قریبی دوست تھے، اب بھی ہیں کی کال آگئی، انہوں نے کسی صاحب کا نام لیا اور فرمایا ”وہ ابھی آپ سے رابطہ کریں گے آپ اپنا پاسپورٹ اُنہیں دے دینا، پرسوں صبح دس بجے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے آپ صدر صاحب کے ساتھ عمرے پر جائیں گے، آپ کی روانگی اسلام آباد سے ہوگی“،.... میں گھر پہنچا تو کچھ ہی دیر بعد اُن صاحب کی مجھے کال آگئی، پھر وہ خود آگئے، میں نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اُن کی کچھ خاطر تواضع کرنے کے بعد اپنا پاسپورٹ اُن کے سپرد کردیا، اُنہوں نے پاسپورٹ دیکھا مجھ سے کہنے لگے ”یہ تو ایکسپائرڈ “ ہے، مجھے اس کا علم نہیں تھا، میں نے سوچا زرداری کے ساتھ سفر شاید میری قسمت میں ہی نہیں ہے۔ یہ بات اب اس لیے بھی میرے لیے صدمے کا باعث تھی کہ وہ مجھے عمرے پر ساتھ لے جارہے تھے جس کی خواہش کئی برسوں سے میرے دل میں پل رہی تھی پرسوں صبح انہوں نے روانہ ہونا تھا اور ظاہر ہے ارجنٹ پاسپورٹ بننے میں بھی کم ازکم ایک ہفتہ تو ضرور لگ جانا تھا، ....خیر اُن صاحب نے جن کا نام غالباً فرحت عباس تھا اور اُن کا تعلق ایف آئی اے سے تھا فوری طورپر احمد ریاض شیخ کو کال کی‘ اُنہیں بتایا کہ اِن کا تو پاسپورٹ ہی ”ایکسپائرڈ“ ہے۔ احمد ریاض

شیخ نے اُن سے کچھ کہا، انہوں نے فون مجھے پکڑا دیا، وہ بولے ”اب اِس کا واحد حل یہ ہے آپ ابھی اپنا سامان پیک کریں اور فوراً اسلام آباد پہنچیں تاکہ ہم ہنگامی بنیادوں پر آپ کا نیا پاسپورٹ بنوائیں، .... میں نے عرض کیا پاسپورٹ تو بن جائے گا ویزہ ایک دن میں کیسے لگے گا ؟ ۔ انہوں نے فرمایا ” یہ آپ کا نہیں ہمارا مسئلہ ہے“ ،....میں ابھی اسلام آباد سے واپس لاہور پہنچا ہی تھا، بہت تھکا ہوا تھا مگر خانہ کعبہ اور روضہ رسول پر حاضری کی تڑپ اور لگن سے مجھے لگا ساری تھکاوٹ دور ہوگئی ہے، میں نے اپنے عزیز چھوٹے بھائیوں سے کہا ” ہمیں ابھی فوراً اسلام آباد کے لیے نکلنا ہوگا، اُن کی مہربانی وہ تیار ہوگئے، میں نے اسلام آباد پہنچ کر احمد ریاض شیخ کو کال کی، اُنہوں نے فرمایا ” سارا انتظام ہوگیا ہے، آپ ابھی تھکے ہوں گے فی الحال آرام کریں، کل صبح ٹھیک آٹھ بجے آپ نے ڈی جی پاسپورٹ سے ملنا ہے، وہ آپ کا انتظار کررہے ہوں گے، اگلی صبح میں ابھی اُٹھا ہی تھا ڈی جی پاسپورٹ کی مجھے کال آگئی، وہ فرمانے لگے ”آپ آٹھ بجے سے پہلے ہی آجانا “ .... میں پونے آٹھ بجے کے قریب اُن کے دفتر پہنچ گیا، اُنہوں نے بڑی آﺅ بھگت کی، ایک تو ظاہر ہے وہ مجھے زرداری کا ”خاص آدمی“ سمجھ رہے تھے، دوسرے اُنہوں نے بتایا وہ میرے کالم بھی پڑھتے ہیں، ایک دوکالموں کا انہوں نے بطور خاص ذکر بھی کیا، ٹھیک آدھے گھنٹے بعد میرا پاسپورٹ تیار ہوگیا ، میں نے وہیں بیٹھ کر احمد ریاض شیخ کو دوبارہ کال کی، اُن سے پوچھا ” اب میرے لیے کیا حکم ہے؟“.... اُنہوں نے کسی انجم صاحب کا بتایا کہ وہ ابھی فون پر رابطہ کرکے آپ کے پاس پہنچ جائیں گے آپ اپنا پاسپورٹ اُن کے سپرد کردیں تاکہ ویزہ لگ سکے، میں نے پاسپورٹ اُن کے سپرد کردیا، اِس کے باوجود کہ سب کچھ ہنگامی بنیادوں پر ہورہا تھا کوئی مشکل پیش نہیں آرہی تھی، اللہ جانے کیوں دِل میں ایک وہم سا تھا کہ شاید میں نہیں جاسکوں گا، میں نے ارادہ بلکہ فیصلہ کیا کہ صدر زرداری کے ساتھ نہ بھی جاسکا کچھ دِنوں بعد اپنے طورپر چلے جاﺅں گا، جو کیفیت مری میں مجھ پر طاری ہوئی تھی، جو خواب میں نے وہاں دیکھا تھا میرا ایمان تھا میری ” حاضری“ کی منظوری ہوچکی ہے، اب صرف جانا باقی ہے‘ پاسپورٹ انجم صاحب کے سپرد کرنے کے بعد میں اپنے ایک بہت ہی محترم اور نفیس پولیس افسر جاوید نور (مرحوم) سے ملنے چلے گیا، وہ اُس وقت ڈی جی آئی بی تھے۔ (جاری ہے)


ای پیپر