جرائم میں اضافہ، ذمہ دار کون۔۔۔؟
29 جون 2018 2018-06-29

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کے مصداق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے باوجود جرائم میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے، قتل و غارت گری، چوریاں، ڈکیتیاں عام، کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ جب کروڑوں کی لوٹ مار نہ ہوئی ہو، اگر پولیس تمام واقعات کا اندراج کرنا شروع کردے تو صفحات ختم ہوجائیں گے مگر جرائم کی فہرست ختم نہیں ہوگی، پولیس چند ایک واقعات کا اندراج کرکے بری الذمہ ہوجاتی ہے جبکہ اکثر لٹنے والوں کو ٹرخا دیا جاتا ہے، متعدد شریف شہری تھانوں کا رخ کرنے سے ’’کنی‘‘ کتراتے ہیں، پہلے پہل صوبے میں صرف

پنجاب پولیس جسے شاہی پولیس بھی کہا جاتا تھا ان کے پاس ایک آدھ بندوق اور ڈنڈے کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا، وردی بھی بس برائے نام ہی تھی، پھر ایلیٹ فورس بنی، پیرو فورس بنی، اب ڈولفن فورس بنادی گئی اس کے بعد شاید ’’ رہو ‘‘ فورس بن جائے، فورسز بنتی رہیں خزانے پر بوجھ بڑھتا رہا مگر کرائم میں کمی نہ آسکی، جدید اسلحہ، گاڑیوں اور سہولیات کی بھرمار سمیت تمام تر لوازمات بھی وارداتیں روکنے میں ناکام رہے اوپر سے آئے روز پولیس میں بھرتیاں سونے پہ سہاگہ ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ ڈبل تنخواہیں پھر بھی رونا رویا جاتا ہے کہ وسائل نہیں سہولتیں نہیں، یہ دے دیا جائے تو وہ کر دیں گے وہ دے دیا جائے تو یہ کر دیں گے۔

جگہ جگہ پولیس ناکے اور ناکوں کے نام پر شہریوں کی تذلیل معمول بن گئی ہے، رشوت مانگنا فرض اولین بنا لیا گیا ہے، جھوٹے مقدمات میں مخالفین اور سیاستدانوں کے ایماء پر شہریوں کو جیل بھگتنا پڑتی ہے، عدالتی نظام بھی اتنا ناقص ہے کہ بندہ بیس سال کیس بھگتتا ہے اس کے بعد عمر قید ہوتی ہے اور 20 سال بعد پتہ چلتا ہے کہ بندہ تو بے گناہ تھا، ایسے تفتیشی اور ایسے منصف کی گردنیں کاٹ دینی چاہئیں کہ جس نے ایک بے گناہ کی زندگی برباد کردی مگر یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، چور منصف اور منصف چور بن بیٹھا ہے، تھانے کچہریاں شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے رہ گئیں ہیں جہاں درخت بھی مٹھی گرم کئے بغیر بات کرتے ہیں نہ کام؟

پہلے کبھی ایک پولیس مقابلہ ہوتا تھا سال میں اب روز پولیس مقابلے ہورہے ہیں، ان میں مرتے بھی ڈاکو ہیں کبھی کسی پولیس والے کو ڈاکو کی گولی نہیں لگتی، ظلم کی انتہا ہے کہ پولیس پریس کانفرنس میں دعویٰ کرتی ہے کہ ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی گولی سے مارا گیا، دیکھیں گولی کتنی ’’سیانی‘‘ ہے کہ اپنے ہی ساتھی کی جان لے لیتی ہے پولیس والے بالکل محفوظ رہتے ہیں، یوں بھی کہہ لیں کہ خوف خدا نہیں ورنہ تو منہ زوروں کو سدھارنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں مگر مجال ہے کہ کسی پولیس والے نے کبھی اپنی غلطی تسلیم کی ہو، جرائم میں کمی کس طرح ہو اس کے ذمہ دار خود پولیس والے ہیں جن کی پشت پناہی سے جوئے، منشیات فروش کے اڈے اور قحبہ خانے چلتے ہیں اگر یہ جھوٹ ہے تو تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز قرآن پر حلف دیں کہ انہوں نے کبھی کسی مجرم کی پشت پناہی نہیں کی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا تھانے بکتے ہیں جو جتنا ریٹ لگائے اتنا ہی کماؤ تھانہ ملتا ہے جو نہ دے اس کی ڈیوٹی ٹیلی فون ایکسچینج یا کسی کونے کھدرے میں لگا دی جاتی ہے۔

پولیس کو یہ بھی شکایت ہے کہ انہیں مقابلوں میں مرنے پر شہید نہیں کہا جاتا، ویسے تو اس فیصلے کا اختیار اللہ کریم کے پاس ہے کوئی انسان کسی کو یہ تمغہ نہیں دے سکتا ،لیکن کیا لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے والے، راہ چلتے شہریوں کے منہ سونگھنے والے، نئے نویلے جوڑوں سے نکاح نامے پوچھنے والے، ناکوں پر جامہ تلاشی کے نام پر تذلیل کرنے والے، حرام کھا کر لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے والے شہید کہلانے یا شہادت کے حق دار ہیں؟ معمولی اہلکار سے لیکر اعلیٰ افسر تک کی کروڑوں کی جائیدادیں کہاں سے بن جاتی ہیں کبھی کسی نے پوچھا؟ کیا اب جعلی پولیس مقابلے نہیں ہوتے اگر کسی کو توفیق ہو تو ضرور اس کی تہہ تک پہنچے ورنہ جرائم میں اضافہ روکنا مشکل نہیں ناممکن بھی ہے کیونکہ اس ساری صورتحال کے ذمہ دار خود پولیس والے ہیں جو خود کو اشرف المخلوقات اور دوسروں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں؟؟؟


ای پیپر