سندھ میں حکمرانوں سے جواب طلبی
29 جون 2018 2018-06-29

سندھ میں خراب حکمرانی اور لوگوں کو ڈلیور نہ کرنے کی جواب طلبی ہورہی ہے۔ ایک جواب طلبی عدالتیں کر رہی ہیں، دوسری ووٹرز حکمران جماعت کے امیدواروں سے انتخابی مہم کے دوران کر رہے ہیں۔اس عمل کے دوران تکلیف دہ معلومات کے ساتھ بعض انکشافات بھی سامنے آرہے ہیں۔ صوبے کی صورتحال خراب انتظام کاری، لوگوں کی تکالیف سے لاتعلقی، وسائل کی لوٹ مار سے عبارت ہے۔ ’’لاڑکانہ ہسپتال کی خراب کارکردگی کا ماڈل ‘‘ کے عنوان سے’’ روزنامہ کاوش ‘‘لکھتا ہے کہ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں کی خراب کارکردگی کی رپورٹس شایع ہوتی رہتی ہیں، اور یہ عام سی ہو گئی ہے۔ لیکن ٹیچنگ ہسپتال جن کا انتظام سندھ حکومت اور متعلقہ یونیورسٹیوں کے پاس ہے ، ان کا حشر ملک کے چیف جسٹس اپنی آنکھوں سے دیکھ کر گئے ہیں۔ محکمہ صحت میں بے رحم افسران بیٹھے ہیں، لیکن یونیورسٹیوں میں بیٹھے ہوئے پروفیسر صاحبان کے دل کس نے پتھر کردیئے؟ چیف جسٹس لاڑکانہ کی چانڈکا ہسپتال کا دورہ کر کے گئے ہیں، اگر وہ حیدرآباد سول ہسپتال اور لیاقت یونیورسٹی ہسپتال کا دورہ کرتے ، وہاں بھی انہیں تھوڑے سے فرق کے ساتھ وہی صورتحال ملتی

۔ میڈیا مسلسل انتظامیہ کی توجہ عوام کی شکایات کی طرف دلاتا رہا ہے لیکن صحت کے ان اداروں کی توجہ کسی اور طرف ہونے کی وجہ سے عوامی شکایات میں کوئی کمی نہیں آسکی ہے۔ چانڈکا ہسپتال میں ایکس رے مشینوں کے کمروں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ پیتھالوجی لیبارٹریز سے لیکر باتھ رومز تک ہسپتال کی خراب حالت دیکھ کر چیف جسٹس نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو سرزنش کی۔ مریضوں نے بھی چیف جسٹس سے ادویات نہ ملنے کی شکایت کی۔ چیف جسٹس کے دورے کی اطلاع پر انتظامیہ نے ایک روز کے لئے معاملات کچھ ٹھیک کئے ہونگے۔ اس خاص روز ہسپتال کی اگر یہ حالت تھی تو عام دنوں میں اس کی کیا حالت ہوگی؟ چانڈکا ہسپتال تو ایک مثال بنی ہے۔ سندھ کے تمام ہسپتال تقریبا یہی منظر پیش کرتے ہیں۔ لاڑکانہ، سکھر، حیدرآباد اور جامشورو ہسپتالوں کے نام کچھ اور ہیں لیکن بدانتظامی کا ماڈل ایک ہی ہے ۔ ٹیچنگ ہسپتالوں میں خراب کارکردگی کا بوجھ حکومت سندھ کے ڈاکٹرز یہ کہہ کر خود پر سے اتار دیتے ہیں کہ وہاں یونیورسٹی انتظامیہ کی مرضی چلتی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ یہ کہتی ہے کہ ڈاکٹرز اور عملہ سندھ حکومت کا ہے۔ ان پر ہمارا بس نہیں چلتا۔ یہ باتیں سن کر مریض اور ان کے لواحقین پریشان ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے چیف جسٹس کو بھی یہی بہانہ سننے کو ملا ہو۔

اصلاح احوال کے لئے یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر صاحبان سے لیکر حکومت سندھ کے ڈاکٹرز تک کسی کو بھی ٹیچنگ ہسپتالوں کی فکر نہیں۔ خراب طرز انتظام جاری رکھنے کے لئے ان کے پاس درجنوں عذر ہائے لنگ ہیں۔ دیہات سے علاج کے لئے آنے والے غریب اور بے رسا مریضوں اور ان کے لواحقین کو ڈاکٹرز اور عملے کی ڈانٹ اور بدتمیزی مزید بیمار کر دیتی ہے۔ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں سے اگر کسی صحتمند کا بھی گزر ہو تا ہے، تو وہ بھی آلودہ ماحول کی وجہ سے کسی نے کسی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ لاڑکانہ کے شیخ زید وومین ہسپتال میں بھی چیف جسٹس کو وہی صورتحال نظر آئی۔ یہ حالات دیکھ کر وہ کہہ بیٹھے کہ اگر شہید بھٹو کے شہر کے ہسپتالوں کی اتنی خراب صورتحال ہے ، باقی سندھ کے شہروں کی کیا حالت ہوگی؟ سندھ حکومت گزشتہ دو ادوار کے دوران کم از کم لاڑکانہ کی ہسپتالوں کو مثالی بنا سکتی تھی۔

