میں نے ہمیشہ سر جھکا کر ” صحافت “ کی ہے
29 جون 2018 2018-06-29

مجھے نہیں پتہ کہ خارِ زار صحافت میں میں کیسے وارد ہوا، یا یوں سمجھئے کہ مجھے نہیں یاد کہ مجھے دھکا کِس نے دیا تھا، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔ کہ اُن دنوں میں اخبار میں اور کسی کا کالم پڑھ کر میں اتنا شتال و بے قرار ہوا کہ میرے چہرے کی کیفیات بے قراری کو میرے ساتھی نے بھانپ کر مجھے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ کر کہا کہ کیا بات ہے، تو میں نے اُنہیں تذبدب کے عالم بے کیف و بے قرار میں نہ صرف مضمون نگار کی بے شمار غلطیوں کی نشان دہی کر دی، بلکہ ایک ہی مضمون میں تفاوت و تضاد کی بھی نشان دہی کر دی، میرے خیال کے مطابق اگر لکھاری کِسی آمدِ خیال سے خود ہی حتمی رائے نہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے قارئین کو کِس طرح مطمئن کر سکتے ہیں، میں نے اپنے وقتی دوست جو اپنے نام کے ساتھ بلوچ بھی لکھتے ہیں، اور جن کا اخبارات کے دفتروں میں خاصہ آنا جانا ہے، میں نے اُنہیں بتایا کہ اِس نفسِ مضمون سے زیادہ بہتر انصاف تو میں کر سکتا ہوں،

میرے یقین اور اعتماد کو دیکھ کر وہ مجھے نوائے وقت میں لے گئے، جہاں سید ارشاد احمد عارف سے ملاقات کرائی، مختصر یہ کہ اُنہوں نے کہا کہ آپ کالم لکھ کر لے آئیں، اگر ہماری دانست اور معیارِ نظامانہ پر پورا اترے گا، تو چھپ جایا کرے گا۔۔۔

اس طرح میں ، جناب مجید نظامی صاحب کی صحافت، رفاقت میں صحافت جس کا لفظی معنی اخبار نویسی ہے، باقاعدہ شامل ہوگیا، اور یوں یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ ” صحبت صالح ترا صالح کند۔ صحبت صالح ترا طالح کند

اچھی صحبت اور دوستی سے انسان نیک و صالح ہوتا ہے، علی ہذالقیاس، میرے کئی برس اِس روزنامہ میں عطالرحمن صاحب ، سعید آسی صاحب، سعد اللہ شاہ صاحب، امیر نواز نیازی صاحب، اسد اللہ غالب صاحب، شوکت علی شاہ صاحب، توفیق بٹ صاحب بعد میں مبین رشید صاحب ، طلعت قریشی صاحب، فضل حسین اعوان صاحب، شریف کیانی صاحب خالد کشمیری، کچھ نام ذہن میں نہیں آرہے، مگر اَجمل نیازی صاحب سے دُوستی اتنی معنیٰ خیز ہے کہ جسے آپ گورکھ دھندہ، بلکہ خود ساختہ اسفتسار و اعتبار کا پلندہ ہے کہ کبھی تو یوں لگتا ہے کہ میرا دنیا میں اُن سے بہتر دوست اور غم گسار اور کوئی نہیں، اور کبھی اچانک ، اُن کی تبدیلی مزاج سے دکھائی دیتا ہے، کہ میرا اِس وقت ایک ہی ”دشمن بے پناہ“ ہے، یقین نہ آئے تو میری بات کی تصدیق منصور الرحمن آفریدی صاحب سے کرالیں جن کی محفل درس میں وہ بلا ناغہ شریک ہوتے، اور ہر کالم میں اُن کی روحانیت اور مردِ صالح مُرشد بے عیب کے طور پر صحیفہ نگار، صحیفہ نگاری کرتے۔

