تبدیلی کا ڈرامہ
29 جون 2018 2018-06-29



جو قوتیں ملک کی اسٹیک ہولڈر ہیں یہ ان کا رچایا ہوا سارا کھیل ہے کہ تبدیلی آنے والی ہے یہ سب محض باتیں ہیں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں آنے کے کوئی امکانات ہیں عوامی تحریک کے چیئرمین طاہر القادری صاحب نے اس ساری تبدیلی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ تبدیلی اس قوم کا مقدر نہیں ہے ۔ عالی جاہ تبدیلی کے ڈرامے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم اکثر بالی وڈ کی فلموں میں دیکھتے ہیں کہ سماج دشمن عناصر کالے دھن کو سفید کرنے والے انڈر ورلڈ کے ڈان کسی ایک پوائنٹ پر آپس کی سب رنجشیں بھلا کر اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں بالکل اسی طرح اب ایک پارٹی نے تبدیلی کے خواہاں سب پارٹیوں کے پہلوانوں کو اپنی جماعت میں شامل کر کے تبدیلی کے اکھاڑے میں اتار دیا ہے ان پہلوانوں کو اکھاڑے میں اتارنے والی جماعت ان پہلوانوں کے کندھوں پر اپنا پاؤں رکھ کر قبل از وقت حکومت بنانے کی منصوبہ بندی کرنی بھی شروع کر دی ہے ۔اس جماعت کے قبلہ وکعبہ کا تعین تھرڈ ایمپائر کرتا ہے مسئلہ اب یہ ہے کہ اقتدار کی کرسی کی خواہش میں بہت آگے نکل جانے والوں کو اب یہ کون سمجھائے کہ اکھاڑے میں اتارے جانے والے پہلوانوں سے تبدیلی کسی بھی طور ممکن نہیں ہے یہ تو ہر دور میں تبدیلی کا راستہ روکنے کیلئے سستے داموں
بکتے آئے ہیں۔ اس لیے ان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا ۔دھرم، عہد و پیمان، وفاداری حلف کا پاس یہ اپنی جیبوں میں لئے پھرتے ہیں یہ سبھی پہلوان کبھی پیپلز پارٹی، کبھی مسلم لیگ (ن)، اور کبھی مسلم لیگ (ق) کے اکھاڑے کی زینت ہوا کرتے تھے ۔اقتدار انکی مجبوری ہے تبدیلی سے ان کو کیا لینا دینا۔ کیونکہ اگر کبھی سچ میں تبدیلی آ گئی تو پھر سب سے پہلے یہی لوگ گرفت میں آئیں گے اورتبدیلی کا سب سے پہلا لقمہ بھی یہی لوگ بنیں گے اس لیے یہ کیونکراپنی موت کو دعوت دیں گے۔بہر حال فی الحال دور دور تک تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تبدیلی کیلئے اکھاڑے میں اتارے گئے ان پہلوانوں کو عہد بھولنے کی پرانی عادت ہے اقتدار میں آ کر یہ ملک و قوم کی محبت کو ایک دراز میں بند کر کے قفل کی چابی پھینک دیتے ہیں اور کبھی کبھی تو آئین توڑنے والوں کی محبت میں اس قدر گرویدہ ہو جاتے ہیں کہ اپنی ہی قیادت کے شانے چت کرنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور تک لگا دیتے ہیں۔رہی بات عوام کی وہ تو ایک طویل عرصہ سے ملکی سیاسی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کر چکے ہیں۔کنارہ کشی کریں بھی کیوں نا ہر طرف تو خوف کا عالم ہے کسی شہری کو اچانک اٹھا لیا جانا ایک عام سا عمل بن چکا ہے جسکی وجہ سے اب ہر کوئی کسی سیاسی ایشوز پر کھل کر بات کرنے کی بجائے زیر لب سرگوشی کرنے میں ہی اپنی عافیت خیال کرتا ہے کھل کر رائے کا اظہار کرنے کا مطلب اپنی موت کو آپ دعوت دینے کے مترادف لیا جانے لگا ہے ۔ہر چند کہ ابھی بھی کچھ لوگ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر سیاسی شعور اجاگر کرنے کی سعی کر رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اب صرف آٹے میں نمک کے برابر ہونے کی تعداد میں ہیں لیکن ان سب باتوں کے باوجود ابھی بھی میاں نواز شریف کی شکل میں امید کی آخری مدھم سی کرن دکھائی دے رہی ہے اگر یہ کرن بھی دم توڑ گئی تو پھر ۔۔۔؟ بلا شبہ میاں نواز شریف صاحب نے اب جو سکوت توڑنے کے لئے
قدم اٹھایا ہے بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا ۔دیر آید درست آید کے مصداق یہ بھی غنیمت ہے چلیں کسی نے تو سکوت توڑنے کیلئے پہلا قدم تو اٹھایا ہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ میاں صاحب ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑے رہیں یقینََا مشکلات کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا اگر میاں صاحب عزم اور بلند حوصلے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو پھر آنے والے وقت میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان اور پارلیمنٹ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گی لیکن اب یہ میاں صاحب عمل سے ہی ممکن ہے سیاسی سوچ کا نظریہ اپنے اندر بڑی طاقت کا حامل ہوتا ہے کوئی بھی انسان بذات خود کچھ نہیں ہوتا اسکے اندر کی سچائی اور اس کے نظریہ کی پختگی ہی آپ کو مضبوط بناتی ہے ۔ہر دور میں شعور اجاگر کرنے والوں کو پابندِ سلاسل کیا گیا جیسا کہ آجکل ایک ماحول بنایا جا رہا ہے یہ سلسلہ ازلوں سے ہنوز جاری ہے سیاسی فکری سوچ اور نظریہ کے حامی کب جیل جانے سے ڈرتے ہیں۔ اس لیے اب میاں صاحب کو اس سوچ کو اپنے اندر بالکل کوئی جگہ نہیں دینی چاہیے کہ ان کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ہو سکتا ہے میاں صاحب اس جدو جہد اور قربانی کی بدولت بہتری کی کوئی صورت نکل آئے اور نیا پاکستان بنانے والی قوتیں کچھ عرصہ کیلے اپنا منصوبہ ترک کر دیں۔


ای پیپر