نگران حکومت اور الیکشن
29 جون 2018 2018-06-29

پورے ملک کی طرح صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی الیکشن کی تیاریاں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن مہم زوروں پر ہے ۔ الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر نگران حکومت کا کام صاف اور شفاف الیکشن کے عمل کو یقینی بنانا ہے ۔ اس حوالے سے الیکشن 2018کے لیے سیکورٹی پلان تشکیل بھی دے دیا گیا ہے ۔صوبے بھر میں 11ہزار35پولنگ سٹیشن قائم ہونگے۔ان پولنگ سٹیشنز میں 2ہزار572پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیاہے ۔ الیکشن کمیشن کے ا علامیہ کے مطابق الیکشن کے ودران پولنگ سٹیشنز پر 77ہزار 389اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔جبکہ کوئیک رسپانس فورس کے 17ہزار 116اہلکاربھی الیکشن میں اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔اس کے علاوہ ہر حساس پولنگ

سٹیشن پر 7جبکہ نارمل سٹیشن پر5اہلکار تعنیات ہونگے۔ساتھ ہی انتہائی حساس سٹیشنز پر 10ہزار 351 کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔محکمہ پولیس نے الیکشن کی سیکورٹی کے لیے صوبائی حکومت سے 34کروڑ 90لاکھ روپے فنڈ طلب کر لیا۔ الیکشن کے دوران سیکورٹی فورسزکی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔ اس دفعہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں رجسٹر ڈ ووٹرز کی تعداد 1کروڑ53لاکھ 16ہزار ہے فاٹا میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 25لاکھ10ہزار ہے ۔دونوں کو ملا کر ووٹوں کی تعداد 1کروڑ 78لاکھ 26ہزار بنتی ہے۔ صوبے میں زیادہ ووٹرز کی تعداد پشاور میں 16لاکھ93ہزار 386ہیں۔ اور فاٹا میں سب سے زیادہ ووٹرباجوڑ ایجنسی میں 4لاکھ 92ہزار 732ہے۔خیبر پختونخوا کی نگران حکومت نے الیکشن کو فری اینڈ فیئر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پرمحکمہ پولیس اور بیوروکریسی میں اکھاڑپچھاڑ کی غرض سے 177انتظامی افسران کے تبادلوں کی منظوری دے دی ہے۔جس کے تحت صوبے بھر میں تعینات 20 سیکرٹریز 38اسسٹنٹ کمشنز، 22ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز،ڈپٹی سیکرٹریز ،5ضلعی پولیس سر براہان اور مختلف علاقوں میں تعینات 29ایس پیز اور ڈی ایس پیزشامل ہیں۔ اس سلسلہ میں جاری کیے جانے الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق صوبہ بھر میں 22ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز ،ڈپٹی سیکرٹریزاور ڈپٹی ڈائریکٹر زکے تبادلوں کی منظوری دے دی گئی۔صوبائی حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو قابل تعریف کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ ردوبدل کرنے سے سرکاری ملازمین کا اثر ورسوخ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے ۔لیکن فری اینڈ فئیر الیکشن کو یقینی بنانے کے لیے ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے ووٹ کی اہمیت ضروری ہے ۔ووٹ ایک مقدس امانت ہے ۔ ووٹ ہی کی وجہ سے قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ کروڑوں عوام کے مستقبل کا فیصلہ بھی ووٹ کے ذریعے ہو تا ہے ۔اس لیے ووٹ کی اہمیت کو پہچاننا بہت ضروری ہے ۔ یہ الیکشن کمیشن اور حکومت کا کام ہے کہ ملک بھر میں ووٹ کے شعور کو عوام میں بیدار کریں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ملک بھر میں حکومت اور الیکشن کمیشن کی مدد سے ایسے سیمنار منعقدہوتے ۔جس سے عوام میں ووٹ کی اہمیت کا شعور پیدا ہوتا اور ووٹ کی اہمیت کوبیان کیا جا تا۔ جب تک عوام کے اندر ووٹ کی اہمیت کا علم نہ ہو اورووٹ کا شعورپیدہ نہ ہو اور ووٹ کا درست استعمال نہ ہو اس وقت تک الیکشن کا اصل مقصد بے معنی اور بے مقصد ہو جا تا ہے ۔ اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں؂ ۔کہ یہ عوام کی آزادانہ رائے ہے ۔ الیکشن کمیشن نے جتنے بھی اعلامیہ بیان کیا ہے ۔وہ سب کے سب سکیورٹی کے حوالے سے ہے ۔ان تمام اعلامیہ میں ووٹر ز کے لیے کوئی سہولیات نہیں رکھی گئی ہے۔ الیکشن والے دن ووٹ استعمال کرنے کے لیے رہنمائی کا کوئی طریقہ واضح نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ الیکشن کے عملے کی الیکشن کے حولے سے کوئی تربیت نہیں دی گئی۔ اور نہ پولنگ سٹیشن عملے پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی طریقہ کار واضح کیا گیا ہے ۔جب الیکشن کا عملہ غیر جانبدار اور تربیت یافتہ نہیں ہو گا۔ الیکشن پر سوال تو اٹھتے ہونگے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولنگ سٹیشن عملے کی حفاظت کے لیے بھی کوئی واضح اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس کے بعد ووٹوں کے گنتی کے دوران بھی کوئی ایسا طریقہ کار

واضح نہیں کیا گیا۔جس سے شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے ۔پچھلے کئی برسوں سے ہم دھاندلی کا رونا روتے ہیں ۔ اور ناقص الیکشن کے نظام کی شکایت بھی ہر زبان پر ہوتی ہے ۔لیکن جب اصلاحات کی بات ہوتی ہے ۔تو ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 126دن دھرنا دیا۔مگر پھر وہی ناقص نظام کے تحت الیکشن لڑنے جا رہی ہے ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ بائیو میٹرک کے ذریعے الیکشن ہوتے تاکہ کسی کو بات کرنے کا موقع نہ ملتا۔لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اس ناقص نظام کی وجہ سے آج تک کوئی الیکشن بھی ایسا نہیں ہوا ۔جس پر اعتراضات نہ ہوئے ہوں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن 2018کے الیکشن کے انعقاد کوصاف اور شفاف بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔یہ تو الیکشن کے بعد ہی نظر آئے گا۔لیکن بظاہر ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔


ای پیپر