بہر کیف جہاں تک میں سمجھتا ہُوں، ایک دفعہ مُوصوف نے رسول پاک کی شان میں کچھ اِس طرح کی لفاظی کی کہ جو آپ کے شایان شان نہ تھی، میں نے بطور احتجاج جناب نظامی صاحب کو خط لکھ دیا، اور انہوں نے عین اپنی عادت کے مطابق وہ خط نیازی صاحب کو بھیج دیا، مگر میرا تو پیمانہ قرابت ہی آپ کی ذات پاک ہے، میں جناب نظامی صاحب کا یہ احسان عمر بھر نہیں بُھلا سکتا، کہ انہوں نے ختم نبوت پر سات مہینے تک مجھے اجازت دے کر اپنے اور میرے لیے زادِ راہ کا انتظام پیدا کیا جہاں تک اُن کے روزنامے میں نہ لکھنے کا تعلق ہے ، تو انہوں نے مجھے دوبارہ واپس آنے کا کہا، جس کے گوارہ جسٹس (ر) آفتاب فرخ صاحب ہیں، میں دوبارہ واپس آگیا مگر معاملات زرنے، زراور زمین کی ضرب المثل پُوری کر دی، میں نے پورے کالم میں اُن وجوہات ناگزیر کا ذکر کیا، اور کمال کی بات تو یہ ہے، کہ اُنہوں نے وہ کالم اپنے دستخط کے ساتھ چھاپ دیا، جس میں میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، عطا الحق قاسمی اِسرار بخاری، محمود شام عرفان صدیقی وغیرہ کے مادرِ علمی کو چھوڑنے کی تفصیل بیان کی، ایک دفعہ عطا صاحب نے مجھے فون کر کے کہا کہ یار میرے فلاں دن کا کالم ضرور پڑھنا، اور میر شکیل صاحب کے ظرف کی معراج دیکھیں، جواب میں میں نے جناب مجید نظامی کو وہ کالم بھیجا اور کہا کہ اب مجید نظامی صاحب کے ظرف کی معراج دیکھیں، کالم پڑھ کر عطاءالحق قاسمی صاحب حیرت زدہ رہ گئے کیونکہ میں نے بعنوان ” نقیبوں کے نقیب “ 7 دسمبر 2010 ءکو نوائے وقت میں لکھا تھا کہ مگر میں عطاءکا نوائے وقت میں لکھا گیا کالم پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ ہمیشہ عطاءکی بجائے میرے کام آیا، نظامی صاحب کے بارے میں لکھا کہ مگران پہ خود پسندی کی تہمت لگانے والے نیم علمی لوگ، تبرا، طعن تشنید کی بجائے تدارک کی تاویل و تبرید کرتے اِن حقائق سے کیوں مقر کرتے ہیں، کہ ان کے ہم عصر خوشامد پہ لعن طعن کے باوجود خود مثبت تنقید کو برداشت کرنیکی صلاحیت ، اہلیت ، اور توفیق سے عاری ہیں، انسان انسان ہوتا ہے، اس میں کمی اور کجی ہوسکتی ہے، مگر نظامی صاحب، اپنا آشیانہ و مسکن چھوڑنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ انسان اس پہ تب آمادہ ہوتا ہے ، جب اُس کا آشیانہ و گھروندہ رزق سے خالی ہو۔۔۔ نظامی صاحب نے یہ کالم چھاپ دیا۔ بہر حال انسان خطا کا پتلا ہے، اور غلطیاں اِنسانوں ہی سے سر زد ہوتی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ میرے بارے میں یہ خیالات میرے مربی و محسن کے ہوسکتے ہیں۔۔۔ مگر خدا گواہ ہے کہ تعطل تعلقات کی وجہ میری ناسازی طبیعت تھی ویسے بھی میں طبعیتاً کچھ حضرت جنید بغدادی ؒ کے فرمان پر عمل پیرا رہنے کو ترجیح دیتا ہوں کہ جو شخص دین کی سلامتی میں تن کی آسودگی ، دل کی بے فکری اور تمام دوسرے عوارضات سے بچنا چاہتا ہے ، دوسرے عوارضات سے مُراد قائین آپ سمجھ گئے ہونگے۔۔۔

اسے کہہ دو کہ لوگوں سے علیحدہ رہے، اور تنہائی کو پسند کرے، کیونکہ سلطنت تنہائی میں خدم و حشم ، لاﺅ لشکر اور حواریوں کی ضرورت نہیں رہتی، اور انسان نورتن بننے سے بچ جاتا ہے،

اب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اگر مجھے ”نئی بات“ میں جو عزت دی ہے، اِس میں نہ تو مجھے چودھری عبدالرحمن صاحب سے ملاتوں کو نصب العین بنانا پڑتا ہے میری اُن سے چند ملاقاتیں بھی روزنامہ نئی بات میں آنے سے پہلے کی ہیں۔ جس کا اعتراف سعد اللہ شاہ اور وصی شاہ نے نئی بات چھوڑتے وقت، اور کالم لکھ کر ، کر دیا تھا۔ مجھے خوشی اِس بات کی بھی ہے، عطاالرحمن صاحب بھی ایسے تعلقات ہاریانہ، سے بالا تر ہیں، اَب اگر میں کِسی سیاسی مجبوری کے تحت، نوائے وقت کے خلاف یا نئی بات کے خلاف لکھنا شروع کر دوں ، تو میرا یہ عمل قابلِ توصیف نہیں، اگر کچھ کہنا یا سننا ہے، تو اِس کا اظہار برملا کرنا چاہئے۔

