شہزادہ محمد بن سلمان کا اصلاحاتی پروگرام
29 جون 2018 2018-06-29

سعودی عرب میں عورتوں پرگاڑی چلانے پر پابندی ختم ہوئی ہے ۔یہ شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030کاگراں قدرثمرہے جس کا مقصدنہ صرف انقلابی معاشی پالیسیوں سے سعودی عرب کا پٹرول کے سکڑتے وسائل پرانحصارکم کرنا ہے بلکہ حتمی منزل سماجی اصلاحات سے دنیا کو لبرل اور معتدل اسلام کی تصویرپیش کرنا ہے۔معتدل اسلام کی ترویج کیلئے سینماکھل رہے ہیں، موسیقی پرپابندی ختم ہوچکی ہے۔ تاہم جہاں ایک طرف سعودی معاشرہ کچھ قدغنوں سے آزادہورہاہے ، وہاں سعودی علماء کے نزدیک یہ اسلام پربراوقت چل رہاہے، کہ عورت جہاں حیض اورنفاس کے دوران نمازوروزہ سے رخصت کیوجہ سے نصف ایمان رکھتی ہے ، مالی معاملات میں قرآن چونکہ اس کی آدھی گواہی تسلیم کرتا ہے اس لیے مردکے مقابلے میں اس کی عقل بھی آدھی ہے اور اس استدلال پرعورت کو ڈرائیونگ کی اجازت قطعاً نہیں ہونی چاہئے ۔ معززعلما کیمطابق عورتوں کوڈرائیونگ کی آزادی سے ایسی اخلاقی وباء کا خطرہ ہے جس کے بعدکسی باکرہ کا ملنا دشوارہوجائے گا۔چہ جائیکہ ابھی بھی تعلیم اورسفرکیلئے سعودی عورت کو مردکی اجازت درکارہے۔
المیہ یہ ہے کہ مسلم ممالک میں زرعی سے صنعتی معاشرت میں تبدیلی کوکبھی چیلنج نہیں سمجھا گیا، اورستم بالائے ستم زرعی معاشرت کی اقدارکو عین اسلام سمجھ لیا گیا۔، ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ جدیدیت (Modernity) کو چیلنج سمجھ کرمذہب کی تعبیرنو کا بیڑااٹھایاجاتا، دونوں کی افراط وتفریط اوربحرانوں سے بچتے ہوئے تطبیق کی راہ اختیارکی جاتی،مگر"یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا, ، اگر اور جیتے رہتے یہی انتظارہوتا" والی کیفیت رہی۔ ادھرسیاسی ضرورت آدھمکی ، ادھرمذہب کی لولی لنگڑی تعبیرسے مسئلہ حل ہوگیا، مذہب کو ایک کلی آفاقی پیغام سمجھنا اوراس کے جزئیات میں ایک نامیاتی تعلق پیدا کرنا شاہان اسلام کی کبھی ضرورت نہیں رہی، اس لیے ادھ موئی اصلاحات جب (living link) کا سوال کریں توجواب ندارد! ۔کل جب روس افغانستان میں تھاامریکا اوریورپ کو ابن تیمیہ والا اسلام درکارتھاجوپہلے سلطنت عثمانیہ کیخلاف محمد بن عبدالوہاب کی وہابی تحریک کے کندھوں پرسوارہوکرمشرق وسطیٰ کی آزادی کیلئے بروئے کارآچکا تھا۔لہٰذا دنیا بھرمیں جہاد جہاد کھیلا گیا۔ برفانی ریچھ کو افغانستان کے کوہ ودمن سے نکال باہرکھڑاکیا ،اب جب انکل سام افغانستان میں ہے تو اس جن کو بوتل میں بندکرنے کیلئے معتدل اسلام درکار ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان امریکا میں ایک انٹرویوکے دوران کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب نے امریکا اوریورپ کی ایماء پرمسلم دنیا میں مدارس کی فنڈنگ کی تھی۔کوئی یہ توسمجھائے کہ اب معتدل اسلام کی تان کس کے مفادمیں چھیڑی گئی ہے؟
بلومبرگ کی رپورٹ کیمطابق عورتوں کوڈرائیونگ کی اجازت ملنے سے 2030تک سعودی خزانے میں 90ارب ڈالرزآئیں گے۔ ڈاکٹربرنارڈلیوس What Went wrong" " لکھتے ہیں کہ مسلم ممالک کی پچاس فیصدآبادی (خواتین) گھرکی چاردیواریوں
میں بند ہے کیا اس کا جی ڈی پی پر کوئی اثر نہیں ہو گا، پھر یہ امت غریب امریکا اوریورپ کے سامنے کاسہ لیس نہ ہو توکیا کرے۔ان کے تجزیوں پرکیا جائیں کہ انہیں تو نپولین نے Nation of Shopkeepers کہا تھا۔اسلام مادی اورروحانی پہلوؤں کو یکساں اہمیت دیتا ہے، عورت کے حقوق کی پاسداری مادی سے زیادہ روحانی ضرورت ہے،اہل مغرب کے تحریف شدہ آسمانی صحیفوں میں عورت کو برائی کی جڑکہاگیاجس نے آدم کو جنت سے نکلوایا، کہا گیاکہ یہ الٹی پسلی سے پیداکی گئی ہے۔ مگرقرآن نے کہا کہ شجرممنوعہ سے پھل کھانے کی بابت آدم وحوادونوں نے غلطی کی اورمغفرت مانگنے پرمعاف کردیا گیا۔