بھارتی آبی جارحیت اور ہمارے حکمران
29 جون 2018 2018-06-29

یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارت میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اکثر یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کردے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی کہہ چکے ہیں کہ کشمیر میں خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔ ایک حلقے کا یہ موقف بھی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو قائم تو رکھا جائے لیکن اس کے تحت بھارت جتنا زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کرسکتا ہے، وہ اسے کرنا چاہیے۔
بی بی سی کے مبصر کا یہ کہنا کسی حد تک درست ہے کہ ’قیام پاکستان کے وقت زمین تو تقسیم ہوگئی تھی لیکن پانی نہیں اور انڈیا، پاکستان کے درمیان مشترکہ پانیوں کے استعمال پر تنازع 1960 تک جاری رہا جب آخرکار عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے گئے،اس کے بعد دو بڑی جنگیں ہوئیں اور کئی مرتبہ دونوں ملک جنگ کے دہانے تک پہنچے لیکن اس معاہدے پر آنچ نہیں آئی، اختلافات حل کرنے کے لیے اب بھی دونوں ملک عالمی بینک کا رخ کرتے ہیں،سندھ طاس معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق ہوا کہ ’انڈس بیسن‘ کے چھ دریاؤں اور ان کی معاون ندیوں کا پانی کون اور کیسے استعمال کرے گا’۔واقفان حقائق و حالات جانتے ہیں کہ قیام پاکستان کے موقع پر 6 میں سے تین3 دریا انڈیا کے حصے میں آئے اور تین پاکستان کے۔ انھیں مشرقی اور مغربی دریا کہا جاتا ہے۔سندھ، جہلم اور چناب مغربی دریا ہیں جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے جبکہ راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریا ہیں جن کے پانیوں پر ہندوستان کا حق ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا مغربی دریاؤں کا پانی بھی استعمال کر سکتا ہے لیکن سخت شرائط کے تحت۔ اسے ان دریاؤں پر بجلی گھر بنانے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ پانی کا بہاؤ (مختص شدہ حد سے) کم نہ ہو اور دریاؤں کا راستہ تبدیل نہ کیا جائے۔ یہ ’رن آف دی ریور‘ پراجیکٹس کہلاتے ہیں یعنی ایسے پراجیکٹس جن کے لیے بند نہ بنایا گیا ہو۔
واقفانِ حال جانتے ہیں کشن کنگا جہلم کا وہمعاون دریا ہے جسے پاکستان میں دریائے نیلم کہا جاتا ہے۔ انڈیا نے 2005 میں اس پر لائن آف کنٹرول کے بہت قریب ایک بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اسے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کہتے ہیں۔ کشن گنگا چونکہ جہلم کا معاون دریا ہے اس لیے اس کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر پر انڈیا نے تقریباً چھ ہزار کروڑ روپے خرچ کیے ۔330 میگاواٹ کے کشن گنگا پراجیکٹ کے اعلان کے فوراً بعد ہی پاکستان نے عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔یہ منصوبہ مقبوضہ کشمیر کی گریز وادی سے وادی کشمیر میں بانڈی پورہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے لیے کشن گنگا کا پانی استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اسے ایک مختلف راستہ استعمال کرتے ہوئے، جس کے لیے بانڈی پورہ تک تقریباً 24 کلومیٹر لمبی سرنگ بنائی گئی ہے، وولر جھیل میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں سے یہ واپس جہلم کے پانی کے ساتھ پاکستان چلا جاتا ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ اس پراجیکٹ سے دونوں ہی شرائط کی خلاف ورزی ہوتی ہے، نیلم میں پانی بھی کم ہوگا اور کشن گنگا کا راستہ بھی بدلا جائے گا۔ وہ خود اسی دریا پر ایک بجلی گھر بنا رہا ہے جسے نیلم جہلم ہائڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کہتے ہیں۔اس پراجیکٹ میں 1000 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی لیکن سوال کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے بعدکیا پاکستان کو اتنا پانی مل پائے گا جتنی کہ اسے ضرورت ہے؟ اس کے علاوہ پاکستان میں زراعت کے لیے بھی یہ پانی بہت اہم ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ اسے جنتا پانی ملنا چاہیے، اس سے کافی کم پانی ملے گا جس کی وجہ سے پاکستان میں قلتِ آب کا
بحران سنگین شکل اختیار کر لے گا۔ بھارت کا ڈھٹائی پر مبنی موقف ہے کہ کشن گنگا پراجیکٹ سندھ طاس معاہدے کے تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہی تعمیرکیا گیا ہے۔ پاکستان کے اعتراض کے بعد انڈیا نے بجلی گھر کے لیے 97 میٹر اونچا بند تعمیر کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ اب اس کی اونچائی 37میٹر ہے۔لیکن 2010 میں یہ تنازع دی ہیگ میں مصالحت کی عدالت میں پہنچا جس نے پراجیکٹ پر کام روکنے کا حکم دیا۔ تین سال بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انڈیا یہ بجلی گھر بنا تو سکتا ہے کیونکہ یہ ’رن آف دی ریور‘ پراجیکٹ ہے لیکن اسے کشن گنگا میں تعین شدہ مقدار میں پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانا ہوگا۔