لاڑکانہ کے ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانا یقیناًیونیورسٹی انتظامیہ، ان کے ڈاکٹروں، عملے اور شہر کے لوگوں کا کام ہے۔ لیکن کچھ کردار ان کا بھی ہے جو لاڑکانہ کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔ اگر لاڑکانہ ہی خراب حکمرانی اور خراب انتظام کاری کا ماڈل بنا ہوا ہے پھر شکوہ کس بات کا؟ ’’پانی کے وسائل کو زہریلا کرنے والوں سے جواب طلبی کی ضرورت‘‘ کے عنوان سے ’’روزنامہ سندھ ایکسپریس ‘‘لکھتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے منچھر جھیل میں آلودگی کا از خود نوٹس لینے کی سماعت کے دوران عدالت نے جو ریمارکس دیئے ہیں وہ سندھ کی بے بسی کی بھرپورعکاسی کرتے ہیں۔ عدالت کے ریمارکس تھے کہ سندھ میں لوگ ایک ریوڑ کی طرح ہیں جس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں۔ ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ بیس برس سے منصوبے چل رہے ہیں مگر تاحال لوگ کو صاف پانی کے قطرے سے بھی محروم ہیں۔اربوں روپے کا خرچ دکھانے کے باوجود سندھ کے لوگوں کو زہر پلایا جارہا ہے۔ کتنی رقم کہاں خرچ ہوئی،؟ گزشتہ آٹھ سال سے یہ کیس چل رہا ہے۔ مگر اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ عدالت کے مطابق اگر حساب کیا جائے، کہیں بھی ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں ہوا ہے۔ سندھ کے ادارے چاہتے ہیں کہ یونہی لوگ مرتے رہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عدالت کی جانب سے جواب طلبی پر محکمہ آبپاشی کا وہی گھسا پٹا جواب تھا جو وہ اس سے پہلے کی سماعتوں کے دوران دیتے رہے ہیں، کہ منچھر کو صاف کیا جارہا ہے۔ منچھر کو کتنا صاف کیا گیا ہے اور بحال کیا گیا ہے؟ اس کا اندازہ منچھر کا دورہ کرنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ دنیا بھر میں مشہور سندھ کی یہ جھیل زہریلے پانی کا ذخیرہ بنی ہوئی ہے۔ اس سے منسلک تاریخ ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔ لیکن صوبائی سیکریٹری آبپاشی عدالت کو یہ بتا رہا ہے کہ کام جاری ہے۔

منچھر تو ایک حوالہ ہے۔ یہ تمام سندھ کے اجڑنے کا معاملہ ہے۔ یہاں حکومتی ادارے عام لوگوں سے بالکل اس طرح لاتعلق بنے ہوئے ہیں جس طرح عدالت نے بیان کیا ہے۔ سندھ کی کونسی جھیل ہے جو آلودہ نہیں؟ جھیلوں کو چھوڑیئے، سندھ کے شہروں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے منصوبوں کا جو حال ہے، واٹر کمیشن نے اس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ کسی معاشرے میں اداروں کی اتنی مجرمانہ غفلت ہو سکتی ہے؟ سندھ بھر کے لوگوں کو زہر پلانے والے ان اداروں کی جواب طلبی کون کرے؟ جو حکمران آتے اور جاتے رہے ہیں، ان کی ترجیحات ذاتی جاگیریں بنانا ہے ، نتیجے میں سندھ کی انتظام کاری کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ سندھ کی جھیلیں ہوں یا پانی کے ذخائر سب اجڑ چکے ہیں۔

ہمارا المیہ ہے کہ ادارے افراد کے محتاج رہے ہیں۔ یہ ایک دو افراد کی پسند ناپسند کا معاملہ نہیں، یہ کروڑہا لوگوں کی صحت ، زندگی ، وسائل کی بحالی اور آئندہ نسلوں کا سوال ہے

اس کوتاہی کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے وسائل کی لوٹ مار کرنے والوں کا تعین ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ یہ ارب ہا روپے جو کاغذوں میں خرچ شدہ دکھائے گئے ہیں ان کا ثبوت طلب نہیں کیا جائے گا تب تک لوٹ مار جاری رہے گی اور مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جائیں گے۔


ای پیپر