قرآن نے ایسی کوئی فضیلت نہیں بیان کی جس پرصرف مردکی اجارہ داری ہو۔مشہورمسلم مفکرابن رشد نے قرآن سے ہی استدلال کیا تھاکہ "مرداورعورت میں فرق کمیت کا ہے ماہیئت کا نہیں" ایسا نہیں کہ دونوں کی کیمسٹری مختلف ہو، ہاں کمیت یعنی مقدارمیں فرق ہے، کچھ معاملات میں عورت اوپرہے کہیں مردزیادہ بہترہے، مثلاً موسیقی کے میدان میں عورت کی آواز میں جو جزب وکیف ہے مردکو حاصل نہیں ہے، معاشی سرگرمیوں میں جو طاقت وبرداشت مردکو حاصل ہے وہ عورت کو نہیں ۔ یہی وجہ ہے قرآن نے مردکے اس توانا کردارکی روشنی میں کہا ہے کہ مردوں کو عورتوں پردرجہ حاصل ہے کہ معاشی بوجھ اٹھاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جب یہ علت ختم ہوجائے پھربھی مردکی برتری قائم رہے گی؟۔قرآن نے کہا ہے کہ تمام انبیاء برابرہیں ان میں کوئی فرق نہیں، دوسری جگہ فرمایا کہ کچھ کو کچھ پرفضیلت حاصل ہے بظاہرتضادلگتا ہے حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک نبوت کے منصب کا تعلق ہے سب برابرہیں، مگرجن انبیاء نے زیادہ محنت ومشقت کی انہیں دوسروں پرافضلیت ہے ۔ یہ فضیلت کسبی ہے، ودیعت کردہ نہیں ہے۔اسی طرح مردکو جو عورت پرفضیلت ہے وہ کسبی ہے جوہری نہیں ۔عورت کی آدھی گواہی کی علت بھی بتائی گئی ہے کہ جب کوئی تجارتی معاہدہ ہو تو گواہی میں دومردہوں یا ایک مرداور دوعورتیں کہ جب ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاددلا سکے وجہ صاف ظاہرہے ،کیا اس عہدجدیدکی ریاضی دان عورت کی گواہی بھی آدھی ہوگی؟
شہزادہ محمدبن سلمان نے سعودی عرب کے روایتی ستونوں کوہلا کررکھ دیا ہے،علماء، شہزادوں اورتاجروں کو آڑے ہاتھوں لیاہے۔مگرکنگ سعودیونیورسٹی سے بیچلران اسلامک لاء 32سالہ محمدبن سلمان کیلئے عرض ہے " نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی ،، اپنے سینے میں اسے اورذرا تھام ابھی" عرب بہارکا ایک جھونکاتوآپ سمیت تمام شاہان عرب سہہ گئے ، بھاری مون سون یا بادسموم چلی تو سب کچھ بہہ جائے گایاراکھ ہوجائیگا۔آپ نے اسی ارب ڈالرزسے کہیں زیادہ دفاع پرجھونک دئے ہیں، شام اوریمن سلگ رہے ہیں ، ، واقعی اگرآپ کو وژن عطاہوا ہے توآپ کو چاہئے کہ ایران سے معاملات درست کریں، ٹرمپ کی صدارت آپ کیلئے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے کے مترادف ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کو ختم کردیا،پھرکوئی اوبامانما آگیا تو؟
آپ اس سرزمیں کے وارث ہیں جہاں سے لاقیصرو لاکسریٰ کا نعرہ بلندہوا تھا، جہاں الارض لی اللہ کی صدا بلندہوئی تھی، مگرحیف صد حیف!یہی امت مرحوم جس نے طلسم قیصروکسریٰ کو توڑدیا تھا خودتخت ملوکیت پربراجمان ہوگئی، اورملوکیت سے قوموں کا کیا حال ہوجاتا ہے، زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے، عقل وہوش اوررسم ورہ بدل جایا کرتے ہیں، شہزادہ محمد بن سلمان اگردین حق اورعہدجدیدکی سیاسیات کا ادراک رکھتے تووہ بلاشبہ سعودی عرب کوبادشاہت سے جمہوریت کی طرف لے چلتے، ان کے پاس برطانیہ کا ماڈل بھی ہے کہ کیسے بتدریج بادشاہ کی پاورزختم کرکے مضبوط پارلیمنٹ کی بنیادپڑی۔ان کے سامنے روس اورفرانس کے انقلابات کی مثالیں بھی ہیں کہ کیسے کیسے بادشاہوں کے سرناریل کی طرح اڑائے گئے۔جن کے پاؤں کی خاک کحل جواہرتھی ، تاریخ نے انہیں کی آنکھوں میں سلائیاں پھرتی دیکھیں۔آپ کے سامنے حضرت عمر بن عبدلعزیز کا ما ڈل بھی ہے۔ورنہ وہ وقت دورنہیں جب "کنگ "صرف تاش کے پتے پررہ جائے گا، اگرعرب ریاستوں نے خونی انقلاب سے بچنا ہے تو آئینی حکومتوں کا قیام ناگزیرہے, شہزادہ محمدبن سلمان خوشی سے نئے شہربسائیں، مگریادرکھیں!
جہان تازہ کی افکارتازہ سے ہے نمود
سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا


ای پیپر