پاکستان نے 2016 میں پھر عالمی بینک سے رجوع کیا، اس مرتبہ کشن گنگا پراجیکٹ کے ڈیزائن پر اپنی تشویش کے سلسلے میں۔ آبی وسائل کے ماہر ہمانشو ٹھکر کے مطابق بینک نے اس مسئلہ کے تصفیے کے لیے دو سطح پر کارروائی شروع کی تھی لیکن فریقین کی اس دلیل پر کہ دونوں متضاد فیصلے سنا سکتے ہیں، اس کارروائی کو روک دیا گیا۔ عالمی بینک میں آخری سماعت گذشتہ برس ستمبر میں ہوئی تھی۔ سال رواں مارچ میں جب کشن گنگا میں بجلی بننا شروع ہوئی تو پاکستان نے پھر عالمی بینک سے کہا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اب اس پراجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔جہاں تک بجلی بنانے کا سوال ہے، ماہرین کیمطابق یہ بہت چھوٹا پراجیکٹ ہے جہاں صرف 330 میگاواٹ بجلی بنے گی۔ آبی وسائل کے ماہر ہمانشو ٹھکر کیمطابق اس کی ’سٹرٹیجک‘ اہمیت زیادہ ہے کیونکہ گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے بہت قریب واقع ہے۔ چونکہ یہ انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے اس لیے کشن گنگا پر لاگت معمول سے بہت زیادہ آئی جس کے نتیجے میں یہاں بننے والی بجلی بھی بہت مہنگی ہوگی۔اس لیے مسٹر ٹھکر کے مطابق اس پراجیکٹ کو بنانے کا کوئی اقتصادی جواز نہیں ہے اور اس کا مقامی معاشرے، ماحولیات، دریا اور وہاں بائیو ڈائیورسٹی سب کو نقصان پہنچے گا۔یہ تو واضح ہے کہ کشن گنگا ڈیم کا قتصادی جواز کم اورسٹرٹیجک‘ اہمیت زیادہ ہے ۔
کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پاور (KHEP) اوررامپور ہائیڈرو الیکٹرک پاور(RHEP) کے تنازعات کوحل کرنے کے لیے 21مئی 2018 کوچیف ایگزیکٹوآفیسرعالمی بینک کے ساتھ پاکستانی وفد کی ملاقات کے نتیجے میں،سینئروائس پریزیڈنٹ اورعالمی بینک کے جنرل کونس نے اٹارنی جنرل آف پاکستان،اشتراوصاف علی کوایک خط بھجوایا جو تعطل کا شکار امورکے حل کے لیے تجاویز کے علاوہ ان 2تجاویزپرمشتمل ہے جن کے حوالے سے متعلقہ حکام جلد ہی ایک اجلاس طلب کریں گے تاکہ پاکستان کے جواب کوحتمی شکل دی جاسکے۔پہلی تجویز:پاکستان کو غیرجانبدار ماہرمقررکرنے کی بھارتی در خواست قبول کر لینا چاہیے۔ دوسری تجویز:بھارت ،یہ معاملہ ثالثی عدالت میں لے جانے کی پاکستانی درخواست،قبول کرلے۔ اس کے برعکس محسوس کیا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی فورم،یعنی،عالمی بینک کی سطح پرپاکستان کوپہنچنے والے نقصان کے متعلق بھارتی پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پرایک شعوری،دانستہ اورمسلسل مذموم مہم شروع کردی گئی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس منفی پراپیگنڈاکے توڑ کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے ۔ ہمارا میڈیا نے بھی اس ضمن میں انتہائی بے حسی اور مجرمانہ تغافل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثر و بیشتر سیاسی نان ایشوز کو ایشوز بنانے، ریاستی اداروں کو مورد تنقید بنانے ، اپنے اپنے پسندیدہ سیاسی رہنماؤں کا امیج بہتر شو کرنے اور مقامی سیاسی مخاصمت کو زیادہ اجاگر کر نے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔
ضرورت اس امر کی تھی اور ہے کہ حکومت پاکستان پانی کے متعلق اپنے مفادات کا تحفظ کرتی اور عالمی برادری کو بھارت کے مذموم عزائم سے آگاہ کرتی اور اس کے لیے سفارت کاروں کو امریکی ریاستوں اور یورپی ملکوں میں متحرک کیا جاتا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ منتخب سیاسی حکومتوں نے 10برسوں میں تندہی سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا نوٹس لے لیا جاتا تو مودی کو کشن گنگا دیم کا افتتح کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ لیکن ہمارے حکمران تو اصحاب کہف کے ساتھ شرط بدھ کر سوئے رہے۔ کاش ، اس دورانیہ میں ہوش کے ناخن لیے جاتے ، چوکسی ، ہوشیاری اور بیداری کو بہ روءں کار لایاجاتا تو عالمی برادری کو بتایا جاسکتا تھاکہ پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت اس کے ساتھ دریائے چناب پر بننے والے تینوں منصوبوں (پکال گل ، لوئر کلنائی) کا ڈیزائن شیئر کرے اور واضح کردیا جاتا کہ پاکستان کو ڈیزائن دکھائے بغیر انڈیا ان پر کام شروع نہیں کر سکتا۔ اگر پاکستانی مفادت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوا تو ہم ہر عالمی پلیٹ فارم پر اس کے ڈیزائن پر اعتراض کریں گے۔۔ اگر ایسا کرلیا جاتا تو ایک موقع ایسا بھی آیاتھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات پر بات چیت میں عالمی بنک اور امریکہ کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ دکھائی دے رہے تھے ۔ واضح رہے کہ انڈیا دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ کے رتلے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر پر ایک عرصہ سے کام کر رہا تھا ۔ ان دونوں منصوبوں پر پاکستانی حکومتوں نے اعتراضات مطلوبہ شدو مد کے ساتھ نہیں اٹھائے۔ حالانکہ یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں تھا ۔


ای پیپر