اِس حوالے سے میں قمر الزمان کائرہ صاحب کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گا، کہ کوئی بھی سیاسی جماعت کارکنوں کی دَرس گاہ ہوتی ہے، اپنی جماعت سے اُن کی پالیسیوں سے اختلاف ہوسکتا ہے، جسے آپ دلیل اور سبیل سے حل کر سکتے ہیں، مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی مادر علمی کو ہی چھوڑ دیا جائے،

مجھے جناب کائرہ صاحب کے مزاج عاشقانہ کا علم ہے، اور میرے قارئین کو بھی کہ وہ ان کے اِس مزاج کا تعلق موسم عاشقانہ و ” بے ایمان“ سے کوئی نہیں، مگر میں اُن کے اُصول وفاداری، بلکہ وضع داری کا بڑا معترف ہوں، یہ تو خدا بھلا کرے، الیکشن کمیشن والوں کا جنہوں نے ” شادی “ کا خانہ شامل کر کے کئی سیاسی گھروں کا خانہ خراب کر دیا ہے، نہ تو میں خواجہ سعد رفیق کی بات کر رہا ہوں نہ اسحاق ڈار کی اور نہ ہی کِسی دوسری شادی کرنیوالے کی، کائرہ صاحب نے بھی کوئی ثبوت نہیں چھوڑا کیونکہ میں نے تو ہمیشہ سر جھکا کے حق اور سچ بات ضرور کی ہے، مگر اپنے محسنوں اور احباب دیرینہ کی ستائش بھی کی ہے، اور عزت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، سچ بات لکھتے ہوئے ویسے بھی سر جھکانا پڑتاہے، اور گر سر اٹھا کر سیاست کرنے کی بات کی جائے، تو کچھ نا مناسب اور ناقابل یقین بات لگتی ہے، اور اس پر یہ بھی کہہ دیا جائے، کہ اگر میں نے زبان کھول دی، اور یوں کھول دیے تو ”سربراہان جماعت“ قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

قارئین کرم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے، تیس تیس سالوں سے اپنی جماعت کی وکالت کرنے والوں، اور حکمرانوں کی تعریفوں کے پل باندھنے والے کس منہ سے اِس قسم کی بات کرتے ہیں، اس کا مطلب تو یہ ہوا ، کہ حکمرانوں کے جرائم میں آپ بھی برابر کے شریک رہتے ہیں، اعلیٰ اخلاق اور ظرف تو یہ ہے کہ خاموشی ہی بہترین جواب بنتا ہے، مگر اگر ساری عمر نورتنوں کی اصطلاح استعمال کرنے والے بھی اگر نورتن رکھ لیں، تو پھر وہ خوشامد اور چاپلوسی کے خلاف کیسے بات کر سکتے ہیں؟ اپنی پارٹی کے جس بھی اُمید وار کو ٹکٹ نہیں مِلے، وہ ساری عمر اپنی جماعت میں بتانے گزارنے ، بلکہ گنوانے کے بعد اُس جماعت میں سو، سو عیب گنوانا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اِس طرح سے مُلک میں ” انارکی“ پھیلانے کا باعث بن جاتے ہیں۔ کیا آزاد گروپ بنانے والے ’‘’ مادر پدر آزاد “ گروپ بنانا چاہتے ہیں؟ اپنے ملک اور قوم سے مخلص کِسی بھی شخص کو حُب الوطنی کو بنیاد عمل بنانا چاہئے مگر سیاسی منظر کا دھندلا پن تو یہ خبر دے رہا ہے، کہ آئندہ آنے والی حکومت کو بخیلی، چھوڑنی پڑے گی، کشمیر کی ٹکٹوں پہ کروڑوں روپے کمانے والوں کو خریدنے کے لئے اربوں روپے خرچ کرنے پڑیں گے، کیونکہ گھوڑوں کو گدھا ، اور گدھوں کو گھوڑوں کی شکل دینے کے لئے ” سحر“ جادو ٹونہ اور مسمریزم سیکھنا پڑے گا، اور یہ خبریں بنگالی جادو گر سے زیادہ یہودی جانتے ہیں، کہ جو انسانوں کی ” جون“ ہی بدل دیتے ہیں۔۔۔۔ مگر مفکر اسلام تو فرماتے ہیں کہ

اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی

کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟


ای پیپر